عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2026: ویلڈن رانا ثناء اللہ خان

09:07 AM, 11 Feb, 2026

عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2026ء ایک اچھا علمی و سیاسی لوگوں کا اکٹھ ہوتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ شخصیت تھیں۔ آزاد اور لبرل خیالات کی حامی تھیں۔ ہمارا ملک آئینی ہے۔ یہ آئین دین اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے۔ آئین تابع ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا، قرآن کا اور سیرت محمد ؐ کا۔ اس لئے یہا ں کوئی بات اللہ اور اس کے نبیؐ کے احکامات کے برعکس نہ کہی جا سکتی ہے اور نہ ہی پنپ سکتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا بہت کچھ ہونے کے باوجود آئین کی اس تعبیر کی فکر تھیں، اس لئے بھی وہ ریاست سے ٹکراتی رہیں، ان کے بعد ان کے نام پر ہر سال منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں بھی اسی قسم کے لوگوں بشمول سیاستدانوں، صحافیوں، دانشوروں کی اکثریت شامل ہو کر تقریریں کرتی ہے۔ ریاست کے خلاف باتیں کرتی ہے، اس دفعہ بھی لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں ایسے ہی لوگ جمع تھے جنہوں نے بڑے بلند آہنگ میں پاکستان کی ریاست و سیاست کے خوب لتے لئے۔ محمود خان اچکزئی ہوں یا اختر مینگل و دیگر انہوں نے ریاست کے خلاف باتیں کیں۔ دہشت گردوں کے خلاف ریاست پاکستان کے عزم بالجزم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اچکزئی و اسی قماش کے دیگر لیڈران چہک چہک کر تاریخی حوالے دے کر ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی قیام پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ابہام پیدا کرتے ہیں، کبھی خان آف قلات اور قائداعظم کے مارچ 48 میں ہونے والے معاہدے کا ذکر کر کے بلوچستان کو ایک آزاد ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی دہشت گردوں کو بلوچ عوام کے رہنمائوں کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچ عوام انہیں اپنا ہیرو اور پاک فوج کو دشمن سمجھتے ہیں۔ کبھی الیکشن 2024ء کے نتیجے میں قائم حکومت کو ناجائز اور غیر نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا سب کچھ زیر بحث عاصمہ کانفرنس 2026ء میں ہوا۔ مقررین نے تاریخی و جغرافیائی حوالوں سے حاضرین کے دل گرمائے اور خوب داد وصول کی۔ اسی تقریب میں رانا ثناء اللہ نے بھی تقریر کی۔ رانا ثناء اللہ ایک زیرک سیاستدان اور ریاست پاکستان کے موقف کے حق میں بولنے والے موثر رہنما ہیں۔ ریاست کے خلاف بیانیہ سازی کی ابتداء عمران خان کی ہے۔ ویسے فوج کے سیاسی کردار کے بارے میں تو بہت سے سیاستدان باتیں کرتے رہے ہیں۔ نواز شریف بھی جنرل باجوہ، جنرل مشرف اور دیگر جرنیلوں کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والوں میں شامل رہے ہیں۔ نواز شریف کو کئی بار اپنی حکومت ختم ہونے کے حوالے سے جرنیلوں سے سوال کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کے علاوہ کسی بھی قومی لیڈر نے فوج کے خلاف منظم طریقے سے ذہن سازی نہیں کی ہے۔ جو لوگ ریاست پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں، بیانیہ بناتے اور چلاتے ہیں وہ کھلے عام دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔ حکمران اتحاد تمام وسائل رکھنے کے باوجود ملک دشمن عمرانی بیانیے کا توڑ کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا ہے۔ فوج کے خلاف سرعام باتیں ہوتی ہیں۔ فوج ملک دشمنوں کے خلاف، دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر تعلیمی اداروں میں جا کر پاکستان کی نوجوان نسل کی ذہن سازی کی کاوشیں کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کا یہ کام نہیں ہے ، یہ کام سیاستدانوں کا ہے۔ محب وطن سیاستدانوں کا کہ وہ عمرانی ایجنڈے کیخلاف بات کریں۔ عمرانی ایجنڈا بے نقاب کریں۔ قوم کو بتائیں کہ عمرانی بیانیہ کس طرح پاکستان دشمنوں کے حق میں جاتا ہے۔ عمرانی بیانیہ کس طرح دشمنوں کے حق میں جاتا ہے۔ عمرانی ٹولے کا پروپیگنڈہ کس طرح ریاست پاکستان کے لئے مضر ہے۔ پاکستان سفارتی طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومتی کاوشیں اس حوالے سے مثبت نتائج ظاہر کر رہی ہیں۔ پاکستان معاشی بدحالی کے دور سے نکل آیا ہے۔ پنجاب میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں لیکن حکومت مرکزی و صوبائی سطح پر اپنی اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا تو اچھے طریقے سے پیٹ رہی ہیں۔ عاصمہ کانفرنس 2026ء میں اس بات کا کھل کھلا کر اظہار ہوا۔ رانا ثناء اللہ خان نے اس بیانیے کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ انہوں نے اس کانفرنس میں ریاست مخالف بیانیے کے خلاف جس طرح دلائل دیئے اور افواج پاکستان کا دفاع کیا وہ قابل ستائش ہے۔ رانا ثناء اللہ ایک سکہ بند قسم کے سیاستدان ہیں۔ وہ جنرل مشرف کے دور میں ریاستی جبر کا سامنا کر چکے ہیں اور عمرانی دور میں بھی جیل یاترا ہی نہیں بلکہ قابل پھانسی الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہنے کا دعویٰ کرنے والے نجانے کہاں گم ہو چکے ہیں لیکن رانا ثناء اللہ فی الحقیقت چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ ریاست پاکستان کے ساتھ۔ اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی پرواہ کئے بغیر پاکستان اور ریاست پاکستان کے دفاع کا حق ادا کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی عمرانی جہالت و بیانیے کے خلاف موثر آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑے منظم اور مربوط انداز میں گفتگو کرتے ہیں وہ جو کہنا چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں کہتے ہیں۔ کوئی ان کی زبان میں اپنے الفاظ نہیں ڈال سکتا ہے۔ کوئی ان سے اپنی مرضی کی بات نہیں کہلوا سکتا ہے۔ وہ اپنی بات بغیر جذبات میں آئے بغیر طیش میں آئے کہتے ہیں۔ ریاست پاکستان کا دفاع کرنے والوں کی صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے موقف کا دفاع کرنے والوں کی بھی صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں ویلڈن رانا ثناء اللہ خان۔

مزیدخبریں