ایران امریکا جنگ کہیں پھیل نہ جائے ؟

10:32 AM, 12 Jul, 2026


ایک بار پھر امریکا نے ایران پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے حالانکہ ان کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا تھا اور امید کی جارہی تھی کہ اب فریقین آپس میں کبھی نہ لڑنے کا اعلان کریں گے لہٰذا تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے لگی مہنگائی کم ہونے لگی۔ ہمارے ہاں تو جنگ بندی معاہدہ کو ایک نئے دور کا آغاز سمجھا گیا کیونکہ ایران سے تیل گیس اور بجلی کا سستے داموں حصول ممکن ہو گیا اور امن کی فاختہ نے فضاو¿ں میں اڑنے کے لئے اپنے پر پھیلا لئے مگر سب امیدیں سب خواب دھندلانے لگے ہیں کہ امریکا کے صدر نے جنگ بندی معاہدہ کو پرزے پرزے کر کے ہوا میں اڑا دیا ہے اور ایران کے اوپر آتش و آہن کی بارش شروع کر دی ہے۔اس وقت ایران کے وہ مراکز جو محفوظ سمجھے جاتے تھے تباہ ہو چکے ہیں ۔ 
اصل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے وہ اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے ایران کو زیر کرنا چاہتا ہے تاکہ دنیا اسے سپر پاور ہی سمجھے اور وہ ہر کسی کو ڈراتا دھمکاتا رہے ان کے ذرائع پیداوار لوٹتا رہے۔ مگر یہ ناممکنات میں سے ہے کیونکہ اسے پہلے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ ایران نے سخت ترین جوابی حملے کرکے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہار نہیں مانے گا اورامریکا کے لئے بدترین حالات پیدا کردے گا اس کے لے پالک کو بھی ناکوں چنے چبوائے گا لہٰذا اس نے اسرائیل پر بھی میزائلوں کے ساتھ چڑھائی کر دی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اب اسرائیل کے بچنے کی کوئی امید نہیں کیونکہ وہ امریکا سے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران نے اس کا جوہری مرکز اڑا کر رکھ دیا ہے جس میں سے تابکاری کا اخراج ہو سکتا ہے اور اگر ایران نے اس کے صاف پانی کے پلانٹوں کو تباہ کر دیا تو زندگی ختم ہو سکتی ہے اس سے پہلے بھی بہت سے لوگ ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں مگر اب چونکہ امریکا نے اس کی انگیخت پر جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں بکھیری ہیں لہٰذا اب دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا کہ مارو یا مرجاو¿ لہٰذا صورت حال ہر لمحہ خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اوپر جا نا شروع ہو چکی ہیں۔ ہمارے ہاں تو جس طرح آندھی آنے پر بجلی کی ترسیل معطل ہو جاتی ہے اس طرح ابھی جنگ شروع ہوتی ہے یا اس کا امکان ہوتا ہے تو تیل مہنگا کر دیا جا تا ہے لہٰذا اب جو امید کی جا رہی تھی کہ تیل سستا ہو جائے گا دوبارہ پھر مہنگا ہو گیا ہے ظاہر ہے اس کے اثرات معیشت پر منفی ہی مرتب ہوں گے۔ ہمارے اوپر ہی نہیں پوری دنیا کی معیشتیں بری طرح سے متاثر ہوں گی اور پھر عین ممکن ہے چین روس بھی اس جنگ میں کود پڑیں کیونکہ ان کو براہ راست نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ خود امریکا اور اسرائیل کے عوام کو بھی مختلف النوع مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ پڑ رہا ہے لہٰذا وہ جنگ کے خلاف ہیں اور ٹرمپ کو ب±را بھلا کہہ رہے ہیں پھر جب وہاں ان کے فوجیوں کی تابوت بند لاشیں وہاں جائیں گی تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت کا اظہار بھر پور طور سے کریں گے۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی ہو رہا ہے۔لگتا ہے کہ اب واقعتاً اسرائیل مٹنے والا ہے کیونکہ اس نے امن کو تہہ و بالا کیا ہے امریکا کی طرح وہ بھی اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے مگر اب چڑیاں کھیت چگ چکی ہیں اس کا رعب و دبدبہ ختم ہو چکا ہے کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اسرائیل کے اندر کوئی چنگاری بھی بھڑک سکتی ہے مگر اب وہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں جنہوں نے اس کی بدمعاشی کا تیا پانچہ کر دیا ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ اب امریکا کو من مانی کرنا مہنگا پڑ رہا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ ایران کی ملکیت آبنائے ہرمز کو اپنے زیر تسلط کرکے تیل کی آمد و رفت پر قبضہ جمانا چاہتا ہے علاوہ ازیں اس کے افزودہ یورینیم کو بھی اپنی ملکیت میں لینے کا خواب دیکھ رہا ہے مگر اسرائیل سے یہ نہیں کہتا کہ وہ گریٹر اسرائیل کی خواہش کو ترک کر دے فلسطینیوں پر ڈھایا جانے والا ظلم روک دے۔ بہرحال اس صورت حال کے پیش نظر کہنا پڑتا ہے کہ امریکا نے ایران کو معمولی جان کر غلطی کی ہے اور اب اس کو یہ بات اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے کہ وہ اگر ایران کو فتح نہیں کرتا تو دنیا اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی اس کا حکم نہیں چلے گا خلیجی ممالک اس سے اپنا رخ موڑ لیں گے۔ انہیں کیا یہ علم نہیں کہ چند ملکوں کے سوا باقی سب خلیجی ملکوں نے ایرانی ٹیکنالوجی اور اس کی برتری کو مان لیا ہے اور یورپی ممالک بھی سمجھ چکے ہیں کہ اب ان تلوں میں تیل نہیں لہٰذا وہ بھی بدل گئے ہیں اگر چہ امریکا نے یوکرین کے ذریعے روس کی ہیبت کو ختم کرنے کوشش کی ہے تاکہ یورپین اپنی سوچ نہ بدلیں مگر وہ بیوقوف نہیں کہ ڈوبتے سورج کو ابھرتا ہوا سورج سمجھ لیں روس یوکرین سے شکست کھا جائے گا یہ ممکن ہی نہیں لہٰذا جو ہونا تھا وہ ہو چکا کہ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ چین نے سپر طاقت ہونے کا اعلان ہی کرنا ہے بس‘ لہٰذا امریکا اپنی معیشت پر توجہ دے جو انتہائی کمزور ہوچکی ہے اس کے عوام اپنی قیادت سے مایوس ہو گئے ہیں انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ ان کو بہتر مستقبل دینے کے قابل نہیں۔
 قصہ مختصر یہ کہ امریکا ہر ملک کے ساتھ پنگا لینے کا عادی ہے کیونکہ اس کے پاس جوہری بم ہیں انتہائی جدید اسلحہ ہے اور پھر اس کی سوچ سرمایہ دارانہ ہے جو انسانوں کو غلام بنانے میں لذت محسوس کرتی ہے اورمنافعوں کو ترجیح دیتی ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ امریکا جو اس نظام کا محافظ ہے اس سے متصادم کسی نظریہ کو پنپنے نہیں دیتا اور اگر کوئی ملک اس کے تحت اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے مگر اب وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ ایران سرخرو ہو گا چین اسے گرنے نہیں دے گا کہ اگر وہ گرتا ہے تو پوری دنیا ہی گرتی ہے امریکا کو اس کا ادراک نہیں؟۔

مزیدخبریں