لاہور / ملتان:بھارت نے ایک بار پھر بغیر پیشگی اطلاع کے دریائے ستلج میں بڑی مقدار میں پانی چھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع شدید سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن نے بعد میں پاکستانی حکام کو آگاہ کیا، لیکن پانی کا بہاؤ اس قدر تیز تھا کہ کئی علاقوں میں تباہی مچ گئی۔
ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 5 لاکھ 30 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، جو ایک خطرناک حد ہے۔ دریائے ستلج اور چناب کے کنارے واقع درجنوں دیہات اور بستیاں زیرِ آب آ چکی ہیں۔ مظفرگڑھ، ملتان، بہاولپور، لودھراں، کہروڑپکا، خانیوال، اور جلالپور پیروالا جیسے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
کئی جگہوں پر حفاظتی بند ٹوٹ گئے ہیں، سڑکیں بند ہو گئی ہیں، اور ریلوے ٹریک بھی متاثر ہوا ہے۔ درجنوں افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے، جن میں سے کچھ کو بچا لیا گیا جبکہ کئی ابھی تک لاپتہ ہیں۔ علی پور میں آٹھ افراد پانی میں بہہ گئے، جن میں سے ایک بچے کی لاش ملی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو شیر شاہ بند کو توڑنا پڑے گا تاکہ مزید تباہی روکی جا سکے۔ اس فیصلے سے تقریباً 30 ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ کئی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
ریسکیو ادارے، ضلعی انتظامیہ، اور فوج مسلسل امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اب تک تقریباً 21 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 80 ہزار سے زیادہ لوگ ریلیف کیمپس میں رہائش پذیر ہیں۔ سیلاب سے زرعی زمین بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور تقریباً 20 لاکھ ایکڑ زمین پانی میں ڈوب چکی ہے۔
دریائے سندھ میں بھی صورتحال خراب ہو رہی ہے، خاص طور پر گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ 12 گھنٹے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
حکام کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، افواہوں سے گریز کریں اور سیلابی علاقوں سے فوری نکل آئیں۔