کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ریاست مخالف عناصر کو مذاکرات کی دو ٹوک پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور انتشار کا راستہ چھوڑ کر سیاسی دھارے میں شامل ہوا جائے، لیکن واضح رہے کہ بات چیت صرف برابری کی بنیاد پر ہوگی، بندوق کی نوک پر نہیں۔
اسمبلی فلور پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہمیشہ سیاسی حل کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے تین نکاتی فریم ورک، آئینِ پاکستان کی مکمل پاسداری، شفاف انتخابی اصلاحات پر مشاورت، صوبے کے فنڈز اور ترقیاتی حقوق پر بات چیت پیش کیا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے خلاف ایک ایسا بیانیہ گھڑا گیا جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "قوم پرستی" کی آڑ میں معصوم شہریوں اور بچوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ منظم پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوان نسل کو ریاست سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ہتھیار اٹھائے اور شہریوں کا قتل عام کرے۔ سکیورٹی فورسز نے اس دھرتی کے امن کے لیے اپنی جانیں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
ایوان نے 31 جنوری کے تلخ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں ریاست کی رٹ برقرار رکھنے اور شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی مکمل حمایت کی گئی۔
بندوق چھوڑ کر میز پر آئیں، آئین کے دائرے میں ہر بات سننے کو تیار ہیں: سرفراز بگٹی
06:19 PM, 11 Feb, 2026