ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، انسانی اسمگلنگ میں ملوث پاکستانیوں کے خلاف گھیرا تنگ

08:21 PM, 11 Apr, 2025

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے انسانی اسمگلنگ اور غیرقانونی بیرونِ ملک سفر میں ملوث افراد کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 53 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹس بلاک کر دیے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق زیادہ تر افراد رواں برس مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیے گئے، جن پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی راستے (ڈونکی رُوٹ) سے ملک سے باہر گئے تھے۔

حکام کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہزاروں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا، جن میں سے 45 ہزار افراد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سے جلا وطن کیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ پچھلے دو برس میں 400 سے زائد پاکستانی کشتی حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ چار ہزار سے زیادہ افراد کو ایران کی سرحد پر گرفتار کیا گیا۔

ایف آئی اے نے ان افراد کی مکمل معلومات امیگریشن اور پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو مہیا کر دی ہیں۔ مزید یہ کہ 1,500 افراد مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے 3 ہزار افراد کے خلاف مقدمات قائم کر دیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے انٹرپول سے رابطہ کر کے انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز کو واپس لانے کی درخواست بھی کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد انسانی اسمگلرز کی واپسی کے لیے سات ممالک کو 36 باہمی قانونی معاونت کی درخواستیں (MLA) بھیجی گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے نے ایران، سعودی عرب، اسپین، اٹلی، یونان، عمان اور یو اے ای میں اپنے دفاتر کھولنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔

مزیدخبریں