پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں خراب کارکردگی، پوری ٹیم 133 پر آوٹ

08:39 AM, 10 Sep, 2026

ایجبسٹن :انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر مشکلات کا شکار ہوگئی اور پوری ٹیم پہلی اننگز میں محض 133 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئی۔ سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ قومی ٹیم کے ٹاپ سکورر رہے۔

انگلینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی بلے باز انگلش باؤلرز کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔ سعود شکیل کے علاوہ محمد عباس نے 21 جبکہ رضا اللہ نے 11 رنز بنائے۔

قومی ٹیم کے دیگر بلے باز نمایاں سکور کرنے میں ناکام رہے۔ بابراعظم 7، صائم ایوب صفر، اذان اویس 9، عبداللہ شفیق 3، شان مسعود 5، غازی غوری 4 اور محمد عمران 5 رنز بنا سکے۔

انگلینڈ کی طرف سے جوش نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 4 پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے تیسرے ٹیسٹ کے لیے تین نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا۔ غازی غوری، رضا اللہ اور عمران رندھاوا نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ غازی غوری کو سعود شکیل نے ٹیسٹ کیپ دی، جبکہ رضا اللہ اور عمران رندھاوا کو بالترتیب محمد عباس اور بابراعظم نے کیپ پہنائی۔

تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انگلینڈ کو پہلے ہی 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، اس لیے تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے شکست سے بچنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ادھر کپتان بابراعظم نے ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد کیے گئے فیصلوں میں ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق انہیں تبدیلیوں کا علم بھی براہِ راست نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے باضابطہ اعلان سے ہوا۔

بابراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ سلیکشن نظام کے تحت بطور کپتان انہیں ٹیم سے متعلق اہم فیصلوں اور تبدیلیوں کے بارے میں اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔

مزیدخبریں