ہے کون کتنے تیل میں!

09:42 AM, 11 Jan, 2026

اسرائیل کی ملک در ملک امریکی چھتری تلے غارت گری دیکھتے (غزہ، مغربی کنارہ، لبنان، شام، ایران، قطر) تیسرا سال چل رہا ہے۔ امریکہ نے نام نہاد جنگ بندی غزہ میں کروا کر، امن پلان تھما کر اپنے اگلے ایجنڈوں کی راہ لی۔ اب اسے بھی تو کچھ حملے کرنا لازم تھے۔ مثلاً نائیجیریا پر بمباری۔ سیاسی ضرورت کے تحت اپنے ہاں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی خاطر عیسائیت کے نام پر لگے ہاتھوں 25 دسمبر کو ’کرسمس کا تحفہ‘ کہہ کر اچانک سمندر سے کروز میزائل دے مارے،شمالی نائیجریا پر (مسلم اکثریتی علاقہ) ۔ یہ یلغارتنقید کا نشانہ بنی۔ کہاں لگے کہاں گرے سب متنازعہ تھا۔ پس منظر واضح رہے کہ شمالی نائیجیریا میں مسلم اکثریتی بنیاد پر نفاذ شریعت اور اسلامی عدالتوں کا قیام ہوا تھا۔ 1999 ءمیں ایک ریاست (صوبے) سے شروع ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے 2000ءمیں 12 صوبوں تک پھیل گیا۔ اس سے غیر معمولی امن و استحکام آیا۔ دو دہائیوں بعد تک آج بھی اس کے گہرے اثرات نائیجیریا کے معاشرتی، قانونی، سیاسی اعتبار سے موجود ہیں۔ تاہم اس تحریک کو کچلنے کے نتیجے میں یہ علاقہ لاقانونیت، بدامنی کی زد میں آگیا جس سے مسلم اور عیسائی یکساں طور پر متاثر ہوئے۔ مجرم جتھوں نے اغوا برائے تاوان کیا۔ مسلمان خواتین اور بچیاں بھی اغوا ہوئیں مگر یہ خبر دبی رہی۔ جبکہ ایسے ہی ایک حملے میں مشنری سکول اور گرجے کے نشانہ بننے پر خوب تشہیر کی گئی۔ ٹرمپ نے موقع غنیمت جان کر عیسائیت بچانے کا فریضہ (بزعمِ خود) سنبھال کر حملہ کر ڈالا۔ ایسی مزید بمباریوں کے ارادے کا اظہار کیا جس پر عیسائیوں نے بھی اس کے م¶قف کو رد کیا۔ باوجودیکہ یہاں عیسائی مسلم مسئلہ نہ تھا مگر کمزور حکومت پر دبا¶ ڈال کر یہ بیان دلوایا کہ یہ ان کی حکومت کے ایماءپر کیا گیا۔ 
اسی دوران امریکہ آنے والی بڑی جنگوں (گریٹر اسرائیل) کی تیاری میں جنوبی، لاطینی امریکہ کے لیے اپنے بڑے ارادوں کی تکمیل چاہتا تھا۔ جنگوں کے لیے ایندھن (تیل) درکار ہے جو وینزویلا کے پاس بے پناہ ہے۔ سو مستقل وینزویلا سے منشیات کی آڑ میں کشتیوں پر امریکی حملوں کا سلسلہ چلا۔ ستمبر تا 12 دسمبر2025 ءامریکہ نے 22 حملے کیے۔ 100 سے زائد افراد مارے گئے۔ بلا شواہد دعویٰ رہا منشیات کی ترسیل کا۔ تاآنکہ 3 جنوری کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر کئی حملے کیے۔40گارڈ (بمعہ 32کیوبا کے ) ہلاک کر کے، صدر میڈورو اور ان کی بیوی کو اغوا برائے تاوان کی جدید ترین عسکری مہم میں نیویارک لے آئے۔
کس میں جرا¿ت ہے کہ پوچھے ہم سے حملے کا جواز
بس مفاد اپنا ہمیں منظور ہے اس کھیل میں
کتنے پانی میں ہے کوئی یہ نہیں ہم دیکھتے
دیکھتے ہیں صرف یہ ہے کون کتنے تیل میں
سو وینزویلا سے تو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے کے مالک ہونے کے جرم پر تاوان درکار ہے۔ ٹرمپ کی زبان میں ’پورا ملک ہی ہم خود آکر چلائیں گے....بندے بن جا¶!‘ کا مطالبہ ہے۔ کہا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے کی درست دیکھ بھال نہیں ہو رہی۔ آکر ہم مرمت کریں گے (تمھارے علاوہ) اس پوری صنعت کی۔ اور اسے بیچیں گے بھی دنیا میں۔ یہ عراق پر حملے ہی کی طرز پر کیا گیا ہے۔ (وہاں بہا نہ عام تباہی کے ہتھیار تھے، نشانہ مسلم آبادی اور تیل کا تھا۔) امریکہ نے کئی ماہ کی تیاری کے بعد 150 جیٹ طیارے،20 عسکری ہوائی اڈوں سے اڑا کر یہ آپریشن کیا۔ جسے ٹرمپ نے فخریہ امریکی تاریخ میں فوجی قوت کا مبہوت کن، مو¿ثر ترین مظاہرہ کہا۔
 پوری دنیا ایک مرتبہ پھر چلا اٹھی استعماریت کی اس نئی تکنیک اور لہر پر۔ اگرچہ امریکہ اس وقت دو زبانیں بول رہا ہے۔ ایک ٹرمپ کی نتین یاہوی زبان ہے۔ تکبر، رعونت، دھونس دھمکی کی۔ دوسری زبان سٹیٹ سیکرٹری روبیو کی، صدر کی جلائی آگ پر پانی چھڑکنے کی زبان۔ گاجر اور ڈنڈا دونوں۔یاد رہے کہ امریکہ پر کبھی حملہ نہ ہوا۔ مگر امریکہ نے 250 سال سے کم عرصے میں 100 ممالک پر حملہ کیا۔
 اب کہانی پھر وہی ہے کہ عوام دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ خود امریکہ کے شہر، شہر مظاہرے جاری ہیں اس بھاری دہشت گردانہ، بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اڑاتی واردات پر۔ یوں گویا وہ آئین و قانون کی پابند ایک سپر پاور نہ ہو، کچے کے ڈاکو¶ں کا جتھا ہو!امریکی صدر کو بیوی سمیت اٹھا کر اپنے ڈیرے پر لا ڈالنے والا۔سینیٹربرنی سینڈرز نے اس حملے پر شدید تنقید کی ہے: ’ امریکی صدر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یک طرفہ ملک جنگ میں دھکیل دے (کانگریس سے بالا بالا) ۔خواہ وہ کرپٹ اور ظالم آمر میڈورو ہی کیوں نہ ہو۔ نہ ہی امریکہ کو یہ حق ہے کہ وہ وینزویلا پر حکومت کرے۔ کانگریس فوری طور پر ’جنگی اختیارات‘ کی قرار داد پاس کر کے یہ غیر قانونی فوجی کارروائی ختم کر کے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے۔ بین الا قوامی قانون کی یہ خلاف ورزی کسی بھی قوم کو یہ کھلی چھٹی دے گی کہ جو ملک جہاں چاہے کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کرکے اس کے وسائل پر قبضہ کرلے یا حکومتیں بدل دے،یہ طاقت کی خوفناک منطق ہے ۔ وینزویلا کے تیل ذخائر کنٹرول کرنے کے حق کا(ٹرمپ کا) دعویٰ، واضح استعماریت ہے۔ امریکی عوام کے معاشی حالات کی ابتری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ملکی پریشانیوں کی فکر کرے بجائے باہر مہم جوئیاں کرنے کے۔ وہ اپنا ملک چلانے سے قاصر ہے، وینزویلا چلانے کی کوشش نہ کرے! ‘یہ نصیحت آج سبھی حکمرانوں کو کرنے کی ہے۔تجھ کو پرائی کیا پڑی ۔ اپنی نبیڑ تو! ایک سابق امریکی فوجی جو عراق، افغانستان سے ہڈیاںتڑوا کر آیا تھا غصے سے پاگل ہوا سڑک پر نکل کر پولیس کے در پے ہو گیا۔ اونچا، لمبا پولیس کو مارنے دوڑ رہا تھا اور وہ بچتی پھر رہی تھی۔ ’تم اربوں ڈالر اسرائیل کو بھیجتے ہو، ادھر سابق امریکی فوجی بے گھر، خود کشیاں کر رہے ہیں۔ امریکہ ناکام ریاست ہے۔ 17 سال سروس کے بعد بیمار، خوار کاٹ کھانے کو تھا! یہی حال عین اسرائیلی فوجیوں کا ہے جو معذور، نفسیاتی مریض ہوئے، خود کشیاں کرتے اپنی حکومت کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے جو یہ سب حکمران اپنے اقتدار، دولت کے پیچھے لگے دنیا کو جہنم زار بنا رہے ہیں۔
روس کے علاوہ چین نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ و ینزویلا کے صدر اور بیوی دونوں کو فوراً رہا کرنے اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کو کہا۔ حکومت الٹا نے سے بازرہ کر بات چیت سے مسائل حل کرنے کی تاکید کی۔ چین خود بھی وینزویلا کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ مگر وہ تیل خریدتا ہے، لوٹتا، ڈاکہ نہیں ڈالتا! اس کے تجارتی مفادات جنوبی امریکہ (اور خطے) میں ہیں۔ اس سے چین، امریکہ تعلقات میں تنا¶ بڑھے گا۔
 دنیا بھر میں برپا کردہ افراتفریاں، مظلوم فلسطینیوں سے توجہ ہٹا رہی ہیں۔ جب کہ اسرائیل اپنی ظالمانہ کارروائیوں میں جاری وساری ہے۔ موسمی شدتوں میں ڈوبے ٹھٹھرتے فلسطینیوں کی مددگار، 370 این جی اوز پر اسرائیل نے مزید پابندیاں لگا کر امدادی راستے بند کر دیے ہیں نئے قوانین کے بہانے۔ اس کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ یورپی اور دنیا بھر کے عوام فلسطین کے ساتھ اب وینزویلا کے جھنڈے لہرانے، مظاہرے کرنے میں مصروف ہیں۔
 برطانیہ، فرانس کے حکمران امریکہ اسرائیل سے پیچھے کیوں رہیں؟ سو ان دونوں ممالک نے شام میں داعش کے ٹھکانوں، ہتھیاروں کے ذخیرے پر حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ امریکی قیادت میں ’آپریشن عزمِ لازم‘ کا اسلامک سٹیٹ کے خلاف کیا گیا اقدام تھا، تا کہ یہ گروپ دوبارہ نہ ابھر سکے۔ احمد الشرع جو خود پہلے جہادی تھا۔ (اب تائب ہو کر بڑی طاقتوں کا مصاحب بن گیا ہے!) وہ بھی شام کا تحفظ چاہتا ہے۔ (اور اس نے برطانیہ فرانس کو ٹھیکہ دیا ہے؟) امریکہ بھی حال ہی میں ان کے درجنوں نشانے لے چکا ہے۔ (اے ایف پی رپورٹ) سواب چوہدریوں اور ان کے مصاحبوں کے عزائم کے رحم و کرم پر عوام الناس کی دنیا بھلی بری جیسی گزرے! تاہم ابابیلیں اپنے حصے کے کنکر لیے دنیا بھر میںقطار اندر قطار جتی ہوئی ہیں۔ اس ظالمانہ کھوکھلے نظام کا کھایا ہوا بھوسہ تو بنے گا باذن اللہ!۔
وینزویلاپر حملے کے لیے امریکہ کو بے پناہ تیاری کرنی پڑی۔ اس کے گھرجیسا گھر بنا کر تربیت طویل عرصہ دی گئی! حماس اور طالبان نے بڑی طاقتوں کا اپنی بے سرو سامانی کے باوجود جنگوں میں بھو سہ بنا دیا۔ حماس سے لڑواتے، امریکہ کے ہتھیار ختم ہو گئے! فی الوقت تو دنیا تیل دیکھے اور تیل کی دھار دیکھے!۔

مزیدخبریں