کجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی

09:09 AM, 11 Oct, 2025

احمد جاوید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارکردگی کیا رہی ؟ اس پر میں اگلے کالم میں تفصیل سے بات کروں گا کیونکہ مقتول کے والد میاں عادل رشید نے میرے جذبات کو ابھی تک باندھ کر رکھا ہوا ہے ، اور مجھے وہ تمام حقائق منظر عام پر نہیں لانے دے رہے جو ثابت کرتے ہیں پولیس افسروں کی اکثریت کے جسموں میں دل نہیں پتھر ہوتے ہیں ، اس کیس میں کہاں کہاں ڈنڈی ماری گئی ؟ کس کو ناجائز پکڑا گیا ، پھر اسے کیسے چھوڑا گیا ؟ پولیس ہی کے کچھ مخلص دوستوں نے ساری تفصیل ہمیں بتا دی ہے جس پر ہمیں یقین اس لئے نہیں آرہا کوئی پولیس افسر چاہے کتنا ہی گھٹیا کیوں نہ ہو اس حد تک نہیں گر سکتا، مگر عرض کیا ناں مقتول کے والد نے بہت سے حقائق سے اس وقت تک پردہ نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جب تک پولیس مکمل تفتیش ان کے سامنے لا کر انہیں مطمئن نہیں کر لیتی ، چنانچہ آج میں صرف احمد جاوید کی کچھ خوبیوں اور خامیوں بارے میں ہی عرض کروں گا ، اس کی ایک خوبی یہ تھی وہ اپنے والدین کا بے حد فرمانبردار تھا ،کئی بار ایسے ہوا اس کی کسی غلطی پر اس کے والد اس کے دوستوں کے سامنے اسے اتنا ڈانٹ دیتے تھے مجھے خدشہ رہتا تھا وہ آگے سے کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے باپ بیٹے کے رشتے پر کوئی زد پڑے،مگر وہ ہمیشہ خاموشی سے سب کچھ سنتا رہتا اور بالاآخر یہ کہہ کر اپنی جان چھڑوا لیتا کہ ”پاپا جی آئندہ ایسا نہیں ہوگا“، اس کے دوستوں کی کمپنی پہلے بہت اچھی تھی، وہ جن دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر زیادہ خوش ہوتا تھا ان میں میاں محمد امان ،حسن ارتضی ، اللہ داد چیمہ، جنید احمد ،محمد فیضان ، فہد عمران ،عبدالرحمن، حسن احمد اور ارسلان شاہ شامل تھے ، ان تمام کا تعلق بہت معزز گھرانوں سے ہے، احمد جاوید کے جنازے پر یہ سب اتنے افسردہ تھے اور کچھ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے جیسے ان کا سگا بھائی دنیا سے رخصت ہوگیاہو، اس کے برعکس جن دوستوں کے ساتھ وہ اب زیادہ وقت گزارتا تھا ان میں بہت کم اس کے جنازے میں نظر آئے ، مجھے اپنے مرحوم والد محترم کی بات یاد آتی ہے ، وہ اکثر فرماتے تھے”اگر کسی انسان کی فطرت اس کے خون اور نسل کا پتہ چلانا ہو یہ دیکھنا چاہئے اس کا یار یعنی دوست کتنا پرانا ہے اور اس کا خدمت گزار یعنی ملازم کتنا پرانا ہے ؟“، مجھے نہیں معلوم یہ سانحہ کب اور کیوں ہوا احمد جاوید اپنے پرانے دوستوں سے کم اور ایسے نئے دوستوں سے زیادہ ملنا شروع ہو گیا جن کی وجہ سے وہ اب موت کے منہ میں چلے گیاہے، وہ بڑا دلیر نوجوان تھا ، یہ اس دور کی خوبی نہیں بہت بڑی خامی ہے، یہی خامی اس کی موت کا سبب بنی ، اتوار کی صبح وہ ڈی ایچ اے فیز نائن کے پانچ مرلے کے ایک گھر میں تھا، جو اس کی بظاہر ایک دوست نے کرائے پر لے رکھا تھا، اس کی اس دوست نے ایک مشترکہ دوست ابوبکر کے بارے میں اسے بتایا ”وہ تم سے ملنا چاہتا ہے“، اس اثناءمیں ان کا ایک اور مشترکہ دوست میاں اسد مایا بھی وہاں پہنچ گیا ، ابوبکر کے ساتھ اے جے کے کچھ اختلافات تھے جو بظاہر طے ہو چکے تھے ، یعنی دونوں کی صلح ہو چکی تھی ، اے جے نے اپنی دوست سے کہا تم ابوبکر کو بلا لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ، ابوبکر جب وہاں پہنچا اس کے ساتھ ا±س کا ایک اور دوست عبداللہ کھوکھر اور اس کے گن مین بھی تھے ، احمد جاوید نے اس پر اعتراض کیا اور ابوبکر سے کہا تم عبداللہ اور اس کے گن مینوں کو ساتھ کیوں لے آئے ہو، تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ؟ تمہیں تو اکیلے بلایا گیا تھا، یہ بحث یا تکرار عبداللہ کی موجودگی میں جب بڑھی , عبداللہ اور ا±س کے گن مینوں نے اپنے آتشین اسلحے کا رخ اے جے کی طرف موڑ دیا، احمد جاوید کو چاہئے تھا وہ اس موقع پر مصلحت سے کام لیتا کیونکہ وہ اس وقت نہتا تھا، اس کا کوئی گارڈ اس کے ساتھ نہیں تھا ،اس نے اپنے تمام گارڈز کو کچھ ہی دیر پہلے یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا تھا آپ جا کر آرام کریں، مجھے اگر ضرورت ہوئی میں آپ کو واپس بلا لوں گا، وہ سب گاڈز قریب ہی ایک گھر میں چلے گئے جو احمد جاوید کے ایک دوست نے کرائے پر لے رکھا تھا ، ظالموں کے گن مینوں نے اپنے آتشین اسلحے کا رخ جب اے جے کی طرف موڑا ا±س نے روایتی دلیری دکھائی اور اپنا سینہ چوڑا کر کے بولا” دیکھتے کیا ہو مارو گولی“، پھر ایک نہتے نوجوان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی ، تفتیش اگر صحیح ہوئی سب پتہ چل جائے گا کس نے کتنی گولیاں ا±سے ماریں ؟ مگر احمد جاوید کی دلیری پر مجھے منیر نیازی کی ایک نظم کے یہ اشعار یاد آتے ہیں 
کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن 
کجھ گل وچ ساہڈے طوق وی سی 
کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن 
کجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی 
یعنی جب آپ کو پتہ ہے آپ نہتے ہیں ،آپ کا کوئی گارڈ اس وقت آپ کے ساتھ نہیں ہے، پھر اتنی دلیری دکھانے کا کیا مطلب تھا کہ اپنے سینے کی طرف بڑھتی ہوئی اندھا دھند گولیوں کو بھی آپ خاطر میں نہیں لا رہے تھے ؟ احمد جاوید کے قاتل بنیادی طور پر بزدل لوگ ہیں ، ایک اکیلے اور نہتے نوجوان کا مقابلہ ورنہ وہ اکیلے کرتے ، اتنے گن مینوں کا سہارا نہ لیتے ، فرض کر لیں اس موقع پر اس کی کسی بات سے انہیں رنج پہنچا تھا وہ دو چار مکے ٹھڈے اسے مار لیتے، اور اگر ان کے نزدیک اس پر گولیاں برسانا اتنا ہی ضروری تھا ایک آدھ فائر اس کے پاوں یا ٹانگ پر مار کر اپنا شوق پورا کر لیتے ،مگر قاتلوں کے اندر کا درندہ پوری طرح باہر آیا ہوا تھا، درندگی کے اسی عالم میں ایک چھبیس سالہ نوجوان کو انہوں نے گولیوں سے بھون دیا ،ایک باپ کو اس کے اکلوتے بیٹے سے محروم کر دیا، ایک تین سالہ بچے کو یتیم کر دیا ، ایک ماں کی وہ گود اجاڑ دی جس میں آج بھی وہ کتنی کتنی دیر بیٹھا رہتا تھا ، ایک بیوی کا سہاگ اجڑ گیا ، اکلوتی بہن سے بھائی چھن گیا ،مگر یہ ساری فیملی بڑے بہادر لوگوں کی ہے، احمد جاوید کی موت نے اندر سے شاید انہیں نڈھال کر دیاہو،مگر باہر سے یہ بڑے مضبوط لوگ ہیں ، میں اپنی نکمی پولیس کو بروقت آگاہ کر رہا ہوں اگر اس نے میاں عادل رشید اور س کی فیملی کو انصاف نہ دیا یا اپنی مرضی کا میرٹ اور انصاف ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی پھر معاملہ دوسری طرف نکل جائے گا، پھر پولیس اس پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ ( جاری ہے )

مزیدخبریں