گرمی اور لوڈشیڈنگ میں ٹوٹتے اعصاب

10:31 AM, 12 Jul, 2026


پاکستان میں گرمی اب محض ایک موسم نہیں رہی بلکہ ایک مستقل امتحان بن چکی ہے کیونکہ حکومتی پالیسیوں نے موسم کو ہی امتحان بنا دیا ہے اور یہ امتحان صرف جسم کی برداشت کا نہیں بلکہ ذہنی سکون، گھریلو تعلقات، معاشی حالات اور اجتماعی رویوں کا بھی ہے۔ سورج کی تیز تپش، حبس زدہ فضا، بجلی کی غیر اعلانیہ بندش، پانی کی قلت اور روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں غصہ، بے چینی اور تھکن معمول بنتے جا رہے ہیں۔گرمی کی شدت جب اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو سب سے پہلے انسان کا سکون متاثر ہوتا ہے۔ رات بھر بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث نیند پوری نہیں ہو پاتی۔ صبح دفتر جانے والا شخص پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے، طالب علم کتاب کھول کر بیٹھتا ہے تو پسینہ توجہ کو بہا لے جاتا ہے، گھریلو خواتین سارا دن گرمی اور باورچی خانے کی تپش میں گزارتی ہیں جبکہ بزرگ اور بیمار افراد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوں ایک موسم پورے معاشرے کے اعصاب پر بوجھ بن جاتا ہے۔لوڈشیڈنگ اس اذیت میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے۔ پنکھے رک جائیں، پانی کی موٹر بند ہو جائے، موبائل فون چارج نہ ہوں، انٹرنیٹ ختم ہو جائے یا فریج میں رکھا کھانا خراب ہونے لگے، یہ سب صرف وقتی تکلیف نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران بن جاتے ہیں۔ جن گھروں میں بچے، مریض یا معمر افراد موجود ہوں، وہاں بجلی کی بندش ایک عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔بدقسمتی سے اس مشکل کا اثر صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کے مزاج پر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔ سفر کے دوران ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگوں کے درمیان تلخ کلامی، دفاتر میں بدتمیزی، گھروں میں چڑچڑا پن اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کی ایک وجہ مسلسل ذہنی دباو¿ بھی ہے۔ جب انسان کئی دن تک سکون کی نیند نہ سو سکے، شدید گرمی برداشت کرے اور بے تحاشا بھاری یوٹیلیٹی بلز دے کر بھی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے تو اس کے رویے میں تلخی آ جانا غیر معمولی بات نہیں۔
ہم اکثر اخلاقی زوال کا ذکر کرتے ہیں لیکن شاید یہ کم سوچتے ہیں کہ مسلسل جسمانی اور ذہنی دباو¿ بھی انسان کے اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یقیناً ہر بدتمیزی کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے اسباب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں روزگار کی فکر، مہنگائی کا دباو¿، گرمی کی شدت اور بجلی کی بندش اور پھر اس کے باوجود بھاری بل ایک ساتھ موجود ہوں، وہاں اعصاب کا ٹوٹنا حیران کن نہیں۔دیہی علاقوں میں یہ صورتحال اور بھی سنگین ہو جاتی ہے۔ کسان سخت دھوپ میں کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کی کمی فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی زرعی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ شدید گرمی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے، اور وہ ہے ذہنی صحت۔ مسلسل بے خوابی، جسمانی تھکن، پسینے سے ہونے والی بے چینی اور بجلی کی بار بار بندش انسان کو نفسیاتی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سخت گرمی کے دنوں میں چڑچڑا پن، اضطراب، ذہنی دباو¿ اور غصے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اختلافات بھی بعض اوقات بڑے جھگڑوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ دراصل گرمی صرف جسم کو نہیں جھلساتی بلکہ انسان کے اعصاب پر بھی مسلسل ضرب لگاتی رہتی ہے۔یہ صورتحال صرف گھروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ قومی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بجلی کی طویل بندش سے چھوٹے کاروبار متاثر ہوتے ہیں، کارخانوں کی پیداوار کم ہوتی ہے، دکانوں پر گاہکوں کی آمد گھٹ جاتی ہے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی آمدنی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جب ایک ہی وقت میں گرمی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی اکٹھی حملہ آور ہوں تو سب سے پہلے عام آدمی کی قوتِ برداشت جواب دیتی ہے۔ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی فکر میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی اس سے چھننے لگتی ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور غریب طبقہ ہوتا ہے۔ صاحبِ حیثیت افراد جنریٹر، سولر سسٹم یا طاقتور انورٹر خرید لیتے ہیں مگر عام آدمی کے پاس پنکھا چلانے کا بھی کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ وہ گرمی بھی برداشت کرتا ہے، بجلی کے بھاری بل بھی ادا کرتا ہے اور لوڈشیڈنگ بھی سہتا ہے۔ یہ دوہرا نہیں بلکہ کئی گنا بوجھ ہے۔ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے برسوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم نے آج سے منصوبہ بندی نہ کی تو کل کے مسائل کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔ درخت لگانا، شہری منصوبہ بندی بہتر بنانا، پانی کا دانشمندانہ استعمال، متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا اب صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ قومی ضرورت ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی رویوں پر بھی غور کرنا ہو گا۔ گرمی کی شدت ہر شخص کو پریشان کرتی ہے لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب صبر، برداشت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی دفتر میں ملازم تھکا ہوا دکھائی دے، کسی ٹریفک پولیس اہلکار کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو یا کوئی مزدور دوپہر کی دھوپ میں روزی کما رہا ہو تو ہمیں کم از کم اس کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے۔ بعض اوقات ایک اچھا جملہ بھی شدید گرمی میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔حکومتوں کی ذمہ داری اپنی جگہ مگر بطور معاشرہ ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں۔ 

مزیدخبریں