بلوچستان میں قتل ہونے والے 9 پنجابی مسافروں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ

01:29 PM, 11 Jul, 2025

ڈیرہ غازی خان: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی بسوں میں سفر کرنے والے 9 پنجابی مسافروں کو بلا جواز گرفتار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان شہیدوں کی لاشیں بلوچستان پنجاب بارڈر پر وصول کر کے ان کے گھروں کو بھیج دی گئی ہیں۔

کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد کے مطابق، یہ مسافر ضلع ژوب میں بسوں سے اُتار کر مارے گئے۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد چانڈیہ نے لاشیں وصول کیں اور ان کے لواحقین کے حوالے کر دی ہیں۔

شہداء کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانوالہ، لودھراں، ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ سے ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دو بھائی، جابر اور عثمان، جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے بلوچستان سے آ رہے تھے، اس حملے میں شہید ہو گئے۔ اب ایک گھر سے تین جنازے اٹھیں گے، جو ہر دل کو رنج دے دینے والا واقعہ ہے۔

دیگر شہیدوں میں محمد عرفان (ڈی جی خان)، صابر (گوجرانوالہ)، محمد آصف (مظفرگڑھ)، غلام سعید (خانیوال)، محمد جنید (لاہور)، محمد بلال (اٹک) اور بلاول (گجرات) شامل ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی ملٹری پولیس لاشوں کو ان کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔

یہ دلخراش واقعہ 10 سے 11 جولائی کی درمیانی رات پیش آیا، جب دہشت گردوں نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں اغوا کر کے قتل کر دیا۔ اس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سفاکانہ حملے کی سخت مذمت کی اور شہیدوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہونے کا اظہار کیا ہے۔

مزیدخبریں