چوپال سجی ہوئی تھی، چاچا عبدالرشید اپنے بیٹے کوبھی ساتھ لے کر آئے۔ چپ سائیں کی آمد سے قبل سب ادھر ادھر کی باتیں کررہے تھے اور ایک دوسرے سے حال احوال پوچھ رہے تھے۔ چپ سائیں حسب سابق وحسب عادت کھنگورا مارتے اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔نتھو ،پھتوتوقف کے بعد بولے، سائیں جی آج تو چا چاعبدالرشید کے ساتھ ان کا چھوٹا بیٹا بھی آیاہے۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور پوچھا عبدالرشید بھائی بتائیں آج بیٹے امجد(فرضی نام) کو ساتھ کیسے لر کر آئے، اس پر چاچا عبدالرشید بولے۔۔۔ سائیں جی میرابیٹا امجد خیر سے دسویں میں ہوگیا ہے، یہ کل پنجابی کی کتاب پڑھ رہا تھا، اس میںایک اکھان تھی کہ” بابے بناں بکریاں نہیں چردیاں“ یعنی” بابے کے بغیر بکریاں نہیں چرتیں“ ۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا، پھر میں نے اس کو مفہوم بتایااور تفصیل سے سمجھایا۔۔۔ آج اس کی چھٹی تھی، تو میں اس کو چوپال لے آیا۔۔۔ اب آپ اسے سمجھائیں اس کا مطلب۔۔ ویسے توشکر ہے یہ الحمدللہ بہت باادب اور پڑھائی میں اچھا ہے۔۔۔ اس پر چپ سائیں نے بھی الحمدللہ کہا۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے امجد بیٹا۔۔ آپ کے والد نے آپ کی بہت تعریفیں کی ہیں، ہم سب کو آپ کا چوپال آنا اچھا لگا۔۔۔ میں آج آپ کو اس طرح سمجھاﺅں گاکہ یہ سبق زندگی بھر یاد رہے گا اور کبھی نہیں بھولے گا۔بیٹا یہ سچ ہے کہ بابے کے بغیر بکریاں نہیں چرتیں، اس کا مطلب بہت گہرا ہے۔ ایک ایسا ہی محاورہ ہے، جو ظاہری سادگی کے باوجود انسانی زندگی کے ایک اہم فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس محاورے کا لفظی مطلب یہ ہے کہ بکریاں اپنے چرواہے کے بغیر کھلی چراگاہ میں نہیں جاتی ہیں، وہ منتشر ، گم ہو جاتی ہیں یا اپنی راہ خود تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جو اکثر ان کے لیے نقصان دہ ہوتاہے لیکن اس کے ادبی اور عملی معنی کہیں زیادہ گہرے ہیں۔امجد بیٹا یہاں ”بابے“ کا لفظ صرف ایک حقیقی چرواہے کے لیے نہیں بلکہ ہر اس رہنما، سرپرست یا مشیر کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کسی گروہ یا فرد کو منظم، محفوظ اور درست سمت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
یہ اکھان زندگی کے کئی پہلو¶ں میں صادق آتی ہے۔ انسانی معاشرہ بھی ایک بکریوں کے ریوڑ کی مانند ہے، اگر کوئی رہنما، رہبر یا مشیر موجود نہ ہو تو لوگ منتشر ہو جاتے ہیں، اپنا مقصد کھو دیتے ہیں اور اکثر بے راہ روی کی وجہ سے غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں کیونکہ بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور شرپسند عناصر جو آپ کے ارد گرد ہی ہوتے ہیں، بچوں کو آسان ہدف بنا لیتے ہیںلیکن اگر ”بابے“ کا تعلق نوجوان نسل سے قریبی اور گہرا ہوتو بچے کبھی گمراہی کاشکار نہیں ہوتے۔
چپ سائیں بولے امجد بیٹا ایک کلاس روم میں استاد کا کردار اسی ”بابے“ کے مترادف ہے۔ استاد کے بغیر طلبہ علم کی سمت میں نہیں بڑھ سکتے، ان کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی کاروباری ٹیم میں سی ای او یا منیجر وہی بابا ہوتا ہے جو ٹیم میں شامل نوجوانوں کومنظم رکھتا ہے اور رہنمائی کرتا ہے وہ ایک مالی کی طرح باغیچے کا نگہبان ہوتا ہے۔چوپا ل کے دوستو بچے کے ساتھ ساتھ آپ بڑے بھی سنیں اوریاد رکھیں کہ خاندان میں والد یا والدہ بچوں کی تربیت میں بہترین رہنما ہوتی ہیں، انہیں کسی اور ”دوست“ یا ”راز دان“ کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہوتی جو انہیں معاشرتی اصول، نظم اور اخلاقیات کی طرف لے جاتے ہیں۔
صاحبو!یہ اکھان یا محاورہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزادی اور خودمختاری اہم ہیں، لیکن یہ تب معنی رکھتی ہے جب ہمارے پاس کوئی اصول، رہنمائی یا تجربہ کار مشیر ہو جو ہمیں درست سمت دکھا سکے۔ بالکل ویسے ہی جیسے بکریاں بغیر چرواہے کے کھلی چراگاہ میں بھٹک جاتی ہیں، انسان بھی بغیر رہنمائی کے زندگی کی منزلیں بھٹک سکتے ہیں۔دوستو! انسان فطری طور پر کسی نہ کسی رہنما یا ناظم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ زندگی کے تجربات، عقلی سوچ، اور سماجی اقدار ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ رہنما کی موجودگی صرف ضروری نہیں بلکہ بقا کے لیے بھی اہم ہے۔یہ ایک زندہ سبق بھی ہے کسی بھی کام یا مقصد میں رہنمائی اور منظم قیادت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں کبھی کبھی خود کو ایک ایسے ”بابے“ یعنی گھر کے ” بڑے“ کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے جو ہماری راہ درست کر سکے، کیونکہ صحیح رہنمائی کے بغیر آزادی اور امکانات کا حصول مشکل ہے۔اگر ہمارے پاس کوئی رہنما، استاد، سرپرست یا مشیر نہ ہوتو دوستو انجام کیا ہوگا۔۔ نئی نسل بے راہ روی کاشکار ہوکر اپنے گھر والوں اور اقارب کی بھی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
صاحبو! سیاست ہو، تعلیم، کاروبار یا خاندان ۔۔۔ہر شعبے میں رہنما کی موجودگی ضروری ہے۔ ایک کلاس روم میں استاد بغیر شاگرد صرف بیٹھے رہیں گے، کسی کاروباری ٹیم میں منیجر کے بغیر کام انتشار کا شکار ہو جائے گا اور خاندان میں والدین کی غیر موجودگی بچوں کو اخلاقی اور عملی رہنمائی سے محروم کر دیتی ہے۔
صاحبو! اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ اگر ہم خود کو یا دوسروں کو بغیر نظم و رہنمائی کے چھوڑ دیں، تو نتیجہ اکثر نقصان دہ ہوتا ہے۔ بکریاں بھٹک جائیں گی، اور انسان بھی اگر رہنما کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو زندگی میں الجھا¶ اور شکست کا سامنا کرے گا۔ یہ انسانی فطرت کے گہرے راز بھی کھولتی ہے۔ ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں، لیکن اس آزادی کا فائدہ تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب ہمارے پاس تجربہ کار رہنما ہو جو ہمیں سمت دکھائے۔
”بابے کے بغیر بکریاں نہیں چرتیں“اگرچہ ایک سادہ سا محاورہ ہے، لیکن اس کے اندر زندگی کے بڑے اصول چھپے ہیں۔ صاحبو! سب سے ضروری بات یہ ہے کہ صرف رہنمائی لینا ہی کافی نہیںزندگی میں ایک موڑ وہ بھی آتا ہے جب دوسروں کی رہنمائی کے لیے خود ”بابے“ کی سوچ اورطرز زندگی کی روشنی میں رہنما بننا ہوتا ہے، خواہ وہ اپنی اولاد کےلئے ہو یا کسی دوست احباب کے لیے ۔چوپا ل کے دوستو”بابا“ صرف موجودہ حالات کا رہنما نہیں ہوتا، بلکہ ماضی کے تجربات اور علم کی روشنی بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اپنے تجربات سے سیکھیں، دوسروں کے تجربات سے استفادہ کریں اور زندگی میں ہر چھوٹی غلطی کو سبق میں بدلیں۔زندگی میں بھٹکنے والے بکریوں سے بہتر ہے کہ ہم اپنی چراہ گاہ کے راستے کا علم رکھیں اور دوسروں کے لیے بھی روشنی کا چراغ بنیں۔۔۔رہے نام اللہ!۔
بابے کے بغیر بکریاں نہیں چرتیں
09:42 AM, 11 Jan, 2026