دمشق : شام میں سابق صدر بشار الاسد کے خلاف عدالتی کارروائی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک شامی عدالت نے انہیں اور سابق حکومت سے تعلق رکھنے والی دو دیگر شخصیات کو سزائے موت سنادی۔ عدالت نے تینوں کو ملک میں جاری رہنے والی تقریباً 14 سالہ جنگ کے دوران سنگین جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا، جن میں قتل، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں اور دیگر انسانیت سوز اقدامات کے الزامات شامل ہیں۔
بشار الاسد کے خلاف یہ شامی عدالت کا پہلا فیصلہ ہے جو دسمبر 2024 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ باغی فورسز کی اچانک اور تیز پیش قدمی کے بعد الاسد کو دمشق چھوڑنا پڑا تھا، جس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کی کئی دہائیوں پر محیط حکمرانی بھی ختم ہوگئی۔ بعد ازاں روس نے انہیں انسانی بنیادوں پر پناہ دی، جہاں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ موجود ہیں۔
عدالت کے فیصلے کا اعلان ہوتے ہی دمشق میں لوگوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہوگئی۔ شہریوں نے شامی پرچم تھامے نعرے لگائے اور فیصلے پر جشن منایا۔ درعا میں بھی عدالتی فیصلے کے بعد شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
عدالت کے مطابق بشار الاسد متعدد سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔ ان پر متعدد افراد اور بچوں کے دانستہ قتل، تشدد، من مانی حراست اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ثابت ہونے پر انہیں غیر حاضری میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔
سابق صدر کے بھائی ماہر الاسد کو بھی سزائے موت دی گئی ہے۔ ماہر الاسد سابق حکومت کی فور آرمڈ ڈویژن کی کمان سنبھالتے تھے، جسے حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے اور باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والی فورس سمجھا جاتا تھا۔ اس یونٹ پر منشیات کی تیاری اور غیر قانونی تجارت کے ذریعے سابق حکومت کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
سابق سیکیورٹی افسر عاطف نجیب کو بھی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی۔ نجیب جنوبی صوبے درعا میں تعینات رہے، یہی وہ علاقہ ہے جہاں 2011 میں بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔
عاطف نجیب کو 2025 کے آغاز میں شامی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ اس مقدمے میں وہ واحد ملزم تھے جو عدالت میں خود پیش ہوئے، جبکہ بشار الاسد اور ماہر الاسد کے خلاف کارروائی ان کی غیر موجودگی میں مکمل کی گئی۔
درعا میں فیصلے کے بعد کئی خاندان اپنے پیاروں کی تصاویر لے کر باہر نکل آئے۔ ان میں ایسے افراد کی تصاویر بھی شامل تھیں جو جنگ کے دوران مارے گئے یا سیکیورٹی فورسز کی حراست میں لاپتا ہوئے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں 13 سالہ حمزہ الخطیب کی تصویر بھی موجود تھی، جس کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسے 2011 میں گرفتار کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا تھا۔
مقدمے کی کارروائی میں شامل پراسیکیوٹر نوحہ المصری نے بھی ذاتی طور پر جنگ کے اثرات برداشت کیے۔ ان کے بھائی 2011 میں درعا میں حکومت مخالف مظاہرے کے خلاف کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ عدالت کا فیصلہ ان خاندانوں کی قربانیوں اور برسوں سے جاری تکلیف کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا۔
یہ عدالتی کارروائی تقریباً چار ماہ تک جاری رہی۔ شام کی موجودہ اسلام پسند قیادت نے اسے سابق حکومت کے دور کے جرائم پر احتساب اور ملک میں عبوری انصاف کے عمل کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
تاہم بعض قانونی ماہرین نے سزائے موت کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر شام میں کسی ملزم کو پھانسی دیے جانے کا امکان موجود ہو تو دوسرے ممالک اس شخص کو شام کے حوالے کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔
شامی سینٹر فار لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سربراہ انور البنی نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں بشار الاسد اور سابق حکومت کے دیگر ملزمان کو شام واپس لانے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو حقیقی عبوری انصاف کے بجائے زیادہ تر علامتی عمل قرار دیا۔
بشار الاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد شام کی صدارت سنبھالی تھی۔ وہ تقریباً 24 برس تک اقتدار میں رہے اور اس دوران اپنے خاندان کی سیاسی گرفت برقرار رکھی۔ ان کے دور حکومت میں شام نے روس اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اس کے روابط شدید کشیدہ رہے۔
2011 میں عرب دنیا میں حکومت مخالف تحریکوں کے دوران شام میں بھی بشار الاسد کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔ حکومتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بعد صورتحال ایک طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی، جس نے ملک کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا اور لاکھوں لوگوں کی جانیں لیں۔
ابتدائی طور پر باغی گروہوں کی بڑی پیش قدمی کے باوجود بشار الاسد اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ تاہم 2024 کے آخر میں صورتحال نے ڈرامائی رخ اختیار کیا، جب احمد الشرع کی قیادت میں باغی فورسز نے انتہائی تیزی سے مختلف علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے دارالحکومت دمشق کی جانب پیش قدمی کی۔
باغیوں کی یہ کارروائی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں اپنے انجام کو پہنچی اور بشار الاسد کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اس کے بعد روس نے انہیں پناہ دے دی، جہاں وہ تاحال مقیم ہیں۔
بشار الاسد کو شام کے علاوہ فرانس میں بھی قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ فرانسیسی حکام نے 2012 میں حمص میں ایک میڈیا مرکز پر ہونے والی بمباری کے سلسلے میں ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔