قبل اسلام عورت کو جنگوں، سیاست اور ذاتی مفادات کے لیے بطور ’’ہتھیار‘‘ استعمال کیا جاتا تھا، اس کو نہ صرف ایک کمتر مخلوق سمجھا جاتا، بلکہ یونان کے قدیم فلاسفروں کے افکارات اور نظریات کا عالم یہ تھا کہ وہاں عورت کو باعث ذلت گردانا گیا اور یونانی لوگ عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بیچتے اور اسے ذاتی ملکیت کی طرح استعمال کرتے۔ یہی نہیں بلکہ روم، مصر، عرب اور ہندوستان ان تمام ممالک کے اندر صنف نازک کے ساتھ ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا، بازاروں اور میلوں میں اس کی خرید و فروخت کی جاتی رہی، ان کے ساتھ حیوانوں سے بدتر سلوک کیا جاتا رہا، یونان میں تو ایک عرصے تک یہ بحث جاری رہی کہ آیا اس کے اندر روح موجود ہے بھی یا نہیں؟ اسی طرح قدیم قبائلی نظام میں جب دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہوتی تو فاتح قبیلہ شکست خوردہ قبیلے کی عورتوں کو غلام بنا لیتا۔ انہیں مال کے طور پر تقسیم کیا جاتا، بیچا جاتا۔ عرب جاہلیت میں یہ رواج عام تھا کہ دشمن قبیلے کی عورتوں کو قید کر کے انہیں بطور ’’انعام‘‘ جنگی سپاہیوں کو دیا جاتا۔ طاقت ور سردار اور بادشاہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے عورتوں کو بطور تحفہ یا صلح نامے کا حصہ بناتے تھے۔ یونان اور روم میں Concubines یعنی رکھیلوں کا ادارہ عام تھا، جہاں عورت صرف جسمانی لذت کے لیے رکھی جاتی۔ خواتین کا جنگی مقاصد میں بطور ہتھیار، نفسیاتی حملے اور پراپیگنڈا کے آلے کے طور پر استعمال بزدلوں اور غیر مسلموںکا پرانا حربہ ہے۔ عصری دہشت گردی میں داعش جیسی کالعدم تنظیموں نے خواتین کو خود کش بمبار کے طور پر استعمال کیا، کیونکہ وہ چیک پوسٹوں پر کم مشکوک سمجھی جاتی ہیں۔ اس طرح بھارت میں تامل ٹائیگرز (LTTE) خواتین خود کش بمبار کیلئے مشہور ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی تحریکوں درحقیقت فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں جن میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی این اے، بی آر پی اور دیگر شامل ہیں، نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے خواتین کو بطور ’’خود کش بمبار‘‘ استعمال کیا۔ جس کا واضح ثبوت گذشتہ سال ستمبر 2024ء کو تربت سے گرفتار ہونے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی خود کش حملہ آور خاتون عدیلہ بلوچ ہے، جس نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے۔ عدیلہ بلوچ نے النہار ٹی وی چینل کو اپنی اذیت ناک کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک کوالیفائیڈ نرس تھی جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کا ایک منصوبہ چلا رہی تھی کہ وہاں اس کی ملاقات دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے سہولت کاروں سے ہوئی جنہوں نے اس کو برین واشنگ کے ذریعے اپنے دام فریب میں لیا اور پھر پہاڑوں پر لیجا کر اس کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، فلمایا گیا اور پھر ویڈیو دکھا کر بلیک میل کر کے خود کش حملہ کرنے پر مجبور کیا گیا، مزید بتاتی ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچ خواتین کا استحصال کرتی ہیں، جن میں گینگ ریپ، نازیبا ویڈیوز بنانا اور تشدد کرنا شامل ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ بلوچ خواتین اپنی مرضی سے خودکش حملوں کے تیار ہوتی سراسر جھوٹ ہے۔ 26 اپریل 2022 کو کراچی یونیورسٹی میں خود کش حملہ کر کے تین چینی اساتذہ سمیت ایک پاکستانی ڈرائیور کی جان لینے والی شاری بلوچ 3 جنوری 1971ء کو تربت، بلوچستان میں ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی، ا س نے کراچی یونیورسٹی سے ایم فل کیا، اس کی ملاقات حبیطان بشیر بلوچ سے ہوئی جو بظاہر ایک اچھا انسان نظر آتا تھا، مگر درحقیقت وہ فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھا اور خواتین کو پیار کے جھانسے میں لا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ شاری بلوچ بھی اس شخص کا شکار بن گئی۔ شادی کے بعد حبیطان بلوچ نے شاری بلوچ کو مکمل طور پر اس کے خاندان اور رشتہ داروں سے الگ کر دیا۔ حبیطان بلوچ نے اپنی پیشہ وارنہ مکاریوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شاری بلوچ کی جذباتی کمزوریوں کو نشانہ بنایا، اور اپنی گھریلو زندگی بھی تباہ کر لی۔ اس کے دیگر خواتین کے ساتھ ناجائز تعلقات اور شاری کو اپنے دوستوںکے ساتھ تعلقات رکھنے پر مجبور کرنا اس کو مزید ذہنی تنائو کا شکار بنا کر، انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرنے ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔ حبیطان بلوچ کے نفسیاتی دبائو نے شاری کے حواس باختہ کر دئیے، وہ مکمل طور پر اس کے حصار میں آ چکی تھی۔ حبیطان بلوچ نے شاری کو ایران اور افغانستان لیجا کر وہاں پر بھارت کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت دی۔ اس کو صنف نازک سے ایک خود کش بمبار بنا دیا اور وہ حبیطان بلوچ جیسے شیطان کے ہاتھوں گمراہ ہو کر اپنی دنیا و آخرت گنوا بیٹھی۔ بالکل یہی کہانی 3 مارچ 2025ء کو قلات میں خودکش حملہ کرنے والی گنجاتون عرف بارمش کی ہے جو گوادر کے رہائشی میراں بخش کی بیٹی تھی، یہ 6 بھائی اور 3 بہنیں تھیں ان کا باپ مزدور تھا۔ کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے بعد گنجاتون نے گوادر یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں اس کی ملاقات کامران ولد حسن سے ہوئی جو شعبہ تعلیم کا طالب علم تھا اور پس پردہ فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ایک اہم کمانڈر تھا۔ آپس میں دوستی ناجائز تعلقات تک جا پہنچی، گنجاتون پہلے سمسٹر میں فیل ہو گئی جبکہ کامران تیسرے سمسٹر میں اپنا ٹارگٹ پورا کرنے کے بعد یونیورسٹی چھوڑ گیا۔ کامران چوری سے گنجاتون کی کئی نازیبا ویڈیو بنا چکا تھا جس کی وجہ سے اس نے بلیک میل کر کے گنجاتون کو بلوچ یک جہتی کمیٹی کے احتجاج ’’راجی مچی‘‘ میں شامل ہونے کے لیے مجبور کیا، جہاں اس کی ملاقات ماہ رنگ لانگو سے ہوئی، ماہ رنگ لانگو نے دہشت گردی کو ’’آزادی‘‘ کی جنگ بتا کر اس کی برین واشنگ کی، اس دوران کامران اس کو ویڈیو سوشل میڈیا پر ریلیز کرنے کی دھمکیاں دیکر پہاڑوں پر موجود دہشت گردی کے کیمپوں میں لے گیا، جہاں کئی دن تک وحشی درندے اس حوا زادی کو نوچتے رہے اور آخرکار اس کو قلات میں خود کش حملہ کر نے پر مجبور کر دیا گیا۔ 26 اگست 2024ء کو بیلہ کیمپ کے گیٹ کے باہر خود کش حملے میں اپنی جان گنوانے والی گوادر، سربندر کی رہائشی، ایل ایل بی کی طالبہ 23 سالہ ماہل بلوچ کو بی ایل اے نے بلیک میل کر کے یہ دھماکہ کرنے پر مجبور کیا تھا۔
بلوچستان میں خود کش بمبار خواتین کی اذیت ناک داستانیں
09:12 AM, 11 Aug, 2025