اسلام آباد: دنیا بھر میں پاکستان سمیت عالمی یومِ آبادی آج منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق مسائل، عالمی ترقی پر اس کے اثرات اور مستقبل کے چیلنجز کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔
اس سال عالمی یومِ آبادی 2026 کا مرکزی خیال "نوجوانوں کی امیدوں اور خوابوں کی تکمیل، آج اور آنے والے کل کے لیے" رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت نوجوانوں کو اپنی صحت، تعلیم اور خاندان سے متعلق فیصلے خود کرنے کے لیے بااختیار بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ وہ بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں اور آبادی کے پائیدار انتظام میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ہر سال 11 جولائی کو منایا جانے والا یہ دن دنیا کو آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے اہم مسائل کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ان مسائل میں خواتین کی صحت، زچگی کی سہولیات، غربت کا خاتمہ، انسانی حقوق کا تحفظ، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی جیسے معاملات شامل ہیں۔
عالمی یومِ آبادی منانے کا آغاز 1987 میں اس وقت ہوا جب دنیا کی آبادی نے پانچ ارب کی حد عبور کی۔ اس دن کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کے حقوق، ماں اور بچے کی صحت، غربت اور انسانی ترقی جیسے موضوعات پر آگاہی کو فروغ دینا تھا۔
اقوامِ عالم کی آبادی اب آٹھ ارب سے زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے اور 2037 تک عالمی آبادی نو ارب تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبادی کے بدلتے رجحانات اور مختلف آبادیاتی عوامل کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ حکومتیں عوامی ضروریات کے مطابق مؤثر پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔
عالمی یومِ آبادی نہ صرف موجودہ مسائل کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ بہتر منصوبہ بندی، پائیدار ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے عملی اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے۔