چینی ٹیکنالوجی کا انقلاب اور پاکستان!

09:17 AM, 10 Sep, 2025

گزشتہ تین دہائیوں میں دنیا نے ایک ایسے ملک کو بدلتے ہوئے دیکھا جسے کبھی ’’دنیا کی سستی لیبر مارکیٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔ آج وہی چین، ٹیکنالوجی کے 64 میں سے 57 بنیادی شعبوں میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار آسٹریلین سٹریٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ کے تازہ ترین ٹیک ٹریکر سے لیے گئے ہیں، جو 2019 سے 2023 کے دوران شائع ہونے والی اعلیٰ تحقیقی اشاعتوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ چین کی اس کامیابی کے پیچھے ایک مربوط نظام کار فرما ہے۔ 1978 میں ڈینگ ژاؤ پنگ کی ’’ریفارمز اینڈ اوپننگ اپ‘‘ پالیسی نے ملک کی معیشت کو نئی سمت دی۔ تعلیم، تحقیق، انفراسٹرکچر اور ہنر مندی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ لاکھوں نوجوانوں کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجا گیا اور پھر انہیں واپس لا کر قومی ترقی میں شامل کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1980 کی دہائی میں جو ملک غربت میں ڈوبا ہوا تھا،آج وہ 700ملین سے زیادہ افراد کو غربت سے نکال کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔ اس وقت چینی شہریوں کی قوت خرید امریکی شہریوں سے زیادہ ہے۔ چین نے ٹیکنالوجی کو محض صنعتی پیداوار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی معاشرتی ترقی، غربت کے خاتمے اور دفاعی طاقت میں بھی بنیادی ستون بنایا۔ ہواوے، علی بابا اور بائٹ ڈانس اور سی اے ٹی ایل جیسی کمپنیاں صرف تجارتی ادارے نہیں بلکہ قومی سٹریٹیجک اثاثے ہیں۔ ایڈوانس ریڈیو کمیونیکیشن (5جی،6جی)، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ایڈوانس میٹریل سائنس اور مصنوعی ذہانت جیسے میدانوں میں چین کی تحقیقی برتری نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اس کی ایک جھلک نے(بذریعہ پاکستان) مغربی ٹیکنالوجی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ چین نے ریسرچ کو ’’قومی سلامتی‘‘ کا درجہ دیا۔ ہر یونیورسٹی، ہر ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ہر انڈسٹری کو ایک ہی سمت میں لگایا گیا جس کامقصد قومی خودانحصاری اور عالمی قیادت کرنا تھا۔ چین کے اس سفر نے صرف اسے نہیں بلکہ پورے ایشیا کو ابھرتی ہوئی طاقت بنا دیاہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاسوں میں یہ بات واضح دکھائی دی کہ عالمی نظام کی دھار اب مغرب سے مشرق کی طرف مڑ رہی ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کی قیادت میں یہ تنظیم نہ صرف اقتصادی تعاون بلکہ سلامتی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نئی راہیں کھول رہی ہے۔صدر شی جن پنگ اور صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ریکارڈ ہونے والی ہونے والی گفتگو میں ’’جینیٹک سائنس‘‘ اور ’’انسانی عمر میں اضافے‘‘ جیسے موضوعات کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ ایشیائی قیادت محض عسکری طاقت تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل پر بھی غور کر رہی ہے۔ جب مغرب صرف اسلحہ بیچنے اور جنگی اتحاد بنانے میں مصروف ہے، چین اور روس انسانی زندگی کو بہتر بنانے والی سائنس پر مکالمہ کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں ہائپرسونک ہتھیاروں، ڈرون ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمیونیکیشن میں جو پیش رفت کی ہے، اس نے امریکہ اور نیٹو کو دفاعی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ چین کی ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ اور ایشیائی انفراسٹرکچر بینک نے بھی دنیا کو دکھایا کہ ایشیا اب عالمی سرمایہ کاری اور ترقی کا نیا مرکز ہے۔ ایک وقت تھا جب ایشیا صرف مغرب کی منڈی سمجھا جاتا تھا، مگر آج صورت حال یہ ہے کہ مغربی کمپنیاں بھی چین کے تحقیقی نتائج پر انحصار کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر الیکٹرک بیٹریاں اور سولر پینل میں چین نے اتنی اجارہ داری قائم کر لی ہے کہ یورپ اور امریکہ اپنی گرین ٹرانزیشن پالیسیوں کے لئے بیجنگ کے محتاج ہیں۔چین اور ایشیا کے اس ابھار نے مغرب، خصوصاً امریکہ، کو گہری فکری اور عملی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کبھی دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والا امریکہ آج ٹیکنالوجی کے صرف 7 شعبوں میں قیادت برقرار رکھ سکا ہے، جن میں قدرتی زبان پروسیسنگ، جینیٹک انجینئرنگ، اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل ہیں۔ باقی تمام شعبوں میں چین آگے نکل چکا ہے۔
امریکی سماج میں زوال کے آثار دکھا ئی دے رہے ہیں۔ مہنگائی، سماجی تقسیم، اور سیاسی انتشار نے اس کے اندرونی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، جن میں انہوں نے پہلے روس اور بھارت کے حوالے سے سخت رویہ اپنانے کا عندیہ دیا اور بعد ازاں تاسف کا اظہارکیا کہ ان دونوںممالک کوچین کے ہاتھوں کھو دیا۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ امریکی سیاست میں خوف اور غیر یقینی غالب آچکی ہے۔ یورپ بھی کسی بہتر حالت میں نہیں ہے۔ یوکرین جنگ نے اس کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور توانائی کے بحران نے یورپی اتحاد کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے میں چین کی قیادت میں ایشیائی ممالک ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں مغربی بالادستی کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مغرب کی ’’سپرمیسی‘‘ ڈوب رہی ہے۔ چین کا ٹیکنالوجی انقلاب، روس کی عسکری طاقت، بھارت اور ایران کا شمولیتی کردار یہ سب مل کر ایک ایسے کثیر القطبی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور معیشت کا نقشہ تیزی سے بدل دے گا۔ آج دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی قوم کو غربت سے نکالا بلکہ ٹیکنالوجی اور سائنس میں وہ مقام حاصل کیا ہے جس کا خواب کبھی مغرب دیکھا کرتا تھا۔ شنگھائی 
تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ایشیا کی ابھرتی ہوئی قیادت عالمی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اور مغرب اپنی سماجی، معاشی اور فکری کمزوریوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگلی دہائی سے دنیا ایشیائی صدی میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی نظام اور اس کی قیادت بھی شدید مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بظاہر تو وزیرِاعظم شہباز شریف نمایاں نظر آنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ  ان ممالک کو ہماری طبقاتی سیاست (ہائبرڈ جمہوریت)، کرپٹ معاشی ڈھانچے اور نا انصافی پر مبنی سماجی پالیسیوں کا بخوبی علم ہے۔ ہم آج بھی دو کشتیوں کے سوار ہو کر امریکہ اور چین دونوں کو خوش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمارا ریاستی ڈھانچہ اشرافیہ کے مفادات کا محافظ تو ہے مگر 20 کروڑ سے زائد عوام (80 فیصد) کو غربت اور پسماندگی سے نکالنے کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ موجود نہیں۔ اگر ہم نے عوام کو تعلیم، ہنر، تحقیق اور معاشی ترقی کا راستہ نہ دیا تو ہم ابھرتے ہوئے ایشیا کی صدی کے صرف فوٹو سیشنز کا حصہ تو بن سکیں گے لیکن حقیقی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، طاقت کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو عوامی مفاد کے مطابق نہ ڈھالا تو یہ موقع بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مزیدخبریں