گزشتہ کالم اپنے مختلف شعبوں کے ” ہیروز“ خاص طور پر اپنے فنکاروں کی ناقدری بارے میں نے لکھا تھا، یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے، اب اس کی انتہا ہوگئی ہے، برسوں پہلے میری صحافت کی ابتدا تھی میں ایک بار اپنے دوست پولیس افسر سے ملنے گیا، میں نے دیکھا اس کے دفتر کے باہر اس سے ملنے والوں کا رش لگا ہے، اس رش میں ایک شناسا چہرہ بھی مجھے دکھائی دیا، میں نے غور سے دیکھا وہ ہمارے ملک کے نامور گلوکار مہدی حسن تھے، میں نے ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کراپنا تعارف کروایا اور ان سے پوچھا ”آپ کیوں یہاں بیٹھے ہیں ؟ “وہ بولے ”میرا ایک بیٹا پولیس میں ہے اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے اسے معطل کر دیا گیاہے اس کی انکوائری اس پولیس افسر کے پاس ہے، میں نے چٹ اندر بھجوائی ہے مگر ایک گھنٹہ گزر گیا ابھی تک انہوں نے اندر نہیں بلایا، باہر کھڑا کانسٹیبل کہہ رہا ہے ”صاحب ایک بہت ضروری میٹنگ میں مصروف ہیں فارغ ہو کرہی آپ سے ملیں گے، میں اصل میں ان سے مل کر گزارش کرنا چاہتا ہوں کوئی گنجائش نکلتی ہے میرے بیٹے کو وہ معاف فرما دیں“۔۔ میں جب اس پولیس افسر کے کمرے میں گیا، میں نے دیکھا وہ ایک انتہائی خوبصورت اور جوان” میٹنگ“ کے ساتھ مصروف تھا، میں نے اس سے کہا”تمہیں پتہ ہے تم سے ملنے باہر کون بیٹھا ہے ؟“، کہنے لگا”بہت سے لوگ ہیں ایک گویے (گلوکار ) کی چٹ بھی آئی ہوئی ہے، میں نے کہا ”کچھ شرم کرو، تمہیں تمہارے محکمے میں کوئی نہیں جانتا اور ایک ایسے شخص کو تم نے باہر بٹھایا ہوا ہے جسے دنیا جانتی ہے“، میں نے اس سے کہا”اب تم میرے ساتھ باہر چل کر بڑے ادب احترام سے انہیں اندر لے کر آواور ان سے کہو ”مجھے تو آپ کی آمد کا پتہ ہی نہیں چلا ورنہ میں باہر آکر آپ کا استقبال کرتا بلکہ خود آپ کے گھر آجاتا“، میں نے کہا”تم اگر میری یہ بات نہیں مانو گے میں تم سے اپنا تعلق ختم کر لوں گا“، میرے سخت لب و لہجے سے وہ گھبرا گیا، اس کے پاس بیٹھی اس کی جوان اور خوبصورت”میٹنگ“ اس سے بھی زیادہ گھبرا گئی اور فوراً وہاں سے کھسک گئی، اس کے بعد اس پولیس افسر نے ویسے ہی کیا جیسے میں نے اس سے کہا تھا، مہدی حسن صاحب کو لنچ کرایا اور ان کا کام بھی کر دیا، فنکاروں کی یہ نا قدری آج بھی جاری ہے، البتہ کچھ فنکارائیں اپنے فن سے ہٹ کر اپنی” خصوصی خدمات“ پر اتنی قدر پاتی ہیں انہیں ایوان صدر بلا کر بڑے بڑے ایوارڈز اور قومی اعزازات سے نوازا اور شہبازا جاتا ہے، اب تو ہمارے بڑے بڑے افسران کو ترقیاں بھی ایسی ہی”خصوصیات و خدمات“ پر ملتی ہیں، حال ہی میں گریڈ بائیس میں ترقی پانے والے ایک افسر وزیراعظم سے زیادہ اپنی بیگم کے ممنون ہیں، ہمارے فنکار بڑے حساس ہوتے ہیں، آج ہمارے قومی اعزازات کی جو ناقدری ہے، یا جو بندر بانٹ ہے ان حالات میں جینﺅین فنکاروں کو اول تو کوئی ایوارڈ یا کوئی قومی اعزاز کسی نے دینا نہیں، ان کے ناموں کے اعلان اگر کر بھی دئیے جائیں وہ لینے سے انکار کر دیں گے جیسے اگلے روز ایک ریٹائرڈ افسر نے کہا ہے”ان کا جی چاہتا ہے وہ اپنا قومی ایوارڈ واپس کر دیں“، ہماری ناقدریوں کا شکار ہمارے فنکار صرف حساس نہیں دل کے بھی بہت اچھے ہوتے ہیں، آج صبح ہمارے فن کی ملنگنی اداکارہ ریشم مجھے ایک واقعہ سنا رہی تھیں، ان کا اور ان کی فیملی کا ملکہ ترنم نور جہاں سے بہت ذاتی تعلق تھا، ایک بار میڈم نورجہاں نے ریشم کی بہن شمیم بی بی سے کہا ”آج کراچی کے لئے میری فلائٹ ہے تم نے مجھے ائرپورٹ چھوڑ کے آناہے“، شمیم جی جب میڈم نور جہاں کے گھر پہنچی، ائرپورٹ رخصتی سے عین پہلے میڈم جی نے اپنی پرانی ملازمہ بانو کو کسی بات پر سخت برا بھلا کہا، ابھی وہ آدھے راستے میں تھیں شمیم بی بی سے کہنے لگیں ”گھر واپس چلو“، انہوں نے پوچھا”کیا ہوا کوئی چیز بھول گئی ہیں ؟ وہ کہنے لگیں ”چیز نہیں بھولی بس میرا دل برا ہوگیا ہے، میں نے بانو کو بہت ڈانٹا، مجھے ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا، مجھے اس سے معافی مانگنی ہے“، شمیم بی بی نے کہا”میڈم آپ کی فلائٹ نکل جائے گی یہ کام آپ واپس آ کے کر لیجئے گا“ مگر میڈم نہیں مانی، ان کی فلائٹ مس ہوگئی اور وہ شام کو دوسری فلائٹ لے کر کراچی پہنچیں، یہیں سے آپ اندازہ لگا لیں وہ کتنی بڑی عورت تھیں، ایسی بڑی فنکارائیں اور فنکار اب بھی ہیں، مگر اس کرپٹ اور کریمینل معاشرے نے اب اپنے کتے اور کھوتے پال لئے ہیں، وہ الگ اپنی دنیا بنا رہے ہیں،پچھلے دنوں ٹک ٹاک کے ایک ” گٹری کیڑے “ نے ہماری عظیم فنکارہ بشریٰ انصاری کے بارے میں بکواس کی، ا±س سے پہلے ایسے ہی دوسرے ایک کیڑے نے ہمارے ایک اور باصلاحیت فنکار فہد مصطفی کے بارے میں بکواسا کہ “وہ کون ہے ؟ میں ا±سے نہیں جانتا“، یہ کہہ کے فہد مصطفی کی ا±س نے عزت ہی بڑھائی ہے، کیونکہ فہد مصطفی اور بشریٰ انصاری کو صرف پڑھے لکھے اور اچھے لوگ جانتے ہیں، گٹر کے کیڑے نہیں جانتے، گٹر کے کیڑے صرف اپنے جیسے حشرات کو ہی جانتے ہیں، مجھے افسوس اس بات کاہے اپنے ان عظیم فنکاروں کو بے عزت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے گٹر کے ان کیڑوں کی کسی نے اس انداز میں مذمت نہیں کی جس سے د±نیا کو پتہ چلتا پاکستانی معاشرہ اپنے ہیروز کو بے عزت کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے، دوسروں کو چھوڑیں خود فنکاروں کی طرف سے کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں ہوا، ایک لحاظ سے فنکاروں نے احتجاج نہ کر کے اچھا ہی کیا، ممکن ہے ایسی صورت میں حکمران انہیں گرفتار کر لیتے کہ یہ فنکار ہم جیسی خصلت رکھنے والے ٹک ٹاکروں کے خلاف احتجاج کرنے والے ہوتے کون ہیں ؟ گندگی اور فساد پھیلانے والے ان ٹک ٹاکری کیڑوں نے اپنی فطرت سے باز نہیں آنا، مگر ان کا انجام ب±را ہے، ایسے ہی ایک ٹک ٹاکر کے دانت میں درد نکل آیا، ڈینٹسٹ کو چیک اپ کروا کے واپس آیا ماں نے پوچھا”کیا کہا ڈینٹسٹ نے ؟“، کہنے لگا ”ڈینٹسٹ نے کہا ہے تمہارے دانت میں کیڑا ہے “، ماں بولی”ڈینٹسٹ نے بیماری ٹھیک مگر جگہ غلط بتائی ہے“۔
عظیم فنکار اور کچھ ٹک ٹاکری کیڑے
09:36 AM, 12 Apr, 2025