دنیاکوجنگ نہیں امن چاہئے

10:34 AM, 12 Jul, 2026

دعا¶ں،التجا¶ں اورہزارکوششوں کے باوجودجب امن کی جگہ جنگ کااعلان ہوتاہے توتکلیف توپھرہوتی ہے۔امریکہ ایران جنگ رکوانے کے لئے ہم نے کیاکچھ نہیں کیا۔؟اپنے سے ہزاروں میل دورعرب وفارس کوجنگ کاایندھن بنانے سے بچانے کےلئے ہم نے تووہ وہ قرض بھی چکائے جوہم پرفرض بھی نہیں تھے۔آبنائے ہرمزپرجھومنے اورجھولنے والے مسٹرٹرمپ اورپاسداران انقلاب والے اگرمشرق وسطیٰ کوسرخ جامہ پہنانے کی قسم کھاچکے ہیں توہمارے خیال میں پھران کی منتیں کرنافضول اوربیکار ہے۔ہمارے بڑے اکثرکہاکرتے تھے کہ دولڑنے والے اگرمنت سماجت اور خداکے واسطوں سے بھی لڑنے سے باز نہ آئے تو پھر انہیں کھلا چھوڑ دینا چاہئے تاکہ دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہو جائے۔ بچے اکثرلڑتے رہتے ہیں،ہمیں یادہے گا¶ں میں جب بھی بچے لڑتے توہم انہیں چھڑانے کی کوشش کرتے جب کوشش، منت اور سماجت کاان پرکوئی اثرنہ ہوتاتوہم مجبورہوکرانہیں چھوڑدیتے۔ پھر چند لمحوں میں جب ایک دوسرے کے ہاتھوں دونوں کی خوب ٹھکائی ہوتی تو جھگڑا خودبخود ختم ہوجاتا۔نہ امریکہ کوئی چھوٹاہے اورنہ ہی ایران کوئی بچہ لیکن دونوں نے کام بچوں والے پکڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی ہزار کوششوں اور التجا¶ں کے باوجود دونوں فریق لڑائی سے بازنہیں آ رہے۔ وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیرجیسے امن پسند لوگ محنت،کوشش اورجدوجہدکرکے ان کے درمیان جنگ بندی اورراضی نامہ کرادیتے ہیں۔ اگلے دن یہ بچوں کی طرح پھر منہ میں دھمکیاں اورہاتھوں میں پتھراٹھائے ایک دوسرے کومارنے کےلئے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔لوگ کب تک ان کے درمیان مصالحت،ثالثی اورراضی نامے کرواتے رہیں گے۔؟ دنیاکب تک امریکہ ایران جنگ رکوانے کےلئے آگے آئے گی؟۔ جنگ سے جومسائل جنم لیتے ہیں وہ پھرصدیوں بعدبھی حل نہیں ہوتے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگ پھر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ماناکہ گولیاں چند سپاہیوں اورشہریوں کو لگتی ہیں مگر اس کے زخم پھر پوری انسانیت کے جسم پر ثبت ہوتے ہیں۔جب بھی دنیا کی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں توسب سے پہلے امن تباہ ہوتاہے،جب کسی جگہ امن نہیں رہتاتووہاں پھر معیشت اورانسانوں کاکوئی حال نہیں ہوتا۔ ٹرمپ اور پاسداران انقلاب کویہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ جنگ صرف بموں،میزائلوں اور بارود کا نام نہیں یہ تباہی، بربادی، بھوک، بےروزگاری، مہنگائی اور بے یقینی کا دوسرا نام بھی ہے۔ کسی بھی خطے میں جب کشیدگی بڑھتی ہے توسب سے پہلے سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ جنگ وجدل سے تجارت کے دروازے بند، سمندری راستے غیر محفوظ اور عالمی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد جو بوجھ پیدا ہوتا ہے وہ بالاخرعام انسان کے ناتواں کندھوں پرڈالاجاتا ہے۔ آج دنیاپہلے سے ہی ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اسلحے پر کھربوں ڈالرتو خرچ کئے جاتے ہیں لیکن بھوک،بیماری، تعلیم اور صاف پانی جیسے بنیادی مسائل اب بھی کروڑوں انسانوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔اگر یہی وسائل انسانی ترقی پر صرف کئے جاتے تو شائد دنیا کی شکل اس سے مختلف ہوتی۔ افسوس کہ طاقت کی دوڑ اکثر انسانیت کی ضرورتوں پر غالب آ جاتی ہے۔یہی معاملہ اورمسئلہ امریکہ ایران تنازع میں بھی ہے۔دنیارل رہی ہے لیکن عالمی طاقتیںاپنی برتری ثابت اورچوہدراہٹ قائم کرنے کے لئے انسانیت پر دوڑنے میں مگن ہیں ۔انہیں امن اور انسانیت کی کوئی فکرہی نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں تیزی نے اب ایک بار پھر دنیا کو خوف،بے یقینی اور معاشی ہلچل سے دوچار کر دیا ہے۔ طاقت کومقدم اورانسانیت کو پیچھے چھوڑنے کے باعث ہی اس کشیدگی کے بارے میں یہ سوال بارباراٹھ رہا ہے کہ کیا یہ محض طاقت کے اظہار کی سیاست ہے، محدود دفاعی کارروائیوں اور میزائلوں کا سلسلہ یا ایک ایسی کشمکش جس کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا رہے گا۔؟کیونکہ امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان جب بھی جنگ اوربدامنی کے بادل منڈلانے لگتے ہیں تودنیاکے اندر سب سے پہلے تیل کی قیمتیں بے قابو ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔ تیل جب مہنگا ہوتا ہے تواس سے پھرسونہیں بلکہ ہزارمسائل اورنکل آتے ہیں کیونکہ تیل مہنگاہونے کی وجہ سے ہی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے،صنعت متاثر ہوتی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور پھر مہنگائی کی ایک نئی لہر غریب ممالک کے دروازے پر دستک دینے پہنچ جاتی ہے۔ طاقت رکھنے والوں کی زبان پرجنگ کے علاوہ کوئی بات نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ دنیا والوں کوجنگ نہیں امن چاہئے۔کیونکہ انسان روٹی پرجیتتاہے اورروٹی کانوالہ تب ہی ملتا ہے جب امن ہو۔دنیا کے عوام کی خواہش نہ امریکہ کی فتح ہے اورنہ ایران کی شکست۔ ایک عام انسان صرف امن چاہتا ہے۔بہترروزگار، بچوں کی اچھی تعلیم اور مہنگائی سے نجات چاہتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ عالمی طاقتوں کی سیاسی شطرنج میں کون سا مہرہ آگے بڑھتاہے اورکونساپیچھے رہ جاتاہے۔جس طرح بھوکے کے حساب کتاب میں دوجمع دوچارروٹیاں ہوتی ہیں اسی طرح آج کے انسانوںکی سوچ، فکر اورحساب بھی صرف یہ ہے کہ دنیاکے اندرامن قائم ہوتاکہ ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کے معصوم اورپھول جیسے بچوں کا مستقبل محفوظ رہے۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی اصل ذمہ داری یہی ہونی چاہیے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرایا جائے نہ کہ دنیا کو بار بار جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا جائے۔عالمی رہنما جنگی بیانات کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیں، اسلحے کے انبار لگانے کے بجائے اعتماد کی فضا قائم کریں اور سیاسی مفادات کے بجائے انسانی جانوں کی قدر کو مقدم رکھیں کیونکہ تاریخ یہ سبق بار بار دہرارہی ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں مگر ان کے زخم پھر نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

مزیدخبریں