تحفیظِ فکر

09:13 AM, 12 Aug, 2026


فکر عمل کی اساس ہے۔ اگر فکر راست ہوگی تو عمل بھی راست سمت میں ہوگا، اگر فکر معکوس ہوگی تو عمل بھی تعمیر کی بجائے تخریب پر منتج ہوگا۔ فکر اور عمل کے درمیان ایک برزخ ہے جس کا نام وقت ہے۔ وقت کے برزخ کو صبر کی سواری سے طے کیا جاتا ہے۔ فوری نتیجہ چاہنے والے اور فوری نتیجوں کی بنیاد پر اپنی فکر کی بنیاد رکھنے والے تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نہیں ہوتے۔
 اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ درست فکر کے حامل کسی فایدے کے مقام پر کھڑے دکھائی نہیں دیتے، اس کے برعکس شارٹ کٹ استعمال کرنے والے، تیز طرار، چالاک، چرب زبان، فکرِ معکوس کے حامل لوگ کامیابی کے پوڈیم پر بڑی تمکنت سے کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے وہ لوگ جن کا شعور ابھی عالمِ طفولیت میں ہے، ایک عجب مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ اصولوں پر کھڑے لوگ ناکام رہ جاتے ہیں، اور ناپسندیدہ راستوں پر چلنے والے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ طفولیت کے گہوارے میں جھولتا ہوا شعور کسی فائدے کا چاکلیٹ دیکھے بغیر کہیں قدم نہیں رکھتا۔ فایدہ اور نقصان ہی ایسے دو محرکات ہیں جو اسے کسی عمل پر مجبور کرتے ہیں یا پھر کسی عمل سے روکتے ہیں۔ اس کے لیے وہی اصول قابلِ عمل ہوتاہے جس میں کوئی فایدہ حاصل ہوتا ہوا نظر آئے۔ اس کے نزدیک فایدے کے علاوہ سب باتیں بے فایدہ ہیں اس کے ہاں اصول کی باتیں صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہیں۔ وہ کسی سے ملتا ہے تو فقط اس لیے کہ اس سے کوئی فائدہ متوقع ہوتا ہے۔ ایسے طفلانہ شعور کو فایدے اور نقصان کے پالنے سے نکالنے کے لیے بلند قامت شعور میدانِ عمل میں نکلتے ہیں۔ وہ اخلاص کے پیکر بنتے ہیں، وہ ایسے کاموں کی طرح ڈالتے ہیں جس میں انہیں ذاتی طور پر کوئی فایدہ نہیں ہوتا۔ وہ اکثر اوقات ایسے کاموں میں کود پڑتے ہیں جس میں سراسر نقصان ہوتا ہے۔ ان کا یہ طرزِ عمل دوسروں کا طرزِ فکر تبدیل کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ 
مادی شعور عالمِ طفولیت میں ہوتا ہے، روحانی شعور بلوغت میں۔ ایک بالغ نظر انسان بہت سے ایسے کام کرتا ہے جس میں اسے کوئی فوری فایدہ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ایسے درختوں کے بیج بھی بوتا ہے، جس کا پھل وہ خود نہیں کھا سکتا۔ وہ اپنے لیے ، یا اپنے خاندان کے لیے نہیں ، بلکہ پوری نوعِ انسان کے لیے سوچتا ہے ، اور کام کرتا ہے۔ وہ مادی اقدار میں ڈھلنے کی بجائے، روحانی و اخلاقی اقدار کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے ، مادہ بدل جائے گا، روح امر ہے۔ وہ جانتا ہے ، انسانی جبلتوںکا ارتقا صفر ہے نفرت ، حسد اور لالچ ایسی جبلتیں ہزاروں برس پہلے کی طرح آج بھی ویسی ہی ہیں، صرف ان کے اظہار کے پیرائے بدل گئے ہیں۔ الفاظ بدل گئے ہیں، ان کے پسِ پشت جذبات وہی ہیں۔ قابیل کی سرشت بدلی ہے ، نہ ہابیل کی فطرت سلیمہ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ جب جبلتوں میں تبدیلی نہیں آئی ، تو لازم ہے کہ ان کو سدھارنے والے نصابِ اخلاق میں بھی کوئی ترمیم در نہ آئے ۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ آدم تا ایں دم دین صرف اسلام ہے۔ یہ دینِ فطرت ہے۔ یہ اسی فاطر کا دیا ہوا دین ہے جس نے اِس کائنات کی اور پھر انسان کی فطرت کو خلق کیا ہے۔ انسان فطرت کی تخلیق نہیں، بلکہ یہ براہِ راست فاطر کی تخلیق ہے۔ ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ حضرت ِ انسان فطرت سے بلند تخلیق کیا گیا ہے، اس لیے لازم ہے کہ اسے فطرت کے علاوہ بھی ایک نصاب دیا جائے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا اسے یہی نصاب تفویض کرنے کے لیے مبعوث ہوئے۔ پھر ان کے اولیا اور اصفیا و اوصیا اپنے قول و کردار سے اس نصاب کی حفاظت کرتے رہے۔ 
 حضرت ِ انسان کے لیے ایک آسمانی نصاب ضروری تھا کیونکہ یہ آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ یہ باقی مخلوقات کی طرح فطرت کے تابع نہیں ، اسے اختیار دیا گیا ہے کہ یہ فطرت میں تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔ اسے خود اسفل السافلین اور اعلی علین دونوں کا انتخاب کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ اپنی نیت اور اپنے ارادے میں مکمل آزاد ہے۔ 
اِنسا ن کی نیت اور اِرادہ ہی وہ جولان گاہ ہے جس میں اس فکر تشکیل پاتا ہے۔ نیت میں اخلاص آجائے تو فکر کا شفاف ہو جانا لازم ہے۔ انگریزی میں محاور کہتے ہیں: Clarity of concept is the key to success یعنی فکر کا واضح ہو جانا ہی کامیابی کی کلید ہے۔ یہیں سے واضح ہوتا ہے کہ فکر ایک لائحہ عمل ہے۔ اگر عمل واضح نہیں ہورہا تو اس کا مطلب ہے کہ فکر ابھی وضاحت طلب ہے۔ اسی ہفتے محفل میں کسی نے سوال پوچھا تھا: سر! یہ سوال و جواب آخر کب تک چلتے رہیں گے۔ اِس کا جواب یہی تھا کہ جب تک عمل واضح نہیں ہو جاتا۔ حکم ہے گود سے گور تلک علم حاصل کرنا فرض ہے بس علم حاصل کرتے جا، کرتے جا یہاں تک کہ عمل علم کا مقتدی بن جائے۔ علم کی امامت میسر ہو تو عمل کبھی نہ کبھی صورت پذیر ہو جاتا ہے۔ وہ العلم ہے اس کا رسول شہرِ علم ہے اور اس کا علیؓ ولی درِ علم ہے۔ رسالت تحفیظِ توحید ہے اور ولایت تحفیظِ رسالت!
توحید کو رسالت کے حکم کے ساتھ نہ پڑھا جائے تو انسان توحید کے نام پر گمراہ ہو جاتا ہے۔ اگر ولایت کے وسیلے کے بغیر پیغامِ رسالت ؓ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کوشش بسا اوقات مبنی بر خطا ہو جاتی ہے۔ دراصل تحفیظ، تحکیم طلب کرتی ہے۔ حکم دینے والا انسان ہوتا ہے گوشت پوست والا انسان کوئی ذی نفس کوئی کتابِ ناطق جو کتابِِ صامت کے حکم کو واضح کر سکے۔ ازخود کتاب سے اخذ کرنے میں نفس مانع ہو جاتا ہے۔ تزکیہِ نفس کے لیے کوئی ذی نفس درکار ہوتا ہے۔ کتاب تزکیہ نہیں کرتی۔ کتابِ ہدایت ہادی تک لے جاتی ہے اور باقی کام ہادی کرتا ہے۔ یعنی ہدایت کتاب سے نہیں ، ہادی سے میسر آتی ہے۔ اگر حقوق اللہ ہی کافی ہوتے تو حقوق العباد کا غلغلہ نہ ہوتا۔ اگر مادی علم کے لیے کسی ظاہری استاد کا ہونا ضروری ہے، کوئی اپرنٹس شپ ضروری ہے تو دینی و روحانی علم کے حصول کے لیے بھی کوئی استاد نما راہ نما بھی از حد ضروری ہے۔ کس وقت کی کیا ترجیحات ہیں یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا کس عمل کی کیا ترتیب ہے، یہ بتانے کے لیے کوئی ایسا حکم چاہیے جو حکم کی وضاحت کر سکے۔ بصورتِ دیگر اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے مصداق ہر ذہن کی ایک اپنی تشریح اور اپنی وضاحت ہوگی اور نتیجہ وہی جو قرآن میں پہلے سے درج ہے: ل حِزب بِما لدیہِم فرِحون (اور ہر گروہ ،جو اس کے پاس موجود ہے، اس پر خوش ہے)۔ 
القصہ! تحفیظِ علم کوئی صاحبِ علم ہی کرتا ہے تحفیظِ پیغامِ ہدایت کوئی ہادی¿ دوراں ہی کرتا ہے۔ عمل کی صف بندی کے لیے امام درکار ہوتا ہے۔ 
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
کہتے ہیں قربِ قیامت میں علم اٹھا لیا جائے گا۔ ایک حدیثِ پاک کا مفہوم یوں ہے کہ کہ علم اٹھا لینے سے مراد یہ ہے اہلِ علم کو اٹھا لیا جائے گا جس کے بعد جاہل لوگ ان کی جگہ لے لیں گے ، اور لوگ ان کی پیروی میں ہلاک ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا کہ تحفیظ ِ علم کے لیے اہلِ علم درکار ہیں۔ تحفیظِ کردار کے لیے صاحبانِ کردار درکار ہوتے ہیں اور تحفیظِ اقدار کے لیے ان اقدار پر کاربند کوئی صاحب درکار ہوتا ہے۔ جسے کسی فکر کی حفاظت کی فکر درپیش ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو مستحکم کرے تاکہ اس فکر کے طالب از خود اس سے رجوع کریں وہ بھی نہال ہوں اور نخلِ فکر بھی سرسبز و شاداب ہو!!

مزیدخبریں