قائد کا خواب، ہماری سیاست!

09:13 AM, 12 Aug, 2026


آج 12اگست ہے اور پرسوں پوری قوم وطن عزیز کا یوم آزادی بھرپور جوش وجذبے سے منائے گی۔ آج سے 79برس قبل جب ابھی پاکستان قائم نہیں ہوا تھا تو اس خطے میں مسلمانوں کی معاشی و سیاسی حالت کیا تھی شاید ہی نئی نسل نے اس کا مطالعہ کیا ہو‘ ہم نے بھی کبھی گوارا نہیں کیا کہ انہیں اپنی تاریخ سے آگہی فراہم کی جائے۔ نئی نسل کو حقائق اور تاریخ سے آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ 11 اگست 1947ءپاکستان ابھی ایک نئی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار بھی نہیں ہوا تھا کہ قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس ریاست کے سیاسی مستقبل کی ایک واضح تصویر پیش کر دی تھی۔ وہ تصویر اقتدار کی کشمکش، ذاتی مفادات، سیاسی انتقام اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی نہیں تھی بلکہ قانون کی حکمرانی، شہری مساوات، ذمہ دار حکومت اور ایک ایسی ریاست کی تھی جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور برابر سمجھے۔ آج 79 برس بعد جب ہم اپنے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: قائد کا خواب کہاں ہے اور ہماری سیاست کہاں کھڑی ہے؟
قائداعظم نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی اس میں سیاست کا مقصد ریاست کو مضبوط بنانا تھا، ریاست کو سیاست کا میدانِ جنگ بنانا نہیں۔ اختلاف جمہوریت کا حسن سمجھا جاتا تھا اور مخالف کو دشمن نہیں بلکہ سیاسی حریف تصور کیا جاتا تھا۔ مگر ہماری موجودہ سیاست میں اختلاف اکثر دشمنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو ختم کرنے کی خواہش میں مبتلا دکھائی دے رہی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے؟ کیا پارلیمنٹ صرف عددی اکثریت حاصل کرنے کا ادارہ ہے؟ کیا اقتدار میں آنا ہی سیاست کی آخری منزل ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا مفہوم بہت محدود ہو جاتا۔ ان کے نزدیک سیاست اصولوں، آئین، دلیل اور عوامی خدمت کا نام تھی۔ ہم نے سیاست کو شخصیات کے گرد گھما دیا ہے۔ جماعتیں نظریات سے زیادہ شخصیات کی پہچان بن گئی ہیں اور کارکن سیاسی شعور کے بجائے جذباتی وابستگی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ ایک رہنما کے حامی دوسرے رہنما کے مخالف کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اختلافِ رائے اب دلیل سے نہیں بلکہ الزام، تضحیک اور کردار کشی سے کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ صرف سیاسی جماعتوں کےلئے نقصان دہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کےلئے خطرناک ہے۔
قائداعظم نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں قانون سب کےلئے برابر ہو۔ لیکن ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم قانون کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر قانون کے یکساں اطلاق کو ہمیشہ اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق دیکھتے ہیں۔ جب قانون ہمارے حق میں ہو تو ہم اسے انصاف قرار دیتے ہیں اور جب فیصلہ ہمارے خلاف آئے تو نظام 
پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ یہ رویہ جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ جمہوریت صرف یہ نہیں کہ ہماری جماعت جیت جائے۔ جمہوریت یہ بھی ہے کہ اگر ہماری جماعت ہار جائے تو ہم عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ اگر ہمارا سیاسی مخالف اقتدار میں آ جائے تو ہم آئینی حدود میں رہتے ہوئے اس کا احتساب کریں، مگر ریاستی اداروں اور معاشرے کو مفلوج کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اسی طرح حکومت کےلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپوزیشن کو دشمن نہ سمجھے۔ اپوزیشن کا کام حکومت سے سوال کرنا ہے، حکومت کا کام سوال برداشت کرنا ہے۔ اگر حکومت تنقید سے خوفزدہ ہو جائے اور اپوزیشن ہر فیصلے کو سازش قرار دینے لگے تو جمہوری نظام کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔
آج دنیا بدل چکی ہے۔ ریاستوں کی طاقت صرف میزائلوں، فوجی صلاحیت یا بڑے نعروں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ مضبوط اداروں، معاشی استحکام، تعلیم، ٹیکنالوجی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے بھی ناپی جاتی ہے۔ جو قومیں اندرونی سیاسی انتشار کا شکار رہتی ہیں، وہ اپنے وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت سے امیدیں وابستہ کی ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کو اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑتی رہیںبلکہ اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو اور ملک ترقی کرے۔حال ہی میں آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی نے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا یہاں ایسا نظام ہی چلتا رہے گا؟ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاستدان اکیلے اس صورتحال کے ذمہ دار نہیں۔ معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ جب ہم اپنے پسندیدہ سیاست دان کی ہر غلطی کو درست اور مخالف کی ہر درست بات کو غلط سمجھنے لگتے ہیں تو ہم سیاسی شعور کے بجائے سیاسی تعصب کو فروغ دیتے ہیں۔ 
قائداعظم کا خواب کسی ایک سیاسی جماعت کا خواب نہیں تھا، یہ پورے پاکستان کا خواب تھا۔وہ پاکستان جہاں شہری کی عزت اس کے سیاسی تعلق سے طے نہ ہو۔ جہاں اختلاف غداری نہ بنے۔ جہاں تنقید دشمنی نہ سمجھی جائے۔ جہاں حکومت کو جواب دینا پڑے اور اپوزیشن کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے۔ جہاں ادارے آئین کے مطابق کام کریں اور سیاست دان اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر ملک کی خدمت کریں۔آج ہمیں اپنے سیاسی طرزِ عمل کا احتساب کرنا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے قائد کے پاکستان کو کتنا سمجھا اور کتنا اپنایا؟ اگر ہماری سیاست نفرت سے نکل کر مکالمے کی طرف آ جائے، شخصیات کے بجائے اصولوں کو اہمیت ملے، اقتدار کے بجائے عوام کو مرکز بنایا جائے، قانون کو طاقتور اور کمزور دونوں کےلئے یکساں سمجھا جائے اور سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنے کے بجائے جمہوریت کا لازمی حصہ تسلیم کیا جائے تو شاید ہم قائد کے خواب کی طرف دوبارہ سفر شروع کر سکیں۔
پاکستان کو آج کسی نئے قائد کی نہیں، قائد کے اصولوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے نعروں سے زیادہ نئے سیاسی رویوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو شکست دینے سے زیادہ ملک کو کامیاب بنانے کی فکر کرنا ہوگی۔ قائد کا خواب ابھی مرا نہیں، مگر اس خواب کی تعبیر ہماری سیاست کے رویوں میں کہیں کھو گئی ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم ماضی کے مزاروں پر کھڑے ہو کر قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بجائے ان کے اصولوں کو اپنی سیاست، اپنی پارلیمان اور اپنی ریاستی زندگی کا حصہ بنا دیں۔ قائد کا خواب زندہ ہے، سوال صرف یہ ہے کہ ہماری سیاست اسے زندہ رکھنے کےلئے تیار ہے یا نہیں؟

مزیدخبریں