اتوار کو حسبِ معمول گاﺅں جانا ہوا ۔ رات کے آخری پہر سے صبح تک راولپنڈی، اسلام آباد اور گردونواح میں خوب بارش ہوئی۔بتایا گیا کہ پنڈی میں بہنے والے نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے اور کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں تو اسکے ساتھ اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں قدیمی دیہات سید پور اور نور پور میں بھی 131 ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ راولپنڈی کے مشرق یا کسی حد تک شمال مشرق میں 40-45 کلو میٹر کے فاصلے پر کہوٹہ کے قصبے میں بھی طوفانی بارش ہی نہیں ہوئی بلکہ بادل پھٹ پڑے جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہوئی۔ یہ خبریں اور اطلاعات وغیرہ سُننے اور جاننے کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ میں اڈیالہ روڈ پر سفر کرتے ہوئے جب پنڈی سے کوئی 32 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے گاﺅں سے متصل شمال میں بہنے والے دریائے سواں کے پُل پر پہنچوں گا تو وہاں دریا کا پاٹ خوب پھیلا ہوا اور اُس میں طغیانی کی کیفیت دیکھنے کو ملے گی۔ اس لیے کہ اسلام آباد راولپنڈی میں جب زیادہ بارش ہو ، لئی میں سیلابی کیفیت ہو یا راولپنڈی اور اسلام آباد کے مشرق اور شمال مشرق میں سہالہ اور آگے کہوٹہ کے علاقوں میں زیادہ بارش ہوئی ہو اور ان کے ساتھ سمبلی ڈیم اور راول ڈیم کے سپل ویز بھی کھول دئیے گئے ہوں تو پھر دریائے سواں میں پانی کے بہاﺅ میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہو جاتا بلکہ اس میں بعض اوقات اُونچے درجے کا سیلاب بھی آ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کبھی کبھار لوگوں کے پانی میں ڈوبنے کے المناک واقعات پیش آتے ہیں تو اکثر دریا کے کنارے آباد لوگوں کے مکانوں کا ساز و سامان اورڈھو ڈنگروں کے دریا کے پانی میں بہنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
خیر میں اڈیالہ روڈ پر سفر کرتے ہوئے اپنے گاﺅں کے دریائے سواں پر بنے پُل سے ابھی کچھ دور ہی تھا کہ دریا کا پانی کناروں سے باہر بہتا ہوا نظر آنے لگا۔ دریا کے پُل پر میں نے گاڑی روکی ، اللہ کریم کا بے پناہ کرم ، احسان اور اُس کی عطا کہ میرا بڑا پوتا حمزہ عثمان ملک جو بفضلِ تعالیٰ دوسری جماعت میں پڑھتا ہے اور اُس کی بہن جویریہ بتول جو مونٹیسوری سینئر میں پڑھتی ہے میرے ہمراہ تھے۔ وہ نیچے اُترے اور پُل کی ریلنگ کو پکڑ کر میرے ساتھ دریائے سواں کو معمول سے دُگنے ، تگنے پاٹ کے ساتھ کنارے سے باہر بہتے ہوئے دیکھ کر حیرانی کا اظہار کرنے لگے۔دریا کا پانی کناروں سے باہر دور تک پھیلا ہوا تھا اور اُس کی حالت یہ تھی کہ اس میں بڑی مقدار میں شاپر ، گتے کے ڈبے اورپیکنگ میں استعمال ہونے والے پولی تھین کے چھوٹے بڑے ٹکڑے اور درختوں کے پتے اور خشک شاخیں وغیرہ بہتی نظر آ رہی تھیں اور اس کے ساتھ پانی کی رنگت
سُرخی مائل ہونے کے باوجود گدلی ہی تھی۔ میں نے بچوں کو بتایا کہ بہت عرصہ پہلے جب میں گاﺅں کے پرائمری سکول میں پڑھا کرتا تھا تو اُس وقت دریا موجودہ گزر گاہ سے کافی فاصلے پر جانب مشرق و جنوب مشرق گاﺅں کے بالکل دامن میں مشرق سے بہتے ہوئے شمال مشرق اور پھر شمال کا رُخ کیا کرتا تھا۔ اُس وقت دریا کا پانی بہت صاف ہوتا تھا اور اُس میں پنڈی اور اسلام آباد کے گندے پانی والے نالوں اور نالہ لئی کے آلودہ پانی کی بہت کم ملاوٹ ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ اس میں کوڑا کرکٹ اور جالے وغیرہ بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے سکول میں تختیوں وغیرہ کو دھونے اور بعض اوقات پینے کے لیے ہم لڑکے بالے دریا کا صاف شفاف پانی گھڑوں اور گھڑیوں میں بھر کر لایا کرتے تھے۔ کئی بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجھے بھی دریا سے گھڑیو ں میں پانی بھر کر لانا پڑا تھا۔پانی سے بھرے گھڑے یا گھڑی کے منہ میں دو لڑکے ایک اپنا دائیاں ہاتھ اور دوسرا بائیاں ہاتھ ڈال کر اُسے گھٹنوںتک اُٹھا لیتے تھے اور آگے سکول تک لے جاتے ۔
دریائے سواں اور اُس کے مناظر سے وابستہ یادوں کا تذکرہ طویل ہو سکتا ہے لیکن اس کو تمام کرتے ہوئے موجودہ تیز اور طوفانی بارشوں اور اُن کی بنا پر دریاﺅں اور پانی کی ذخیرہ گاہوں میں پانی کے ذخیرہ ہونے کے بارے میں صورتحال پر ایک نظر ڈال دیتے ہیں۔ اس میں دریائے سندھ کا بطور ِ خاص ذکر کرنا چاہوں گا کہ ہمارا دریائے سواں دریائے سندھ کا ایک بڑا معاون دریا ہے جو کالا باغ سے کچھ فاصلہ اُوپر دریائے سندھ میںجا کر ملتا ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ اگلے دن دریائے سواں میں اتنا پانی جو میں نے بہتے دیکھا اور مون سون کے اس موسم میں ان شاءاللہ ایسے ہی پانی بہتا رہے گا تو پھر دریائے سندھ میں جا کر جب یہ پانی شامل ہو جاتا ہے تو یقینا دریائے سندھ میں بہنے والے پانی کی مقدار میں معقول اضافہ ہو جاتا ہوگا۔ پھر اتنا ہی نہیں بلکہ اُوپرشمالی علاقوں میں بھی دریائے سندھ کے معاون دریاﺅں سے بہت سارا پانی اس میں آن کر ملتا رہتا ہے اس کے علاوہ شمالی علاقہ کے گلیشئیرز بھی پگھلتے ہیں تو دریائے سندھ کے پانی کے بہاﺅ میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دریائے سندھ میں مون سون کے اس موسم میں اتنی بڑی مقدار میں بہنے والے پانی کو کیا پوری طرح ذخیرہ کیا جا رہا ہے یا یہ پانی ایسے ہی دریائے سندھ میں بہتے ہوئے سمندر بُرد ہو جاتا ہے۔ یقینا اس سوال کا جواب دینا ہمارے حکمرانوں، مقتدر حلقوں اور قومی رہنماﺅں کی ذمہ داری ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ جیسے وہ پہلے اس سوال کا جواب دینے سے کتراتے رہے ہیں آئندہ بھی اس سے اغماض برتتے رہیں گے تاہم حکمران ، متعلقہ محکمے اور قومی رہنما پانی ذخیرہ کرنے کے سوال کا جواب دیں یا نہ دیں بارشوں کی موجودہ صورتحال اور دریاﺅں بالخصوص دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم سے نیچے بہنے والے پانی کی موجودہ معروضی صورتحال کو سامنے رکھ کر اس سوال کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
بلا شبہ پچھلے ڈیڑھ دو ہفتوں سے پری مون سون او ر اب مون سون بارشوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ خشک سالی کا خدشہ اور دریاﺅں ، ندی نالوں اور پانی کی ذخیرہ گاہوں میں پانی کی جو قلت پیدا ہو گئی تھی اُس میں بفضل تعالیٰ بڑی حد تک کمی آ چکی ہے ۔ شمالی علاقوں میں برفانی گلیشئیرز پگھل رہے ہیں تو طوفانی بارشیں بھی ہو رہی ہیں اس کے نتیجے میں دریائے سندھ اور اس کے شمالی اور شمال مغربی خطے کے ندی نالوں اور معاون دریاﺅں جن میں دریائے سوات اور دریائے کابل قابلِ ذکر ہیںکے پانی کے بہاﺅ میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تربیلا ڈیم جس کے بارے میں ڈیڑھ دو ہفتے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ وہاں پانی کا ذخیرہ خطر ناک حد تک کم ہو کر ڈیڈ لیول تک پہنچ چکا ہے اب یک لخت اُس کے پانی کے ذخیرے میں اتنا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے کہ اس کے سپل ویز ہی نہیں کھولنا پڑے ہیں بلکہ تربیلا ڈیم سے اس وقت دریائے سندھ میں تقریباً270,000 کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ میں بھاری مقدار میں بہہ کر آنے والا یہ پانی آگے چشمہ ، گدو اور کوٹڑی جیسے اس دریا پر بنے بیراجوں یا پانی کے ذخائر میں کس حد تک ذخیرہ ہو تا ہے یا پھر دریائے سندھ میں بہتے ہوئے صوبہ سندھ کے میدانوں اور کچے کے علاقوں کو سیراب کرتے ہوئے ٹھٹھہ کے قریب بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے اس بارے میں واضح طور پر اگرچہ کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس امکان کا اظہار کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت دریائے سندھ پر بنے پانی ذخیرہ کرنے کے اُوپر ذکر کیے گئے بیراجوں میں یہ پانی ذخیرہ ہو رہا ہو گا یا پھر ان بیراجوں سے نکلنے والی نہروں میں بہہ کر خریف کی فصلوں کو سیراب کرنے اور دھان (چاولوں) کی پنیری لگانے والے کھیتوں میں استعمال ہو رہا ہو گا۔ صورتحال جو بھی ہو یہ سوال بہر کیف اپنی جگہ موجود ہے کہ شمالی علاقوں میں گلیشئیرز پگھلنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ، طوفانی بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اور اس خطے کے دریاﺅں میں پانی کے بہاﺅ میں غیر معمولی اضافہ اسی طرح جاری رہتا ہے اور تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھولے رکھنا پڑتے ہیں تو اس طرح دریائے سندھ میں بہنے والے پانی کی مقدار اس پر بنے بیراجوں چشمہ ، گدو اور کوٹڑی میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے بڑھ جاتی ہے تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسبِ سابق یہ پانی صوبہ سندھ کے میدانوں میں دریا کے نواح میں وہاں وڈھیروں اور سرداروں کی زمینوں اور کچے کے علاقوں کو سیراب کرتے ہوئے بحیرہ عرب میں جا گرے گا اور دریائے سندھ کی گزر گاہ کے بالائی علاقے حسبِ سابق اس سے استفادہ کرنے سے محروم رہیں گے کہ یہاں تربیلا ڈیم کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی اور ڈیم تعمیر نہیں کیا جاسکا ہے۔
غیر معمولی بارشیں.... پانی ذخیرہ ہو سکے گا؟
09:03 AM, 12 Jul, 2025