فرض کریں آپ نامساعد حالات کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے! نوکری چلی گئی یا کاروبار میں نقصان ہو گیا۔۔!! اب ذرا تخیل میں میرے ساتھ ساتھ سفر کیجیے گا۔ ایسی صورتحال میں آپ اخراجات چلانے کے لیے کیا کریں گے؟ آپ یاروں دوستوں سے ادھار لیں گے۔ وقت گزر جائے گا اور اگلے مہینے کے بل آپ کے سر پہ تلوار کی طرح لٹکنا شروع ہو جائیں گے، آپ پھر سے ادھار لیں گے اور ایک vicious cycle میں پھنس جائیں گے۔ اب دین دار جب قرض کی ادائیگی کا تقاضہ کریں گے تو آپ یہاں سے پکڑ کر وہاں اور وہاں سے پکڑ کر یہاں والے ماڈل پہ آ جائیں گے۔ اب سوچیے کہ اچانک کوئی انہونی ہوئی اور آپ کو مزید پیسے درکار ہو جائیں اور آپ اپنے دوست کے پاس مدد لینے جائیں۔۔۔۔۔ اور وہ آپ سے کہے کہ تو بھائی ہے تیرے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن جیسے حالات چل رہے ہیں مجھے لگتا ہے ادھار واپس نہیں کر پاو¿ گے، اگر کوئی ضمانت لاو¿ تو میں پیسے دے دیتا ہوں۔۔۔۔ پھر آپ ضمانت لاتے ہیں کچھ گروی رکھتے ہیں کچھ اصلاحات کرتے ہیں اور پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔۔۔ کیا آپ کو لگا کہ میں اس وقت آپ کو کسی حالات سے مجبور شہری کی داستان سنا رہی ہوں جو آپ کو شاید کسی حد تک آپ بیتی بھی محسوس ہوئی ہو؟ تو آپ کو بالکل غلط لگا ہے. آج بات ہم کریں گے معیشت پر۔ تو پاکستان کی اکانومی چلتی ہے ۔boom cycle and bust پر، یعنی ہمارا گروتھ ریٹ امپورٹ پر مبنی ہے۔ ہم درآمدات کر کر کے معاملات چلاتے ہیں۔ اب اسکا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہم ڈیفالٹ کرنے کے قریب جا پہنچتے ہیں۔مزید درآمدات کے لیے بھی ڈالر چاہیے ، قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی ڈالر چاہیے۔ اور ہم دیوالیہ ہونے کے دہانے پہ کھڑے ہیں تو ہم اپنے دوستوں جیسے چین سعودی عرب وغیرہ کے پاس جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بھئی پہلے ضمانت لاو¿، ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں ، جیسے ہیclouds default جھڑتے ہیں ہمارے دوست بھی ہمارا سرکل چلانے کے لیے قرضہ دے دیتے ہیں۔پاکستان 2023 میں فیصلہ کرتا ہے کہ اب دوستوں سے ادھار یا قرض کی صورت میں ڈالر نہیں لینے اگر لیے توسرمایہ کاری کی شکل میں لیں گے۔ اب یہاں اگلا مسئلہ جنم لیتا ہے ، بعض وجوہات سے پاکستان میںکاروبار دوست ماحول نہیں ہے۔ کاروبار میں آسانی کے انڈیکس میں ہماری رینکنگ 108/160 ہے۔
آئیے سمجھتے ہیں یہ کیونکر ہوا؟ بجلی یہاں پر مہنگی ہے تو کون آئے گا اپنی فیکٹری لگانے؟ یہاں پر سنگل ونڈو کام نہیں ہے کبھی اس دفتر کا چکر کبھی اس دفتر کا چکر کبھی اس کاغذ پہ سائن کبھی اس کاغذ پر۔ تعمیری پرمٹ کئی کئی مہینوں بعد ملتا ہے ، بجلی گیس کا کنیکشن لگوانے میں سو دن تو کہیں نہیں جاتے۔ پھر پاکستان نے 2023 میں سنگل ونڈو سہولت کا آغاز کرنے کے لیے ایک ادارہ بنایا جس کا نام رکھا SIFC اب اس ادارے کا کام ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے، بیوروکریٹک تاخیر ختم کرے اور پالیسیوں میں تسلسل لا کر پانچ شعبوں میں اپنے دوست ممالک سے FDI حاصل کرے۔وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے خصوصی کمیٹی کے قیام کی اجازت دے رکھی ہے۔ جس کا مقصد ریڈٹیپ اور تاریخ پہ تاریخ والا چکر ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے پچھلی دہائی سے ہماری FDI ہمارے GDP کے صرف ایک فیصد تک پھنسی کھڑی ہے۔ گلف ممالک سے شروعاتی 5 بلین ڈالر کی FDI اٹریکٹ کرنے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔پھر سال 2035 تک ایک ٹرلین ڈالر کی GDP کھڑی کرنے کا اور تین سالوں میں FDI کو سو بلین ڈالر تک لے جانے کا عزم ہے۔
اب یہ سب ہم کریں گے پانچ ایریاز میں جو کہ یہ ہیں آئی ٹی، ڈیفنس، اگریکلچر، مائننگ اینڈ منرلز اور انرجی۔ ہمارے پاس بے انتہا صلاحیت موجود ہے مثال کے طور پر بلوچستان میں موجود ریکوڈک کا تانبے اور سونے کا ایساذخیرہ ہے جس کے چرچے پوری دنیا میں ہیں۔ سعودی ہولڈنگ کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، سعودی عرب یہاں 7 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری سے شراکت داری کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ اس کان میں 2.3 ارب ٹن تانبے کے ذخائر کا تخمینہ ہے اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے مطابق یہاں سے باقاعدہ کمرشل پروڈکشن 2028 کے آخر تک شروع ہونے کا ہدف سیٹ کیا گیا ہے۔ یعنی یہاں اس قدرتانبا ہے کہ ہماری تقدیر بدل جائے!
لیکن ٹھہریے! خواب دیکھنا جتنا آسان ہے، ان کو پورا کرنا اتنا ہی مشکل، کیونکہSIFC کے راستے میں چیلنجز کا ایک پورا پہاڑ کھڑا ہے۔سب سے پہلا دھچکا تو ہوم گراو¿نڈ پر ہی لگ گیا جب پی ایم آفس میں SIFC سیکریٹریٹ بنانے کے لیے 400 ملین روپے کی ضرورت پڑی۔ اصولاً فنانس منسٹری فوراً فنڈز جاری کرتی، مگر انہوں نے تو یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیے کہ "بھائی، بجٹ کی تنگی ہے"۔ اور مشورہ دیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور پی ایم آفس اپنے اندرونی بجٹ سے فنڈز کا بندوبست کریں۔سال 2022 کا ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں، پورے پاکستان میں صرف 700 ملین روپے کی انٹرپرینیورشپ ہوسکی جہاں اپنا شہری انویسٹ کرنے سے ڈر رہا ہو، وہاں باہر سے کوئی کیوں آئے گا؟
آج ایک کمپنی رجسٹر کروانے کے لیے انویسٹر کو درجنوں اداروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور غیر ملکیوں کو تو NOC لینے میں ہی پسینہ آ جاتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کا کنکشن لینے میں 113 دن، کنسٹرکشن پرمٹ میں 125 دن اور پراپرٹی رجسٹریشن میں 105 دن لگ جاتے ہیں۔ مہینوں اور سالوں کا یہ بیوروکریٹک التوا سرمایہ کاروں کو بھگا دیتا ہے۔ جبکہ سعودی عرب میں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے صرف 30 منٹ میں بزنس رجسٹر ہو جاتا ہے۔ ہمیں بھی یہی ماڈل اپنانا ہوگا
ہر آنے والی حکومت نے "ون ونڈو فیسلیٹی" کا نعرہ تو لگایا، مگر حقیقت میں بزنس مین کو درجنوں کھڑکیوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ہمارا ٹیکس سسٹم ایک بھول بھلیاں ہے، جہاں کم و بیش 35 مختلف محکمے یا ایجنسیاں ملوث ہیں۔ جب تک اسے آسان نہیں کیا جائے گا، کوئی انویسٹر ادھر کا رخ نہیں کرے گا۔ وفاق اور صوبوں کی ٹیکس پالیسیوں میں تضاد، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس پالیسی ان کنسسٹینسی نے انڈسٹریلسٹ کے اعتماد کو بری طرح ٹھیس پہنچاتی ہے پاکستان کو اپنی روایتی بیوروکریسی کا اثر و رسوخ کم کرنا ہو گا اور ان آو¿ٹ ڈیٹڈ ٹیکنو کریٹس اور تھنک ٹینک ایکسپرٹس سے جان چھڑانی ہو گی۔سب سے اہم بات یہ کہ ادارے کے پاس فیصلے کرنے اور پالیسیوں کو نافذ کرنے کی اصل طاقت ہونی چاہیے۔ اس کے لیے کونسل کے سربراہ کو وفاقی وزیر کا درجہ اور باقاعدہ آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، نہ کہ یہ عہدہ کسی وزیر کو اضافی چارج کے طور پر دے دیا جائے۔کونسل کے کام کی کڑی نگرانی کے لیے ایک انتہائی ہائی پروفائل مانیٹرنگ کمیٹی بنانا ہو گی، جس میں ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سروسز چیفس (فوجی قیادت) اور چیف جسٹس شامل ہوں، جبکہ اس کی سربراہی خود وزیراعظم کریں۔تو جناب! قصہ مختصر یہ کہ SIFC پاکستان کے لیے محض ایک اور ادارہ نہیں، بلکہ معاشی بحران کے اس دلدل سے نکلنے کا شاید آخری اور سب سے بڑا موقع ہے۔ پوٹینشل ہمارے پاس موجود ہے، خریدار اور انویسٹرز ہمارے دروازے پر کھڑے ہیں، اور ارادے بھی بڑے ہیں۔ لیکن کامیابی کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ ہم کاغذوں پر کتنے بڑے ہدف سیٹ کرتے ہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر اپنے سسٹم کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم انویسٹر کو وہ سیکیورٹی، وہ سکون اور وہ بزنس فرینڈلی ماحول دے پائیں گے جس کا وعدہ SIFC کا یہ پلیٹ فارم کرتا ہے؟
ایس آئی ایف سی
09:35 AM, 11 Jul, 2026