یونیورسٹیوں میں تحقیق کے ثمرات اور مسائل

09:28 AM, 11 Apr, 2025

ریسرچ کے سوشل امپیکٹ (Social Impact)سے مراد وہ مثبت یا منفی تبدیلیاں ہیں جو کسی تحقیق (ریسرچ) کے نتیجے میں معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ اثرات افراد، کمیونٹیز، پالیسیوں، سماجی رویّوں، یا روزمرہ کی زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔ 
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ریسرچ کا سوشل امپیکٹ بیحد اہم ہے۔ اس کی مدد سے غربت، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی، اور گورننس جیسے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ریسرچ گراؤنڈ ریئلٹی پر مبنی ہو، تو حکومت اس کی بنیاد پر مؤثر پالیسیاں بنا سکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کے کلچر کو بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ جدید ممالک کی یونیورسٹیوں میں ریسرچ کا سوشل امپیکٹ (Social Impact)پیدا کرنا ایک منظم اور مربوط عمل ہے، جس کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوتا ہے۔
یونیورسٹیاں اپنی تحقیق کو پالیسی ساز اداروں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں تاکہ تعلیمی، ماحولیاتی معاشی اور صحت سے متعلق پالیسیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے NHS (National Health Service ) کے ساتھ مل کر صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ ایسے ہی یونیورسٹیاں انڈسٹریز اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر تحقیقی پراجیکٹس کرتی ہیں جن کا مقصد حقیقی دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔جرمنی میں یونیورسٹیوں اور SME (سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز) کے اشتراک سے ٹیکنالوجی میں جدت آئی ہے۔تحقیق کے ذریعے سوشل انٹرپرائزز کو فروغ دیا جاتا ہے جو کہ معاشرتی مسائل جیسے غربت، تعلیم اور ماحولیاتی آلودگی پر کام کرتی ہیں۔ایسے ہی سویڈن میں کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی سٹارٹ اپس کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی تھی جس سے بہت سے فوائد حاصل کیے گئے۔
تحقیق کو عام لوگوں کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ رسائی بنایا جاتا ہے تاکہ عوام بھی ان نتائج سے فائدہ اٹھا سکے۔ امریکہ میں پبلک ہیلتھ ریسرچ کی معلومات آن لائن فراہم کر کے ابتدا میں COVID-19 سے نمٹنے میں مدد ملی۔
برطانیہ میں ریسرچ ایکسیلنس فریم ورک (REF) 76 %ریسرچ کو "ورلڈ لیڈنگ" یا "انٹرنیشنل ایکسیلنس" قرار دیا گیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ویکسین ڈیولپمنٹ میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے COVID-19 کے دوران دنیا بھر میں کروڑوں جانیں بچیں۔دنیا بھر میں اسکی کئی بلین خوراکیں دی جا چکی تھیں، جن میں سے 66% کم آمدنی والے ممالک کو گئیں۔ امریکہ سٹین فورڈ یونیورسٹی اور سلیکون ویلی کے ٹیکنالوجی اور انوویشن کی تحقیق سے پیدا ہونے والے سٹارٹ اپس (مثلاً Google, Cisco, HP) نے عالمی سطح پر معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لائے۔  Stanford- affiliated کمپنیوں کی مجموعی مالیت $2.7 ٹریلین سے زیادہ ہے۔ان کمپنیوں نے 50 لاکھ سے زائد نوکریاں پیدا کی ہیں۔ جرمنی Fraunhofer Society کے پروگرام جیسے کہ اپلائیڈ ریسرچ نے حیرت انگیز نتائج پیدا کیے ہیں۔Fraunhofer Institute   ٹیکنالوجی کی ایجاد MP3 جو آج بھی دنیا بھر میں استعمال ہو رہی ہے۔اس نے تعلیم، میڈیا، اور تفریحی صنعت میں ڈیجیٹل رسائی کو آسان بنایا۔یہاں تحقیق پر سالانہ €2.8 بلین خرچ کیے جاتے ہیں، جس کا بڑا حصہ پرائیویٹ سیکٹر سے آتا ہے، جس سے تحقیق اور صنعت کے درمیان پل مضبوط ہوتا۔ COVID-19 کے دوران ٹورنٹو یونیورسٹی نے مقامی پالیسی سازوں کو ڈیٹا اور ماڈلز فراہم کیے۔ اس سے لاک ڈاؤن میں بھی مدد ملی اور کمیونٹی لیول پر اموات اور انفیکشن کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی۔ 
اسی طرح میلبورن یونیورسٹی کی ریسرچ نے مقامی کسانو کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پالیسی حل فراہم کیے۔ جن سے پانی کے بہتر استعمال میں 20% بہتری آئی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ ایسی ان گنت مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ آج کی جدید دنیا میں یونیورسٹیوں سے پیدا کردہ تحقیق نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہماری جامعات کی تحقیق کا سوشل امپیکٹ کتنا رہا ہے اور ہمارے ملک میں پائے جانے والے مسائل حل کرنے میں ان تحقیقی اداروں نے کتنا کردار ادا کیا ہے؟۔ پاکستان میں پائے جانے والی زیادہ تر تحقیق اور سہولیات باہر سے امپورٹ کی گئی ہیں۔ ہم دیگر درآمدات کی طرح سے تحقیق اور علم کے بھی صارف بن کر گزارا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں یونیورسٹیوں میں ملازمت کا بنیادی ڈھانچہ، پروموشن کا طریقہ کار اور وسائل کی تقسیم بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی زبان کا مسئلہ بھی سوچنے اور سیکھنے کے عمل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اکثر یونیورسٹیوں کے وسائل ملازمین کی سیاست کی نذر ہو رہے ہیں اور ان میں بہت سے اداروں کی تمام تر افرادی قوت دھڑے بندیوں میں صرف ہو رہی ہے۔ بظاہر بہت سی جامعات میں ریسرچ پیپر لکھے جا رہے ہیں جن میں اکثر دنیا کے بڑے امپیکٹ فیکٹر رکھنے والے جرائد میں بھی شامل ہو جاتے ہیں لیکن ان میں سے خال خال ہی کوئی ہماری ضروریات اور مسائل کے حل کے لیے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ در اصل یہاں کے اکثر محققین کو ریسرچ پیپرز کا میکانکی طریقہ معلوم ہے جس سے ایک ہی نوعیت کی تحقیق کی بھرمار کی جا سکتی ہے۔ سائنس تو سائنس، سوشل سائنس یا آرٹس کے میدان میں کی جانے والی تحقیق سے سوسائٹی کو آج تک کتنا فایدہ ہوا ہے ؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ 
ہمارے تحقیقی اداروں میں بنیادی اور بعض ثانوی نوعیت کی تبدیلیوں کی مدد سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ جیسے ان میں تقرری کے پراسس کو زیادہ بہتر کیا جائے اور ایسے امتحانات لیے جائیں جو ملازمت کی مطلوبہ صلاحیت کو پرکھنے میں مدد دیں۔ اسی طرح پروموشن کے لیے مرکزی سطح پر ایک خود کار نظام قائم کیا جانا چاہیے جو کسی بھی طرح ملازمین کی دھڑے بندیوں سے متاثر نہ ہو سکے۔ یونیورسٹیوں کو انڈسٹری اور سوسائٹی سے ہنگامی بنیادوں پر جوڑا جائے اور مختلف سروے کروا کر اپنے مسائل اور ضروریات کی بنیاد پر کورس ڈیزائن کر کے ان پر تحقیقی مقالے تفویض کرنے چاہیں۔ تحقیق کے سوشل امپیکٹ کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ اگر تحقیقی اداروں میں تخلیقی سرگرمیاں وجود نہیں پا رہیں تو علم کی پیدائش کا عمل ممکن نہیں ہے۔ لہذا تحقیقی اور تخلیقی ماحول کے قیام کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں تا کہ ہماری یونیورسٹیاں بھی ملک اور انسانیت کی ترقی اور بہتری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ 

مزیدخبریں