یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے 

09:33 AM, 12 Apr, 2025

روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے؟ ایک ایک تنکے سے آشیاں بناتے ہیں۔ خوشبوئیں پکڑنے میں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں۔ یہ چند لائنیں امجد اسلام امجد مرحوم کی مشہور نظم ”سیلف میڈ لوگوں کا المیہ“ کا اقتباس ہیں جو ہمارے دوست میجر شفیق رندھاوا (ریٹائرڈ) کی زندگی کی جدوجہد کی تصویر کشی کرتی ہیں جو آج کل اپنی شریک حیات کی رحلت کے سانحہ سے نبرد آزما ہیں۔ ویسے تو میجر ان کے نام کا حصہ بن چکا ہے لیکن میں انہیں بغیر کسی تکلیف یا بناوٹ کے رندھاوا صاحب کہتا ہوں کیوں میری ان کے ساتھ اس وقت سے شناسائی ہے جب ہم دونوں ایف ایس سی کے کلاس فیلو تھے اور ڈاکٹر بننا چاہتے تھے ان کے ساتھ رفاقت بقول شاعر
یہ نصف صدی کا قصہ ہے
دو چار برس کی بات نہیں 
زندگی کی ریل گاڑی میں سٹیشن متعین نہیں ہوتے۔ وقت بدلا اور گردش ایام کی رفتار اتنی تیز تھی کہ شہر میں جا کر پڑھنے والے خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ اسی اثناءمیں ہم وطن بدر ہوئے اور ایسے ہوئے اور یہ خود ساختہ ملک بدری ایسی سنگین تھی کہ ہمیں اپنی خبر نہیں یارو تم زمانے کی بات کرتے ہو۔ زندگی کا بہترین حصہ دیار غیر میں گزارنے کے بعد وطن واپسی ہوئی تو احساس ہوا کہ پرانے لوگ کہاں چلے گئے کوئی بھی اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ 
یہ حسن اتفاق ہے کہ پھر ایک دن اچانک رندھاوا صاحب سے ہمارا سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا۔ وقت کی دھند کلیئر ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ ہیں۔ ہم دونوں کا آبائی علاقہ فیصل آباد ہے لیکن 40 سال کے بعد جب ملاقات ہوئی تو اس وقت وہ گوجرانوالہ میں اور ہم لاہور میں سکونت پذیر تھے۔ 
"We donot meet people by accident, they are meant to cross our path for a reason". 
انگریزی میں کہتے ہیں کہ ہمارالوگوں سے ملنا حادثاتی نہیں ہوتا اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہماری یہ ملاقاتیں رشتہ داری میں بدل گئیں جب ڈاکٹر جویریہ فرخ اور ان کے بیٹے کیپٹن امیر علی رندھاوا رشتہ¿ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ وہ اب میجر ہیں۔ 
میجر شفیق رندھاوا صاحب اور میں اب سمدھی بن چکے تھے لیکن ہماری باہمی وابستگی میں رشتے داری سے زیادہ پرانی تعلق داری اور دوستی غالب تھی۔ فیملی معاملات اور In-Laws ایشوز ہماری بیگمات ڈیل کرتی تھیں۔ پھر اچانک ان کی اہلیہ بیمار ہو گئیں ڈاکٹروں نے کینسر تشخیص کیا جو بعد میں برین کینسر کی شکل اختیار کر گیا محترمہ بھابھی صاحبہ انتہائی ملنسار اور نیک دل خاتون تھیں انہوں نے جس بہادری سے بیماری کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب لاہور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں oncologist کے سامنے ان کی رپورٹ رکھی گئی تو لیڈی ڈاکٹر نے رپورٹ کو دیکھا پھر مریض کے چہرے کو دیکھا اور کہا کہ آپ کے ساتھ کون آیا ہوا ہے ان کو اندر بلائیں تو بھابھی صاحبہ نے کہا کہ آپ نے جو کچھ بتایا ہے وہ مجھے ہی بتا دیں میں اس کے لیے تیار ہوں۔ انسان رخصت ہو جاتے ہیں لیکن ان کی باتوں کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے ان کی اس بات کا میں عینی شاہد ہوں کیونکہ جب ڈاکٹر نے انہیں یہ Diagnosis بتایا تو میجر رندھاوا صاحب اور میں ہم دونوں ڈاکٹر کے کمرے کے باہر موجود تھے۔ اتنی بڑی آفت کا سن کر اپنے آپ کو نارمل رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ 
زندگی اور موت کی طویل کشمکش میں انہوں نے بیماری کا بہادری سے مقابلہ کیا کبھی سی ایم ایچ راولپنڈی کبھی سی ایم ایچ لاہور انہوں نے تیمار داروں کو یہی کہا کہ الحمد للہ میں ٹھیک ہوں۔ یہ ان کے حوصلے اور ہمت کا نقطہ کمال تھا۔ رندھاوا صاحب نے اپنی اہلیہ کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سی ایم ایچ کی مفت علاج کی سہولت کو چھوڑ کر مہنگے ترین پرائیویٹ علاج کے علاوہ روحانی علاج بھی آزمایا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ 
دنیا کی ناپائیداری کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے پیاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے قدم بہ قدم اپنے خالق حقیقی اور اپنے ابدی مقام کی طرف لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہے ہوتے ہیں مگر آپ لاچار و بے بس اور مجبور ہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ انسان موت سے ڈرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے چھوٹے بچے اندھیرے میں جانے سے ڈر جاتے ہیں اس کی شاید ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے بچوں کو ڈرا رکھا ہے کہ اندھیرے میں جن بھوت ہوتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی موت اتنی ہی فطری اور نارمل ہے جتنی کہ اس کی پیدائش۔ یہ آمد اور روانگی دونوں اللہ کے فیصلے ہیں جس پر سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ شاعر مشرق نے کہا ہے کہ 
موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی 
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی 
موت دنیاوی زندگی کی شام مگر یہ اس سے اگلی ہمیشہ رہنے والی زندگی کا نقطہ¿ آغاز ہے جس کا ہمیں شعور ہی نہیں ہے۔ اسی مفہوم کو علامہ صاحب نے ایک دوسرے پیرائے میں یوں رقم کیا ہے 
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں 
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی 
میجر شفیق رندھاوا صاحب نے اس طویل آزمائش کے دور میں حد درجہ استقامت سے ثابت کر دیا کہ وہ ایک ذمہ دار شوہر اور اپنے نام کی طرح انتہائی شفیق باپ ہیں ایک طرف اہلیہ کی بیماری اور دوسری طرف اس بحرانی کیفیت میں اپنے بچوں کو دیکھ بھال اور انہیں Emotional سپورٹ فراہم کی اور انہیں ماں کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ دنیاوی رشتے چاہے پہاڑوں سے زیادہ مضبوط کیوں نہ ہوں یہ ٹوٹ جاتے ہیں بلکہ یہ تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ سب نے ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ ایک Love Story تھی جو اللہ کے دیئے ہوئے سکرپٹ اور دورانیے پر ختم ہوئی۔ 
اللہ رب العزت مرحومہ کی خطائیں معاف کرے اور اپنے خاوند کی عمر بھر کی اطاعت شعاری کے طفیل انہیں آخرت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور رندھاوا صاحب اور ان کے بچوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

مزیدخبریں