اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جسٹس باقر علی نجفی کو سپریم کورٹ میں شامل کرنے کی منظوری نہ صرف ایک اہم عدالتی تقرری ہے بلکہ یہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے منظرنامے میں تبدیلی کی غمازی بھی کرتی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب عدالت عظمیٰ کو نہ صرف اندرونی طور پر ہم آہنگی کی ضرورت ہے بلکہ اہم آئینی مقدمات میں مستقل اور تجربہ کار رائے کی بھی۔ جسٹس نجفی، جن کا کیریئر کئی حساس اور پیچیدہ مقدمات پر محیط ہے، عدلیہ میں ایک متوازن اور قانونی بصیرت رکھنے والے جج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی اس نشست میں مختلف ریٹائرڈ ججز کی شمولیت بھی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ادارہ مستقبل میں مزید شفافیت اور مشاورت کے اصول پر چلنے کو تیار ہے۔
جسٹس شجاعت علی خان سے متعلق ریمارکس کو حذف کرنے کا فیصلہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمیشن اب احتیاط اور ادارہ جاتی احترام کو مقدم رکھ رہا ہے۔
یہ تقرری نہ صرف عدلیہ کی فعالیت میں اضافہ کرے گی بلکہ مستقبل کے عدالتی فیصلوں میں جسٹس نجفی کی بصیرت اپنا اثر چھوڑ سکتی ہے۔