آندھیاں آیا ہی کرتی ہیں

09:19 AM, 10 Sep, 2025

کل صبح تک جو ایک ہنستی بستی آبادی تھی، چڑیوں کی چہکار سے شروع ہوتا دن، بچوں کی کلکاریوں سے مہکتا آنگن، پیڑوں کی گھنی چھاؤں تلے حقے کی بیٹھکیں سجاتے بزرگ، اپنے گھروں کے آنگن کو کسی جنت کے باغ سا سجاتی خواتین، اور ان گھروں کی سرپرستی کرتے محنت کش مرد۔۔۔ ایک مکمل منظر۔۔۔ دلکش، حسین، اور روح افزا۔۔۔ آج وہاں ویرانی کے ڈیرے ہیں، آہ و بکا ہے، موت کا سناٹا ہے، گھر ڈوب چکے ہیں، مویشی مر رہے ہیں، انسان جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، کہیں کہیں تو یہ عالم ہے کہ پورے کا پورا گاؤں پانی کی بے رحم موجوں کا نشانہ بن گیا، پورے کے پورے گاؤں میں کوئی تجہیز و تکفین کو نہ بچا، کہیں کسی انسان کی لاش جھاڑیوں میں پھنسی دکھی تو کہیں پانی گھروں کی چھتوں کے اوپر سے ایسے بہنے لگا جیسے یہی اس کا رستہ ہو۔ پانی۔۔۔ تا حدِ نظر پانی۔۔۔ پانی۔۔۔ جو زندگی کی علامت ہے۔۔۔ پانی۔۔۔ جس کے بنا چرند پرند تڑپ تڑپ کر مر جائیں، وہ پانی ایک طرف تو سبھی کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے اور دوسری جانب پینے کے صاف پانی کی قلت کے باعث رفتہ رفتہ انسانوں کو موذی بیماریوں کی گرفت میں جکڑ کر موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ تو کیا یہ آفت پنجاب میں بھی اسی شدت سے آئی؟ ہاں آئی تو سہی لیکن وہاں ان حالات سے نبٹنے کی بھرپور تیاری تھی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں جو کارکردگی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم نے دکھائی اس کی حقیقتاً پاکستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ حالیہ سیلاب میں پنجاب بھر میں صرف اور صرف پچاس اموات ہوئیں، دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پورے کے پورے گاؤں لقمہ اجل بن گئے۔ پنجاب میں 3.5 ملین افراد نے نقل مکانی کی اور تین لاکھ پھنسے ہوئے افراد کو بچایا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا ایک ریکارڈ نمبر ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر عوام کی اس قدر خدمت قابلِ ستائش ہے۔ بات اگر پنجاب کی ہو ہی رہی ہے تو ہم چڑھتے پنجاب کو کیسے بھول سکتے ہیں، ایسے کوئی دل والے، محبتوں کی چاشنی سے لبریز لوگ ہیں پنجابی کہ دلجیت دوسانج نے 20 گاؤں کی کفالت کا ذمہ لیا اور کہا پنجاب زخمی ہے پر ہارا نہیں ہے، منکریت اولک نے پانچ کروڑ روپے کے ساتھ سو ٹریکٹر دئیے۔ جہاں سب مشکل کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا سہارا بن رہے ہیں وہیں کچھ لوگوں کو یہاں سستی شہرت حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ بلاشبہ وزیرِ اعلیٰ کی نگرانی میں پوری مشینری نے بہت پھرتی سے کام کیا لیکن لوگوں کو اداکاری اور فنکاری اتنی زور سے آ رہی ہے کہ الآمان۔۔۔ آپ سوچیے آپ ہسپتال جائیں ایک پرچی کٹوائیں اور ڈاکٹر آپ کا علاج کرنے سے پہلے اپنی سوشل میڈیا ٹیم بلا لے، کیمرہ لائٹس ایکشن۔۔۔ پھر آپ کے مرض کی تشخیص کر کے ویڈیو سوشل میڈیا پہ داد وصول کرنے کے لیے ڈال دے، آپ کیسا محسوس کریں گے؟ عین ممکن ہے کہ آپ تھپڑ جڑ دیں اور ٹک ٹاکری والا کیڑا اپنی موت آپ مر جائے۔ یا سوچیں آپ تھکے ماندے گھر گئے ہیں اور بیگم آپ کی روٹی سامنے رکھنے سے پہلے تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر ڈالے کہ جی آج میں نے حاتم طائی کی قبر پہ لات مار دی، جب ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے علاج کرنا اور معاشرتی روایات کے مطابق بیوی کی ذمہ داری ہے روٹی دینا (معاشرتی روایات اس لیے لکھا کہ فیمنسٹ برگیڈ سے ڈر لگتا ہے) تو ان ذمہ داریوں کی ڈرامے بازی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ مظفر گڑھ کے ڈی سی نے جس دیدہ دلیری سے ڈبے سے نکال نکال کر دو کیلے ایک سیب اور دو روٹیاں ایک خاتون کو دیں اس پہ انسانیت تا ابد شرمندہ رہے تب بھی کم ہے۔ اصول تو یہ بنتا ہے کہ تاحدِ نگاہ پانی سے ڈی سی صاحب ایک چلو بھر لیں اور ڈوب مریں۔ اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ یہ آفت کی گھڑی گزرے تو ذرا ان فنکاروں کے سکریو ٹائٹ کرے۔ آپ نے کبھی ایسی اخلاق سوز اور گھٹیا حرکت کرتے کسی فوجی جوان کو نہیں دیکھا ہو گا، زلزلہ ہو سیلاب ہو طوفان ہو وہ آتے ہیں ڈوبتے کو بچاتے ہیں، گرتوں کو تھامتے ہیں اور چپ چاپ خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں، انہیں تعریف کی لت ہے نہ شہرت کی ہوس، کیونکہ وہ ایک منظم ادارہ ہے۔ اب شاید وہ وقت آ گیا ہے کہ بیوروکریسی کو ٹریننگ کے نام پہ چھری کانٹے سے کھانے اور پینٹ کوٹ پہننے کے ساتھ کچھ اخلاقیات بھی سکھائی جائیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم ان چند سستی شہرت کے بھوکے سستے افسران کی وجہ سے دیگر بہت سے افسران کی کارکردگی کو یکسر نہیں بھلا سکتے۔ اگر کچھ گندے انڈے موجود ہیں تو اس شعبے سے وابستہ فرقان محمد جیسے انمول ہیرے بھی ہیں، جنہوں نے در حقیقت مٹی پہ جان وار دی ہے۔ پروردگار مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ من حیث القوم ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ کون ہمارا اپنا ہے۔ ایک ادارے پہ تنقید سب بصدِ شوق کرتے ہیں، پھر وہی ادارہ آفت کی گھڑیوں میں اپنی جانیں داؤ پر لگا کر عوام کی جان بچانے کو آن موجود ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات کے ہمیں اس مشکل وقت میں نہ حوصلے کا دامن چھوڑنا ہے نہ چالیس لاکھ بے گھر ہوئے اپنے ہم وطن بھائیوں کا ساتھ۔
آندھیاں آیا ہی کرتی ہیں
کڑے وقت کے بعد
دل کی آواز مدھم نہ کرو دیوانو
ہونٹ سل جائیں مگر جرأت اظہار رہے
دل کی آواز مدھم نہ کرو دیوانو۔۔!!

مزیدخبریں