امریکہ، چین اقتصادی جنگ۔ فاتح کون؟

09:26 AM, 11 Apr, 2025

ٹیرف کی جنگ ایک قسم کی تجارتی جنگ ہے جس میں دو یا زیادہ ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر درآمدی محصولات (ٹیرف) بڑھا دیتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ 2018 سے جاری ہے لیکن یہ خاص طور پر رواں سال 2025 میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی مصنوعات پر مجموعی طور پہ 105% یعنی سینکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کر دیے۔ جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر مجموعی طور پہ 85% جوابی ٹیرف لگا دیے ہیں۔ اس پورے عمل نے دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں کو ایک پیچیدہ معاشی تنازعے میں الجھا دیا ہے جس کے اثرات نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
اس جنگ کی بنیاد یہ تھی کہ امریکہ کا الزام تھا کہ چین نا صرف امریکی ٹیکنالوجی چوری کرتا ہے بلکہ وہ کمپنیوں کو سبسڈی دے کر عالمی مارکیٹ میں غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرنا ہے اس کے علاوہ چین پہ یہ بھی الزام ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کو چین مین کاروبار کرنے کے لئے اپنی ٹیکنالوجی زبردستی چین میں منتقل کرنے پہ مجبور کرتا ہے۔ 
یاد رہے کہ ٹیرف ایک قسم کا ٹیکس ہوتا ہے جو کسی ملک میں درآمد ہونے والی اشیاء پر لگایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد غیر ملکی مصنوعات کو مہنگا کر کے اپنی مارکیٹ سے دور رکھنا اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہوتا ہے تاکہ عوام ملکی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ تاہم، جب دو بڑی معیشتیں ایک دوسرے پر مسلسل ٹیرف عائد کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ قیمتوں میں اضافہ، سپلائی لائن میں خلل اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی صورت میں نکلتا ہے۔ امریکہ اور چین کی ٹیرف جنگ نے بھی کئی صنعتوں کو متاثر کیا، جن میں ٹیکنالوجی، زراعت، گاڑیاں، اور الیکٹرانکس شامل ہیں۔ امریکہ نے چین کی متعدد مصنوعات خاص طور پر الیکٹرانک گاڑیوں، سولر پینلز، سٹیل اور دیگر چینی ساختہ مصنوعات پر ٹیرف کا اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات چین کی غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کا جواب ہیں۔جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے اور اپنی کچھ برآمدات پر پابندیاں عائد کی ہیں، خاص طور پر نایاب معدنیات کی برآمد پر، جو سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ہائی ٹیک مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر پابندیوں کے جواب میں ہے۔ ان پابندیوں سے نا صرف عالمی سپلائی چین متاثر ہو گی بلکہ کئی مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی متوقع ہے۔ 
عالمی سطح پہ بھی اس جنگ نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ سرمایہ کار مزید محتاط ہو گئے ہیں، سٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھائو دیکھنے کو مل رہا ہے اور کئی ممالک کو اپنی تجارتی پالیسیوں پہ نظرثانی کرنا پڑی ہے۔ عالمی ادارہ تجارت (WTO) اور دیگر عالمی و بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس جنگ پہ تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس جنگ نے آزادانہ تجارت کے اصولوں کو متاثر کیا ہے۔ 
قرین قیاس یہی ہے کہ دونوں اکنامک طاقتوں کے درمیان جاری یہ جنگ کسی ایک کے لئے بھی فائدہ بخش ثابت نا ہو گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس غیر ضروری اقتصادی جنگ میں امریکہ اور چین دونوں کو مسلسل اقتصادی نقصان ہو رہا ہے، اور نتیجتاً عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ امریکی کمپنیوں کو چینی مصنوعات پر زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ اب چینی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 
یہاں اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس جنگ میں جیت کس کی ہو گی؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسی معاشی جنگ میں کوئی بھی فریق مکمل فاتح نہیں ہو پاتا۔ دونوں ہی ملکوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگرچہ ان کا مقصد دوسرے کو زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔ اس جنگ کے دوران جہاں چین نے اپنی مارکیٹس کو متنوع بنا کر کچھ حد تک نقصان کو کم کیا ہے وہیں امریکہ نے چینی درآمدات پر انحصار کم کر کے اپنی معیشت کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن قیمتیں بڑھنے، صارفین کے اعتماد میں کمی اور سپلائی چین کی پیچیدگیوں نے دونوں ممالک کی ترقی کو سست کر دیا ہے۔
بلا شبہ چین ایک بڑی برآمدی معیشت ہے اور امریکہ ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے، چاہے وہ ٹیکنالوجی کی فراہمی ہو یا مصنوعات کی خریداری۔ جب یہ دونوں ممالک آپس میں تجارتی تنازع میں الجھتے ہیں تو اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر جن کی معیشتیں بڑی حد تک ان بڑی طاقتوں پر انحصار کرتی ہیں۔
عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق تو یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ اس تنازع کا اختتام کب اور کیسے ہو گا۔ کیونکہ امریکہ اور چین دونوں اب بھی ایک دوسرے کو سٹرٹیجک حریف سمجھتے ہیں، اور ایک دوسرے سے اقتصادی میدان میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا مستقبل قریب میں اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ دونوں ممالک اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے سخت موقف اپنانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر مزید پابندیاں اور ٹیرف عائد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ ٹیرف کی یہ جنگ نہ صرف دو اقتصادی قوتوں کی لڑائی ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ یہ جنگ ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ معاشی مفادات کی خاطر اگر طاقتور ممالک ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں تو اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے مستقبل کی پالیسی سازی میں توازن، مکالمہ، اور تعاون نہایت ضروری ہو گا تاکہ عالمی معیشت ایک مستحکم اور پائیدار راستے پر گامزن ہو سکے۔

مزیدخبریں