ہمارے ہاں فنون ترقی کیوں نہیں کرتے؟ ہماری فلم انڈسٹری کا بھٹہ کیوں بیٹھ گیا ہے؟ اب مصوری ، شاعری، گلوکاری، مجسمہ سازی، اداکاری سے وابستہ لیجنڈز پیدا نہیں ہوتے؟ جواب سادہ ہے۔ لاش وصول نہیں کی جاتی۔ بلکہ یوں کہیے کہ مرنے کے ایک ماہ بعد بھی لاش دفنانے کے لیے قبول نہیں کی جائے گی۔
ہم میڈیائی اور سوشل میڈیائی دور میں تو دھکے سے داخل ہو گئے ہیں لیکن ہمارے ذہن غاروں سے باہر نہیں نکلے اور تصورات بھی غار کے زمانے میں گھوم رہے ہیں۔ ہم معاشی معاونت کے لیے اچھی آمدنی رکھنے والی عورت کی خواہش رکھتے ہیں لیکن ایک خود مختار عورت کا تصور ہمارے نزدیک کسی زہر سے کم نہیں۔ یعنی عورت نے اسی معاشرے میں جینا ہے، کام کاج کرنا ہے کمانا ہے لیکن ہمارے اسی معاشرے میں عورت کے لیے کسی قسم کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہمارے طے کردہ ایک ہی سانچے میں دنیا کی ہر عورت کو ڈھل کر زندگی گزارنا ہے۔ آدمی البتہ غلطی کر سکتا ہے اور چھپ کر کرے تو زیادہ اچھا ہے ایسے وہ مناسب آدمی تصور کیا جائے گا۔ بلکہ چھپ چھپا کر کرنا اس کے لیے عقیدت پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ خیر میری ان باتوں سے قطعاً کوئی تانیثی نظریہ اخذ نہ کیا جائے۔میں ہر گز فیمنزم کی یکطرفہ رٹی رٹائی باتوں کو دلیل نہیں بنانا چاہتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان سماجی رویوں کے جواب میں کہاں سے منطق کی جائے ؟ کئی ہزار سال پرانے دماغوں پر کن وسیلوں سے ضرب لگائی جائے اور ان کے فالج زدہ ضمیر کیسے جھنجھوڑے جائیں ؟ وہ سب جن کی انا عقل پر حاوی ہے اور جن کو لوگوں کی باتوں سے اتنا فرق پڑتا ہے کہ اپنے ماں باپ کو پہچاننے ، بہن بھائیوں کو متعارف کرانے اور اپنے ہی بچوں کی لاش قبول کرنے سے انکار کر دیں انہیں کون سی دوا سنگھا کر سمجھایا جا سکتا ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ایسے افراد کی کھل کر مذمت بھی نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ ممکن ہے کہ بعض کلف لگے دماغ ایسی حرکتوں پر فخر بھی کرتے ہوں۔ لیجیے فخریہ پیشکش۔ باپ نے لاش سے اعلان لا تعلقی کر لیا۔ بغاوت ایسے ہی کٹھور دل آدمیوں کے گھرانے میں پیدا ہوتی ہے جو موت کے بعد بھی کسی کا احترام نہ کر سکتے ہوں وہ زندگی میں کیا سلوک روا رکھتے ہوں گے۔
آپ غور کیجیے ایسے لوگ جن معیارات کو دوسرے کے لیے لازم تصور کرتے ہیں خود کبھی ان پر پورا نہیں اترتے۔ بدقسمتی سے ہمارے سماجی نظریات کو ارتقا سے گزارا گیا نہ ہی ہمیں جدید معاشروں کے عورت اور مرد کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ہم کفالت کے جدید نظام میں قدیم گھریلو ٹوٹکوں کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ سوشل میڈیا کی بعض خبروں سے آدمی کا بڑا محدود سا تعارف سامنے آنے لگتا ہے۔ جیسے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا، عاشق نے انکار ہونے کی صورت میں قتل کر دیا اور باپ نے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ مگر سب سے زیادہ حیرت انگیز یہ لاش وصول کرنے سے انکار کرنے والا سافٹ ویئر ہے جو مرنے کے بعد بھی کسی کو معاف کرنے کا آپشن نہیں رکھتا۔ ہمارے نزدیک تو کسی انجان آدمی کی تجہیز وتکفین بھی کار ثواب ہے۔ کسی لا وارث میت کا بھی اتنا احترام تو کیا جا سکتا ہے کہ اسے عزت سے دفن کر دیا جائے۔ میت کو سپرد خاک کرنے میں بھی انا کی آہنی دیوار آڑے آ جاتی ہے؟؟ خدا جانے کہ موت کے بعد بھی کسی کو رسوا کر کے سگے باپ یا بھائی کو کون سا ایوارڈ موصول ہو جاتا ہے۔ عورت جیتے جی زبان پر نہیں لاتی کہ باپ نے قطع تعلق کر رکھا ہے۔ زندہ یا مردہ ہونے سے باپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک ماہ تک مردہ رہنے کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جوں رینگتی ہے تو لاش لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ انھیں لاش کا کردار مشکوک معلوم ہونے لگتا ہے۔ اب باقی اختلاف میت سے نبھائیں گے۔ پولیس والوں یا خیراتی اداروں کے نام محرم آدمیوں کے حوالے لاش کر کے عزت اور غیرت کا بھرم رکھا جائے گا۔ بھلا یہ ہمت کہاں سے لائیں کہ بیٹی تھی اور اپنی بیٹی۔ موت کے بعد تو واپسی قبول کی جا سکتی ہے۔ کم از کم مرنے کے بعد جنازہ پڑھایا جا سکتا ہے یا کسی اجنبی شخص کی لاش جتنی عزت تو دی ہی جا سکتی ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمارا نصاب نہ کوئی ٹریننگ اور نہ ہی کوئی منشور اس بات کا فیصلہ کر سکا ہے کہ عورت اور مرد کا سماجی کردار اور ان کی باقاعدہ سماجی حیثیت کیا ہے۔ بس ایک کنفیوز ہجوم ہے جو مختلف آوازوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہمارا آدمی ایک ہی وقت میں کئی طرح کا روپ دھار لیتا ہے۔ عورت کے چاہنے اور کرنے میں فرق ہے۔ بوڑھے ماضی اور حال میں اتنا فرق رکھتے ہیں جیسے یہ دونوں زمانے دو مختلف سیاروں کی کہانیاں ہوں۔ آج تک معاشرے میں یہ مسائل جان لیوا بنے ہوئے ہیں کہ عورت نے شادی کس کی مرضی سے کرنی ہے؟ کام کا انتخاب کس کی مرضی سے کرنا ہے؟ پہننے اور اوڑھنے کا فیصلہ کس کی مرضی سے کرنا ہے؟ اگر عورت کے لیے بھلائی اور اچھائی کے نظریات مرد کو سمجھ آ گئے ہیں تو یہ سب خود عورت کیوں نہیں سمجھ سکتی؟ اور پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والی اچھائی برائی کے تصورات دیگر اسلامی ممالک سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟؟
آخر میں بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر مہران بشیر کے اشعار دیکھیے۔
لڑکیاں شہر کی جب تیغ بکف آئیں گی
یہ روایاتِ کہن زیرِ ہدف آئیں گی
اپنے حجروں سے نکل کر یہ ٹھٹھرتی روحیں
اوڑھ کر شالِ بدن تیری طرف آئیں گی
باپ نے لاش لینے سے انکار کر دیا
09:34 AM, 11 Jul, 2025