اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا سیاسی معاملات میں کردار واضح ہو چکا ہے، اور جو سیاستدان ان کے ساتھ مل کر سرگرم رہے، ان کے خلاف بھی فوجی عدالت میں کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے اپنی عسکری اور سرکاری حیثیت کا ناجائز استعمال کیا اور متعدد مواقع پر سیاسی مداخلت کی۔ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف مقدمے میں بھی فیض حمید براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سزا پر خوشی کا اظہار نہیں کر رہے، کیونکہ فوج ایک اہم اور باوقار ادارہ ہے، لیکن یہ فیصلہ احتساب کی مضبوطی کی علامت ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ فوج میں ڈسپلن اور احتساب کے نظام کی سختی واضح ہے، اور فیض حمید اکیلے یہ سرگرمیاں انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی قیادت اور دیگر سیاستدان بھی ان کارروائیوں میں شامل تھے، اور ان کے خلاف بھی مناسب قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فیض حمید کے مبینہ کردار کی باتیں طویل عرصے سے گردش کر رہی ہیں، اور جو بھی لوگ اس میں ملوث تھے، ان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں چل سکتا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے آئیں۔