دعوے اور باشعور طبقے کی بڑھتی مایوسی

09:35 AM, 11 Jul, 2025

ہم جتنے مرضی دعوے کر لیں کہ یہ بالکل حقیقت ہے کہ ملک کے دگر گوں حالات کی وجہ سے عوام کی بد دلی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اکثر لوگ حال اور مستقبل سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔بلکہ ہمارے پڑھنے اور ہمیں جاننے والے ہم سے اکثر اس حوالے سے سوالات کرتے رہتے ہیں۔ در حقیقت ہمارے رائج نظام میں کسی جوہری تبدیلی کی خواہش عوام کے اندر اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چلا ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے یا وقت کی اہم ضرورت کہ لوگ اب اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے سخت بے تاب نظر آتے ہیں۔ اس کے لئے وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران عوامی ضرورت اور خواہش کا ادراک رکھنے والے ہوں اور  کسی نظریاتی کمٹمنٹ کے ساتھ معاشرے کی حقیقی ضروریات اورخواہشات کے مطابق ملک کے بنیادی معاشی اور معاشرتی ڈھانچے میں کوئی مثبت، دیرپا اور جوہری انقلابی تبدیلی لانے کی استعداد کا مظاہرہ کر پائے ورنہ حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے 77 سال بعد بھی پاکستانی معاشرہ پانچ سو سالہ قدیم معاشروں کی ایک بھیانک اور خوفناک قسم کی غیر انسانی مثال پیش کرتا ہے۔ ملک میں سخت بے رحمانہ اور انتہائی ظالمانہ معاشی اور معاشرتی اونچ نیچ پائی جاتی ہے جو زمانہ حال کی جدید فلاحی ریاستوں اور اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے بالکل متضاد ہے اور اربابِ فکر و نظر جانتے ہیں کہ یہی معاشرے کی ساری خرابیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ مختلف حیلوں اور بہانوں کے تحت ریاست کا معاشرے کی مرضی کے تابع بننے سے انکار کی جڑیں ملک میں چھائے ہوئے سماجی و اقتصادی ڈھانچے کی پیدا کردہ کشیدگی اور تناؤ میں پیوست ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ہم گزشتہ آٹھ دہائیوں کے قریب عرصہ میں لوگوں کی آزاد مرضی کے مطابق ایک جمہوری طور پر منتخب اور آئینی طور پر مستحکم حکومت قائم کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے تحفظات گوناگوں بڑھ گئے ہیںجن میں غربت و افلاس، محرومی و کسمپرسی، جہالت، اندرونی اور علاقائی احساسِ محرومی، مرکز اور صوبوں میں عدم مساوات اور دیگر اسی نوع کے مسائل اور معاملات مناسب توجہ کے بغیر گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست اور معاشرے کی یہ تقسیم ان مسائل کو اور پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اچھی حکمرانی میں بڑے بڑے سبق پنہاں ہیں، قانون کا مکمل احترام اور پابندی کرنے والی حکومت اپنے عوام کو قانون کے تابع فرمان بنانے میں ایک اچھانمونہ قائم کر سکتی ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے جن حکومتوں کو جائز اور قانونی حیثیت اور عوام کی طرف سے مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا اور کوئی اخلاقی جواز ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا نہیں ہوتا تو وہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے نان ایشو میں الجھ جاتی ہیں جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اپنے اقتدار کے لئے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے پاکستان کو افغانستان میں پراکسی وار لڑنے کے لئے فرنٹ لائن سٹیٹ میں تبدیل ہونے پر مجبور کر دیا تھا اوراسی طرح پرویز مشرف نے بھی نام نہاد دہشت گردی کے جنگ کے محرکوں کے آگے سرنگوں کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں جنہوں نے مختلف مسائل میں الجھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود 21 ویں صدی کی ایک چوتھائی وقت گزار لینے کے باوجود آج پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جسے اپنی تخلیق کے نہ تو اصل مقاصد یاد ہیں اور نہ ہی اسے اپنے مستقبل کا ادراک۔ عجیب غیر یقینی کی سی کیفیت ہے۔ بلکہ بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے میں کہیں بیٹھا تھا تو کچھ نوجوانوں کو دیکھ کر کوئی مجھے کہنے لگا کہ ان کو تحریکِ پاکستان اور اس کے اکابرین کا اچھے سے پتہ بھی نہیں ہو گا۔ سب سے بڑا لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ اب لوگ قطع نظرزمینی حقائق و ملکی صلاحیت یہ سوچنے لگے ہیں کہ حالات کی مسلسل بگڑتی صورتحال در اصل ملک کی قسمت کا اگلا قدم ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد اور منزل کے حصول کے لئے عملی کردار ادا کرنا ہو گا اور ہماری لگن مستقبل کی پائیداری پر ہونی چاہئے، ہمیں اپنے وسائل مین پاور اور ذرائع پر انحصار کرنا ہو گا۔ اور انہی وسائل اور تمام ذرائع کو بروئے کار لا کر، اچھی حکمتِ عملی کے ذریعے عمدہ طاقت حاصل کرنا ہو گی۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ہم ایڈہاک بنیاد پر اور محدود منصوبہ بندی کے تحت کام کرتے رہے ہیں۔ ہمارے پاس قومی سلامتی کے لئے کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ ہم نے اپنے اقتدار، مفادات اور مقاصد پر توجہ نہیں رکھی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی عدم صلاحیت کا نتیجہ ہے جس کے باعث ہم مختصر المیعاد یا طویل المیعاد ملکی سلامتی اور ضروریات کی حکمتِ عملی آج تک مٔوثر انداز سے تیار نہ کر سکے۔
گندم، چینی کے بحران اور حالیہ دنوں میں کرپشن کے کھربوں کے الزامات، مہنگائی کے خوفناک طوفان، بیروزگاری، بجلی، گیس، پیٹرولیم کی قیمتوں میں بے تکا اضافے نے عوام کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ عوام اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ماضی کی طرح جو حالیہ اقتدار کی جنگ اس ملک میں جاری ہے اس میں عوام اور عوامی مفادات کا کوئی عنصر کبھی شامل نہیں رہا۔ آج جو جنگ لڑی جا رہی ہے، اس کے کردار خواہ کوئی بھی ہوں، ان کا عوامی مفادات، عوام کی زندگی میں بہتری لانے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ملک کے 25 کروڑ عوام اب ایک ایسی جنگ کے متمنی ہیں جس کا ایک فریق وہ خود ہوں، دوسرا فریق بالادست طبقات کا وہ لٹیرا گروہ جو ان کا شروع سے خون چوستا آ رہا ہے اور کھربوں روپوں کے بینک قرض کھا کر عوام دشمن معاہدوں کی چھاؤں میں اطمینان سے بیٹھا ہوا ہے۔ عوام سوچنے لگے ہیں کہ ان کی غریبی اور محرومی کی وجہ سیاست دانوں کی نا اہلی اور مفاد پرستی ہے۔ بد قسمتی سے ایسی قوتیں بھی موجود ہیں جو صورتحال کو ایکسپلائٹ کرنے کے لئے تیار بیٹھی رہتی ہیں۔ حکومت تو بہت دعوے کر رہی ہے لیکن زمینی حقائق یہی ہیں اور اسی بنا پر باشعور طبقے کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں