ٹرمپ کا 'گریٹ ری سیٹ' اور اسلام آباد کی میزبانی؛ جے ڈی وینس کی آمد نے پاکستان کو عالمی سفارت کاری کا محور بنادیا

12:29 PM, 11 Apr, 2026

اسلام آباد:تاریخ کے اوراق میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو صدیوں کا رخ متعین کر دیتے ہیں۔ آج 11 اپریل 2026 کا دن پاکستان کے لیے وہی تاریخی موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ جب دنیا کے دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، کسی تیسرے ملک کی زمین پر ہاتھ ملانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے، تب پاکستان نے اپنی سفارتی بصیرت سے وہ معجزہ کر دکھایا جسے عالمی سطح پر "اسلام آباد ری سیٹ" کا نام دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کی فضاؤں میں آج ایک انوکھی سحر انگیزی ہے۔ نور خان ایئر بیس پر اترنے والا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ محض ایک وفد نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس "واضح گائیڈ لائن" کا علمبردار ہے جو دنیا کو ایک نئی ترتیب دینے کی خواہش مند ہے۔ اس وفد میں صدر ٹرمپ کے معتمدِ خاص سٹیو وٹکوف اور مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ معاملات کے ماہر جیرڈ کشنر کی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ امریکہ اس بار پاکستان کی ثالثی پر مکمل بھروسہ کر کے نکلا ہے۔
دوسری جانب، برادر ملک ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد، جس کی قیادت سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، پہلے ہی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال چکا ہے۔ ان دو متضاد طاقتوں کا ایک ہی شہر میں ہونا پاکستان کی اس "سافٹ پاور" کا ظہور ہے جس کا خواب دہائیوں سے دیکھا جا رہا تھا۔
اس عظیم سفارتی کامیابی کے پیچھے ایک مربوط اور انتھک محنت کارفرما ہے۔ نور خان ایئر بیس پر جب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مہمانوں کا استقبال کیا، تو یہ محض ایک پروٹوکول نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی امن کے مشن پر ایک پیج پر ہے۔ عام شہری وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی انتھک کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قیادت نے پاکستان کو جیو پولیٹیکل بحرانوں سے نکال کر ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں اب دنیا ہمیں "مسائل کا حصہ" نہیں بلکہ "حل کا مرکز" تسلیم کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ "دنیا سب سے طاقتور ری سیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے"، دراصل پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کا اعتراف ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ ایک ایسا ذمہ دار ملک ہے جو عالمی امن کے لیے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ سپیکر ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مہمانوں کی میزبانی کے بہترین انتظامات نے پاکستان کے مہمان نواز اور پرامن چہرے کو دنیا بھر میں روشن کر دیا ہے۔
آج اسلام آباد محض پاکستان کا دارالحکومت نہیں، بلکہ یہ کرہ ارض کی امیدوں کا محور ہے۔ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی ٹیم اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو اگر منطقی انجام تک پہنچتی ہے، تو اس کا سہرا بلاشبہ پاکستان کی موجودہ قیادت کے سر جائے گا۔
پاکستان نے آج اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ    ہم امن کے سفیر ہیں، ہم دنیا کو جوڑنے والے ہیں، اور ہم وہ پاکستان ہیں جس پر آج پوری دنیا کو ناز ہے۔

مزیدخبریں