لاہور : لاہور میں سکیورٹی ذرائع اور میڈیا نمائندگان کے درمیان ہونے والی ایک اہم بریفنگ میں ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کے حوالے سے اہم ترین نکات سامنے لائے گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے محض فوجی طاقت کافی نہیں بلکہ عوامی اتحاد بنیادی شرط ہے۔
ملاقات کے دوران سیکیورٹی ذرائع نے میڈیا کو درج ذیل اہم امور سے آگاہ کیا۔پاکستان میں ہونی والی دہشت گردی کی حالیہ لہر کے ڈورے براہِ راست بھارت سے جڑے ہوئے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ ترلائی امام بارگاہ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی، جو سرحد پار سے ہونے والی سازشوں کا واضح ثبوت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حتمی فتح صرف اسی صورت ممکن ہے جب نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور جامع عمل درآمد کیا جائے۔
سکیورٹی حکام نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ دشمن ہمیں لسانی، صوبائی اور قومی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ "آپ کی سیاسی وابستگی یا مذہبی سوچ جو بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ دینا ہر شہری کا فرض ہے۔ یہ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر موجود سہولت کاروں اور بیرونی آلہ کاروں کے خلاف اب کسی رعایت کے بغیر سخت ترین کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی سالمیت پر آنچ آنے والے تمام فتنوں کو کچلنے کے لیے ریاست پوری طرح تیار ہے۔
فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا: سکیورٹی حکام کا دوٹوک اعلان
08:19 PM, 11 Feb, 2026