امن کی بات جہاں بھی ہو ، جو امن پسند ممالک ہیں وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ جن ممالک کی بنیاد ہی دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی ہو وہاںکہرام مچ جاتا ہے ، حالیہ پاکستان، سعودی عرب ، اور ترکیہ کے درمیان گزشتہ ایک سال سے زائد بات چیت کے بعد تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد بھارت میںمجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیںکہ بھارتی میڈیااپنے ملک کی ، مودی حکومت کی خاطر جتنا جھوٹ بول سکتا ہے وہ کم ہے ، گزشتہ پاک بھارت معرکہ کے بعد بھارتی میڈیا نے تو دنیا کو بہت سارے لطیفے دئیے ، مگر بھارتی میڈیا اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے ، خارجی امور میں ”منہ کی کھانا“ علیحدہ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کے بعد بھارت میں جس انداز سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس سے ایک بات واضح ہے کہ نئی دہلی نے اس پیش رفت کو معمول کا دفاعی سمجھوتہ نہیں سمجھا۔ بھارتی میڈیا اور دفاعی حلقے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، خصوصاً پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو نئی دہلی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا بھارت کی تشویش واقعی حقیقی ہے؟جواب تو ہاں میں بنتاہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی عرب کی مسلح افواج کی تربیت میں پاکستانی فوجی ماہرین کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں اور سکیورٹی تعاون بھی جاری رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بھی اب محض سیاسی دوستی تک محدود نہیں رہے بلکہ دفاعی صنعت، بحری شعبے، ڈرون ٹیکنالوجی اور فوجی تربیت تک پھیل چکے ہیں۔اب ترکیہ کو بھی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں بندھ جانا بھارت کیلئے مزید تشویش کا باعث ہے ۔ بھارت کے لیے سب سے زیادہ حساس نام **ترکیہ** ہے۔نئی دہلی اور انقرہ کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں متعدد معاملات پر کشیدہ رہے ہیں، جبکہ ترکیہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے م¶قف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ترکیہ نے
اپنی دفاعی صنعت میں ایسی صلاحیت پیدا کر لی ہے جس نے اسے عالمی سطح پر ایک اہم دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ملک بنا دیا ہے۔پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے ڈرونز، بحری جہازوں، دفاعی پیداوار اور دیگر شعبوں میں تعاون بھارت کے دفاعی حلقوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اب سعودی عرب کے شامل ہونے سے اس تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔سعودی عرب محض ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ دنیا کی اہم معاشی اور توانائی کی طاقت بھی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، مذہبی، عوامی اور معاشی تعلقات موجود ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کر رہے ہیں اور سعودی عرب پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے نئی دہلی کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو ایک نیا دفاعی شراکت دار ملا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ”ترکیہ کی دفاعی طاقت اور سعودی عرب کی معاشی و سفارتی اہمیت“ ایک ہی فریم ورک میں آ رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ چونکہ امن پسند ملک ہیں اسلئے انکے درمیان ہونےوالا معاہدہ کسی کے خلاف نہیں اگر ”چور کی داڑھی میں تنکا“ ہو تو کیا کیاجائے، تجزیہ نگار اسے اسلامی نیٹو کہہ رہے ہیں جبکہ یہ ابھی قبل از وقت ہے، نہ ہی خدانخواستہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف اعلان جنگ ہے، دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد اپنے ممالک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت بڑھانا ہے۔ ہاں جملہ اعلان کہ ان تین ممالک میں سے کسی پر بھی حملہ تینوں ممالک پر تصور ہو گا، یہ اعلان بھارت کی نیند حرام کرتا ہے چونکہ شرمناک شکست کے بعد بھی مودی سرکار کو خواب ہی پاکستان پر حملہ کرنے کا آتا ہے، کہتے ہیں خراب خواب پیٹ کی خرابی سے آتے ہیں دفاعی معاہدہ میں منسلک تینوں ممالک دنیا کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اگر وہ دفاعی تعاون کو دفاعی پیداوار، مشترکہ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی تعاون تک لے جائیں پاکستان کی دفاعی صنعت میں ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری اگر ایک مشترکہ معاشی ماڈل میں تبدیل ہو جائے تو اس کے فوائد پاکستان کی معیشت تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر اپنے دفاعی تعاون کو امن، تجارت، ٹیکنالوجی اور ترقی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ معاہدہ صرف تین ممالک کی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی سٹریٹیجک حقیقت بن سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب اپنی دفاعی قوت کو صرف اپنی سرحدوں کے اندر دیکھنے کے بجائے عسکری سفارت کاری کے ایک اثاثے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مکہ کا منظر معمولی نہیں ایک طرف سعودی عرب، ایک طرف ترکی اور ان کے درمیان پاکستان، یہ محض تین جھنڈے نہیں یہ تین مختلف قوتوں کا ملاپ ہے۔ میرا ملک پاکستان، نہ ہی سعودی عرب اور نہ ہی ترکیہ جنگ نہیں دنیا میں امن چاہتے ہیں، پاکستان کی معاشی صورتحال کے پس منظر میںاگر کوئی پاکستان کو کمزور تصور کرے تو احمقوںکی جنت میں رہتا ہے۔ سعودی سرمایہ اور جغرافیائی اہمیت، ترکی کی دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی اور پاکستان کی ایٹمی، عسکری اور انسانی قوت اگر یہ تین صلاحیتیں ایک منظم حکمت عملی میں ڈھلتی ہیں تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے دشمن کو پیغام صاف ہے دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک فوجی سمجھوتہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال میں ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ مسلسل کشیدگی، میزائل حملوں، ڈرون جنگ، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میںبھارت بادشاہی کے خواب دیکھ رہا ہے جو آج کی دنیا میں ممکن نہیںاور خام خیالی ہے یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو اس سطح تک لے جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟اس کا جواب موجودہ عالمی صورتحال میں پوشیدہ ہے۔گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے دیکھا ہے کہ روایتی جنگ کا تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اب جنگ صرف ٹینکوں اور فوجوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ ڈرون، میزائل، سائبر حملے، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر اور اہم اقتصادی تنصیبات کا تحفظ بھی قومی دفاع کا حصہ بن چکا ہے۔ لہٰذا سعودی عرب کے لیے دفاعی شراکت داری دراصل اس کی اقتصادی ترقی کی حفاظت بھی ہے۔
تین طاقتیں، تین صلاحیتیں، ایک ویثرن
09:15 AM, 12 Aug, 2026