گزشتہ روز ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد کو ایک بس نے کچل دیا جس میں 11 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ بد قسمت خاندان چنگ چی رکشہ پر سوار تھا پیچھے سے آنے والی تیز رفتار بس رکشہ کو روندتی ہوئی گزر گئی۔ رکشہ میں سوار فیملی عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس جا رہی تھی۔ آج ہمارے ہاں چنگ چی رکشہ دردِ سر بنتا جا رہا ہے جو پولیس کی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے چنگ چی رکشوں نے ایک باقاعدہ کلچر کو فروغ دیا ہے جو کہ مسافروں کے لئے انتہائی خطر ناک سواری ہے کیونکہ 70سے 100ہارس پاور کے انجن پر جنگلا نصب کر کے اس پر سیٹیں لگا دی گئی ہیں جو انسانی جانوں کے لئے کھلا خطرہ ہیں۔ اوور اسپیڈنگ کے باعث یہ رکشے دن رات سڑکوں پر الٹے پڑے نظر آتے ہیں جس کے باعث روزانہ درجنوں افراد زخمی ہوتے یا ان ناعاقبت اندیش رکشہ ڈرائیورز کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب سے چنگ چی روڈ پر آیا ہے اس سے پیدا ہونے والے خطرات کا بہت واویلہ کیا جا رہا ہے لیکن ہمارے اربابِ اختیار نے ہر معاملے میں یہ وطیرہ ہی بنا لیا ہے کہ کسی مسئلہ کے سدھار کے کے لئے آغاز میں قانون حرکت میں نہیں آتا بلکہ دانستہ آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں جب وہ مسئلہ اپنی جڑیں گہری کر لیتا ہے تو پھر اس پر توجہ دی جاتی ہے اور یہ پہلو تہی اکثر معاشرے کے لئے خاصی مہنگی ثابت ہوتی ہے ۔ یہی حال اب چنگ چی رکشوں کا ہے ملک میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں رکشے آ گئے ہیں انہوں نے ہر شہر میں اپنی مربوط انجمنیں بنا لی ہیں اور جہاں ان کی مرضی کے خلاف کچھ ہو جائے تو یہ سب اکٹھے ہو کر احتجاج شروع کر دیتے ہیں، جو اکثر اوقات روڈ ز کو بلاک کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ عوامی مفاد میں انہیں منظم قوانین کے تابع کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
بچپن میں ہم دیکھا کرتے تھے کہ ڈبل ڈیکر بسیں اور ٹانگے مسافروں کو شہر کے اندر سفر کی سہولت مہیا کرتے تھے۔ ٹانگے تو اب بھی چل رہے ہیں لیکن ڈبل ڈیکر بسیں متروک ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ منی بسوں اور ویگنز نے لے لی ہے۔ آج سے تقریباً دو تین دہائیاں قبل موٹر سائیکل کو جنگلا لگا کر چنگ چی رکشہ متعارف کروایا گیا اور آج صورحال یہ ہے کہ آپ کسی بڑے شہر، قصبے،حتی ٰ کہ کسی گاؤں میں بھی جائیں توآپ کو ہر طرف چنگ چی رکشے سواریاں یا سامان لاد کر رواں دواں نظر آئیں گے۔ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادیوں کے ساتھ ساتھ جہاں دوسرے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں ٹریفک کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرائے، بسوں میں مسافروں کا اژدھام، پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور محدود وسائل کا شکار عوام ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے سستی سے سستی سواری کے متلاشی رہتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے اس مسئلہ کا حل چنگ چی کی صورت میں ہوا ہے۔ اب تو سامان کی باربرداری کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر اب یہ رکشے شہریوں کے لئے زحمت بھی بنتے جا رہے ہیں۔ لوگ چند روپے خرچ کر کے اس عوامی سواری سے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے ہیں، ان کے لئے تو یہ رحمت ہیں لیکن سڑک پر موجود دوسری ٹرانسپورٹ کے لئے باعثِ زحمت بھی ہیں۔ انہیں اپنے مسافر اتارنے اور بٹھانے کے لئے کسی اسٹاپ کی ضرورت نہیں ، ان کی کوئی سپیڈ لمٹ نہیں، یہ بغیر دائیں بائیں دیکھے جدھر چاہتے ہیں مڑ جاتے ہیں، آپ کو اپنی گاڑی بچانی ہے تو خود ان سے بچیں۔ یہ رکشے اور ان کے مالکان گزشتہ چند سال میں ایک منظم مافیا کا روپ دھار چکے ہیں۔ ان میں زبردست اتحاد ہے، سڑک پر ایک رکشہ ڈرائیور سے آپ کی بحث ہو جاتی ہے تو اس چنگ چی والے کی حمایت میں سڑک سے گزرنے والے تمام چنگ چی ڈرائیور کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے ساتھی کی جائز ناجائز حمایت شروع کر دیتے ہیں اور آپ کو خو اپنی جان بچانی مشکل نظر آنے لگتی ہے۔ سواریوں سے راہگیروں اس بہودہ زبان میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ یہ سستی اور عوام دوست سواری اپنی افادیت کا ناجائز فائدہ شہریوں سے اٹھا رہی ہوتی ہے اس تین پہیوں والی خطرناک سواری ہے، یہ رکشے کا رکشہ اور موٹر سائیکل موٹر سائیکل ہے، ہاتھ میں ہینڈل ہونے کی وجہ سے اس کو موٹر سائیکل سمجھتے ہوئے موڑتے رہتے ہیں جب کہ پیچھے پوری گاڑی لگی ہوتی ہے جس میں کار سے بھی زیادہ سواریاں بیٹھی ہوتی ہیں۔ اس طرح گھماتے ہیں کہ دوسری گاڑیوں کو بچنا محال ہو تا نظر آتا ہے۔ ہائی ایس وین کی طرح سواریاں اٹھانے کے لئے اپنے ساتھی ڈرائیورں کے ساتھ دوڑیں لگا رہے ہوتے ہیں اس بات کا خیال بھی نہیں کرتے کہ اس میں کتنی سواریاں بیٹھی ہیں، اس طرح یہ جگہ جگہ الٹے ہوئے ملتے ہیں۔ چونکہ ٹائر اور بریکیں موٹر سائیکل کی ہوتی ہیں اس لئے ایمر جنسی میں لگائی ہوئی بریک پر اس کا رکنا بڑا مشکل ہوتا اس طرح بریک کے کام کرنے تک اگلی گاڑی سے جا ٹکراتا ہے۔ چنگ چی رکشے میں بظاہر 6سواریاں بٹھانے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن پائیدان سمیت اس موٹر سائیکل رکشے کی ٹینکی پر بھی مسافر بخوشی اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آئیں گے۔ سامان کی لوڈنگ کے لئے استعمال کئے جانے والے رکشے اپنی باڈی سے بھی زیادہ سامان لاد لیتے ہیں جو اتنے خوفناک لگ رہے ہوتے ہیں کہ سامنے آنے والی دوسری ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور دیکھ کر نروس ہو رہے ہوتے ہیں۔ چنگ چی کے زیادہ تر ڈرائیور کم عمر ہوتے ہیں جن کی عمریں 14سے لے کر17سال تک ہوتی ہیں، کئی ایک تو اس سے بھی چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں جنہیں 300یا 400روپے دیہاڑی پر رکشے مل جاتے ہیں۔ یہ ڈرائیور اپنی کم عمری کی وجہ سے کسی قاعدے اور قانون کو سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔ 18سال سے عمر کم ہونے کی وجہ سے لائسنس حاصل نہیں کر سکتے، روٹ پرمٹ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ فیصل آباد کے سرکاری ہسپتال کی ایمر جنسی میں تعینات عملہ سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا چنگ چی رکشہ سے ٹکرا کر زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کے مطابق جو بچہ گھر میں نالائق ہوتا ہے اور پڑھنا نہیں چاہتا تو اس کے گھر والے اسے چنگ چی رکشہ خرید دیتے ہیں تاکہ وہ کمانے کے لائق ہو سکے یہی بچے اپنی کم عمری کی وجہ معاشرے کے لئے مصائب کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔
فیصل آباد جان لیواچنگ چی حادثہ: پولیس ذمہ دار
09:28 AM, 11 Apr, 2025