انڈر16کیلئے سوشل میڈیاپر پابندی ضروری 

09:36 AM, 11 Jul, 2026

عرصہ دراز سے اس نازک موضوع اور اس کے محرکات پر لکھنا چاہتی تھی مگر اب مسلسل چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ریپ اور سیف سٹی میں چائلڈ ابیوز ڈیپارٹمنٹ کے تحقیقاتی شعبے کو دیکھ کر اور پورن وڈیوز ڈیٹا میں پاکستان کی پوزیشن چیک کر کے دل دہل چکا ہے۔
سی سی ڈی و دیگر قوتیں اس عفریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش تو کررہی ہیں مگر محرکات کا سدباب کئے بغیر یہ ایسا ہی ہے کہ درد کے محرک کو تلاش کئے بغیر اوپر سے پین کلر دے کر دبا دیا جائے۔
آخر پوری دنیا کو خیال آگیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال مہلک ہے۔ وہ ممالک جہاں پر سوشل میڈیا کا ظہور اور ترقی و ترویج ہوئی، مجبور ہو گئی ہیں کہ اس کی کوئی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔ اب جبکہ ”جن“ مکمل طور پر بوتل سے باہر آگیا ہے تو عالمی قوتوں جس میں بہت سے مغربی ممالک آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ماڈریٹ ملکوں کی قیادت میں عالمی سطح پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں لگا رہے ہیں یا لگانے کے اقدامات کر رہی ہیں۔
اسے اظہار خیال کی پابندیوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آنے والی اور موجودہ نوجوان نسل جس قدر تیزی سے فرسٹریشن ، نشہ اور روابط سے آگے گزر کر ذہنی امراض کا شکار ہو رہی ہے، ذہنی صحت کے معاملات قبل از وقت جنسیات کی معلومات اور جوان ہونے سے قبل قدرت و فطری عمل سے اکتاہٹ ، نوجوانوں کو ادویات، پورن وڈیوز، غیر فطری لطف اندوزی کی طرف لے جاتی ہے۔ چالیس سے زائد ممالک میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور خود اذیتی کے رجحانات کو فروغ جس تیزی سے مل رہا ہے، اس کے دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر نابالغ ذہنوں کے سوشل میڈیا کو ممنوع کرنے کی سفارشات تیار ہو رہی ہیں، گو مغربی ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوان نسل خصوصاً 16سال سے کم عمر بچوں کے لئے مہلک ہے یعنی ایک ایسا معاشرہ جہاں مادر پدر آزاد نظام اور آزادی¿ رائے کے تحت تمام جائز و ناجائز تفریحات کو حاصل کر لیا ہے۔ اب اپنے بھیانک انجام سے ڈر گیا ہے جبکہ ایسا معاشرہ جو نہایت گھٹن زدہ ہے وہاں پہلے ہی خاندانی نظام میں بچے اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ باقی ایک پوری کثیر تعداد گھر ہی میں تنگی¿ ساماں کے باعث قبل از وقت خلوت کے معاملات سے آشنا ہو جاتی ہے جو کہ نہایت خطرناک ہے۔
اس ضمن میں آسٹریلیا نے سب سے پہلے قدم اٹھاتے ہوئے دسمبر 2025ءمیں سولہ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی اور یہی نہیں خلاف ورزی کرنے والے پر 49.5ملین آسٹریلوی ڈالر کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا اور شناختی مہم کو سائنٹفک بنایا۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سی بلیک ویب سائٹس اس سلسلے میں نہایت گھناﺅنا کام کر رہی ہیں۔ لائیو پورن چائلڈ پورنو گرافی پر ڈالروں کی بارش ہوتی ہے۔ برطانیہ نے اس معاشرتی انحطاط کو روکنے، ایسے بڑے نیٹ ورکس کو بلاک کرنے اور اجنبیوں سے رابطے کو محدود کرنے کے لئے انڈر16-کا قانون بنایا۔ اس ضمن میں ملائشیا نے یکم جون2026کو پابندیاں نافذ کیں اور حتیٰ کہ انڈر15پابندی کی عدم تعمیل پر دس ملین آر، ایم جرمانہ مقرر کیا۔
یونان بھی نوجوان کی بے راہ روی، بے چینی، بے خوابی کو دیکھتے ہوئے 2027ءسے انڈر15نوجوانوں پر سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرے گا۔ جو مواد ان ڈارک ویب سائٹس پر پیش کیا جاتا ہے، وہ نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہے بلکہ ”ٹیبوز“کو توڑے ہوئے رشتوں کی حدیں پھلانگتے ہوئے ہماری انسانی اور خاص کر مشرقی اقدار کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ اس سے نوجوانوں میں بے چینی ، غیر فطری رجحانات ، نشہ اور خوداعتمادی کا چُورا کر دیتا ہے۔ خاص طور پر اقتصادی طور پر کمزور ممالک کے بچے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ نہ صرف ان کے والدین انہیں مہنگے آئی فون لے کر دیتے ہیں بلکہ خود ان کے استعمال سے ناآشنا ہونے کے باعث وہ کوئی رکاوٹیں بھی نہیں ڈال سکتے۔
پاکستان میں انڈر16کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی بہت ضروری ہے، اس کے جو فوری اثرات پورے معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں ان کے ذکر سے قبل پہلے یہ باور کر لینا چاہئے کہ کبھی یہ سوشل میڈیا انفارمیشن اور تعلیم کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ محض ڈس انفارمیشن، مذہبی اقدار کے خلاف مواد فرقہ واریت وطن کی نفرت کا باعث ہے۔ کئی غیر ملکی ایجنٹ باقاعدہ طور پر ہمارے نوجوانوں کو صرف ذہنی مریض ہی نہیں بنا رہے بلکہ ایسا مواد بھی شیئر کر رہے ہیں جو ہمارے مذہبی اقدار کے منافی ہے۔ کتاب پڑھنے کے رجحان کو تو جو نقصان پہنچا ہے اس کے سوا خوفناک گیمز انتہاپسندی اور ڈیتھ گیمز موت کے کنوئیں تک لے جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات نادرا کا ڈیٹابیس عمر کی تصدیق ، رازداری کے قوانین کی ضرورت ہے۔
انڈر16 کے اکاﺅنٹس کی نگرانی کے لئے جس قدر خودکار نظام اور ہزاروں ڈیٹاآپریٹرز کی ضرورت ہے جو ابھی ریاست کے لئے میسرکرنا مشکل ہے۔ ابھی تک سائبر کرائم یونٹس صرف دھوکہ دہی اور ہراسگی کو ہی ڈیل کر پاتے ہیں۔ VPN روئنگ اور عمر کی پابندی جانچنے والے ٹولز کا مقابلہ کرنے کے لئے جس حد تک فرانزک اور ڈیٹاسائنس چاہئے میسر نہیں۔ نسل نو کو ان آلائشوں اور خرابیوں سے بچانے کے لئے جتنے بھی اقدامات ہیں ان کو قانونی ٹکراﺅ کا سامنا ہے۔ ان پابندیوں کو فوری طور پر ہائی کورٹ میں چیلنج کر کے ہٹوا دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کو آزادانہ نفاذ کے اختیارات کے ساتھ کام کی اجازت ہونی چاہئے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ (SMPRA) کو وزارت آئی ٹی، تعلیم، صحت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ مربوط کر دینا چاہئے۔
مندرجہ بالا تمام مسائل ان کے حل اور نجات کے لئے اقدامات کی خاطر ٹھوس بنیادوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں فیملی پلاننگ جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، جہاں پر قومی مسئلے پر بلیک میلنگ شروع ہو جاتی ہے، پورے خلوص اور یکجہتی کے ساتھ تمام اداروں کو یک جان ہو کر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے آنے والے کل کی حفاظت کی جا سکے۔

مزیدخبریں