بسنت، جسے پنجاب کی روایتی بہار کا جشن کہا جاتا ہے، صدیوں پرانی روایت ہے جس میں لوگ پتنگیں اڑاتے ہیں، آسمان رنگین ہوجاتا ہے اور موسمِ بہار کی خوشیاں بانٹتے ہیں۔ ماضی قریب میں اس میلے پر پابندی عائد ہوگئی تھی کیونکہ خطرناک دھاتی یا کیمیائی ڈوروں کی وجہ سے شدید حادثات، زخمی اور موتیں ہوئیں، خاص طور پر موٹرسائیکل سواروں کے لیے بہت بڑے خطرات پیدا ہوئے تھے۔
تاہم سال 2026 میں پنجاب حکومت نے اس طویل پابندی کو ختم کرکے ایک محفوظ، منظم اور عوام دوست بسنت کا انعقاد ممکن بنایا۔ یقینا اس کا سہر اوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سر پر ہے جنہوں نے بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام کو بڑے کامیابی سے ممکن بنایا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے اوسیز پاکستانی اور غیر ملکی اس ثقافتی میلے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر لاہور پہنچے اور اسکی خوشیوں میں شرکت کی۔ یوں معیشت کا پہیہ کچھ اس انداز میں چلا کہ صرف اس ایک ایونٹ سے اربوں روپے گردش میں آئے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بسنت محض پتنگوں اور ڈور کے کاروبا ر کا نام ہی نہیں بلکہ اس سے منسلک درجنوں دیگر شعبوں نے بھی خوشگوار تبدیلی دیکھی اس میں ہوٹل انڈسٹری ، ٹرانسپورٹ اور فوڈ قابل ذکر ہیں ۔ گذشتہ دو دہائیوں سے بسنت عارضی طور پر بند رہی، کیونکہ خطرناک دھات یا شیشے والی ڈوروں نے متعدد حادثات کیے تھے۔ حکومت نے محسوس کیا کہ بسنت نہ صرف ایک روایتی فن ہے بلکہ اس سے ملک کی ثقافت، معیشت اور لوگوں کے دلوں میں خوشی کی روح بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے پابندی کی بجائے اس کا ’’سیف بسنت‘‘ ماڈل متعارف کرایا گیا۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بسنت کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی بسنت کو تین دن (6 تا 8 فروری) کے لیے لاہور میں مخصوص طور پر منانے کی اجازت دی گئی۔ غیر محفوظ دھاتی یا کیمیائی ڈوروں کا استعمال سختی سے ممنوع کیا گیا، اور قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں رکھی گئیں۔ ہر ایک دھاگے (پنا) پر کیو آر کوڈ لگانے کا نظام متعارف کرایا گیا تاکہ ہر بیچنے والا، خریدار اور ڈور کا ماخذ ٹریک کیا جا سکے۔ بسنت کا جشن صرف لاہور شہر میں منانے کی اجازت دی گئی، جبکہ دیگر شہروں میں پابندی برقرار رہی تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا، جہاں اعلیٰ درجہ کی سکیورٹی اور نگرانی برقرار رہی۔ عوام کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سہولیات جیسے بسیں، میٹرو، اور Orange Line ٹرین دستیاب کی گئیں تاکہ موٹرسائیکلوں پر منحصر افراد کم حادثات کا شکار ہوں۔ مفت سیفٹی راڈز لگانے کے لیے کیمپ قائم کیے گئے اور لاکھوں موٹرسائیکلوں پر یہ راڈز لگائے گئے۔ ڈرون نگرانی، پولیس، اسپتال اسٹاف اور فائر بریگیڈ کی بہترین تیاری بھی کی گئی۔ حکومت نے عوامی آگاہی مہمات چلائیں تاکہ لوگ محفوظ دھاگے اور حفاظتی SOPs کے بارے میں جان سکیں۔
بسنت کی واپسی کے حوالے سے عوام کا ردعمل شاندار رہا ہے۔ اس سال کے جشن نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں خوشیوں کی لہر دوڑا دی۔ درجہ ذیل نکات عوامی ردعمل کا خلاصہ ہیں:بہت سے لوگ اس فیصلے کو لاہور کی ثقافتی روح کی واپسی قرار دیتے ہیں۔ کئی شہریوں نے اپنے چھتوں پر رنگین پتنگیں اڑائیں، خاندانوں کے ساتھ وقت گزارا اور موسمِ بہار کی خوشیوں کا لطف اٹھایا۔ باغات، ہوٹلوں، اور مارکیٹس میں لوگوں کی بھیڑ دیکھی گئی اور کئی کروڑ روپے کی ڈوریں اور پتنگیں فروخت ہوئیں، جس سے مقامی کاروبار کو فائدہ ہواعوام نے حفاظتی SOPs کا بڑے پیمانے پر احترام کیا اور بہت کم خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں۔ مریم نواز نے خود بھی اس نظم و ضبط اور عوام کے تعاون کی تعریف کی۔ اگرچہ عام طور پر بسنت کا جشن خوشی بھرا تھا، کچھ لوگوں نے اخلاص کے ساتھ تنقید بھی کی کہ ایسے موقع پر معاشی مشکلات، صحت، اور تعلیم جیسے شعبوں پر مزید توجہ ہونی چاہیے ۔کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بسنت ایک ایسا تہوار ہے جو فضول خرچی اور حادثات سے منسلک ہے اس لیے اسے کسی بھی صورت میں کھولا نہیںجانا چاہیے تھا۔ کچھ حادثات بھی ہوئے جن میں کچھ قیمتی جانیں بھی گئیں تاہم یہ امر قابل غور ہے کہ اس بار لاہور میں دھاتی یا کیمیکل تار سے گلا کٹ کر ہلاکت کا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔
یہ بحث سوشل میڈیا پر بھی دیکھی گئی۔بسنت کے کامیاب انعقاد کے بعد مریم نواز نے عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ جشن نہ صرف محفوظ طور پر ہوا بلکہ اس نے ثقافتی اتحاد، امن اور بہار کے جشن کا پیغام دیا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کو مستقبل میں مزید شہروں تک پھیلانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا، بشرطیکہ ہر جگہ پر اسی طرح کی حفاظتی اقدامات ہوں۔سال 2026 میں پنجاب حکومت نے بسنت کو دوبارہ زندہ کیا — صرف پابندی ختم نہیں کی بلکہ اسے ایک محفوظ، منظم اور عوام دوست پروگرام میں تبدیل کیا۔ حکومت نے سخت SOPs، مفت سہولیات، عوامی آگاہی اور حفاظتی ڈھانچے کے ساتھ جشن کو محفوظ بنایا، اور عوام نے بڑے شوق اور نظم و ضبط کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔ عوامی جوش اور حکومتی منصوبہ بندی کے بہترین امتزاج نے بسنت کو ایک یادگار اور کامیاب ایونٹ بنایا۔مزید برآں کیمیکل ڈور کے میٹریل کے ماخذ پر کارروائی کرکے اسے مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی ضبط کرلینا چاہیے۔
تاہم اس بار عوام کو گڈی ڈور خاصی مہنگی ملی ۔ اگر حکومت سارا سال گڈی اور ڈور کی تیاری پر لگی پابندی اُٹھالے اور یہ سارا سال تیار ہوتی رہیں تو اگلے سال اتنا سٹاک اکھٹا ہوجائے گا کہ یہ باآسانی سستے داموں عوام کو دستیاب ہوسکے گا۔
بسنت ، مریم نواز کا اچھا اقدام
09:07 AM, 11 Feb, 2026