گزشتہ چند دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ نے جتنی خونریزی، تباہی اور سیاسی انتشار دیکھا ہے، شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے نے اس کا سامنا کیا ہو۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی ضمیر کے امتحان میں بدل چکا ہے۔ حالیہ شَرم الشیخ امن معاہدے کے بعد دنیا ایک بار پھر یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا واقعی حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ نیا معاہدہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ کھول سکتا ہے؟ یا یہ بھی ماضی کے اوسلو، اور کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کی طرح ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا؟۔
حماس، جو 1987 ءمیں اخوان المسلمون کی شاخ کے طور پر وجود میں آئی، ابتدا ہی سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی تھی۔ اس کی بنیاد مزاحمت، شہادت اور آزادیِ فلسطین کے نعرے پر رکھی گئی۔ دوسری جانب، اسرائیل ہمیشہ سے حماس کو ایک ”دہشتگرد تنظیم“ قرار دیتا رہا۔ گزشتہ برسوں میں دونوں کے درمیان کئی خونریز جھڑپیں، حملے اور آپریشنز ہوئے جن میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے۔
لیکن 2025ءکی جنگ کے بعد حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنایا بلکہ عالمی برادری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا کہ طاقت کے ذریعے امن ممکن نہیں۔ اسی پس منظر میں مصر، قطر، ترکی، اور امریکہ کی ثالثی میں شَرم الشیخ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ حیرت انگیز طور پر حماس نے بھی پہلی بار”سیاسی حقیقت پسندی“کا مظاہرہ کرتے ہوئے براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
شَرم الشیخ معاہدہ 20 نکات پر مشتمل ہے، جن میں سب سے اہم اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کی مکمل بندش، حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف عسکری کارروائیاں روکنے کا وعدہ،غزہ کی ناکہ بندی کے بتدریج خاتمے کا منصوبہ، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد کے راستے کھولنے پر اتفاق اور فلسطینی خودمختاری کے لیے اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی مذاکرات کی بحالی ہیں۔ یہ شرائط اگرچہ امن کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ایسے تمام وعدے کاغذی ثابت ہوئے۔ اسرائیل نے اکثر معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔
شرم الشیخ معاہدے سے فلسطینی سیاست میں حماس کا نیا کردار سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حماس نے اب خود کو ایک ”سیاسی قوت“کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ ماضی میں اسے صرف مزاحمتی تنظیم سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ فلسطینی مستقبل کے تعین میں براہِ راست کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ چند روز قبل قطر میں امن مذاکرات کےلئے حماس کی سیاسی قیادت موجود تھی۔ اس موقع پر اسرائیل نے حماس کے سیاسی قائدین پر حملہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ اسرائیل دوحا میں موجود حماس کے دہشتگردوں کا صفایا کرکے دم لے گا۔ معجزانہ طور پر اسرائیل کے حملے میں حماس کی قیادت محفوظ رہی۔
قدرت خدا کی دیکھئے اس واقعہ کے چند روز بعد وہی اسرائیل حماس کے انہی سیاسی رہنماو¿ں کے ساتھ شرم الشیخ میں امن مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا جنہیں چند روز قبل دوحا حملے کے موقع پر اسرائیل دہشت گرد کہہ رہا تھا۔ دو سال قبل نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ وہ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹا کر دم لے گا لیکن دو سال بعد وہی نیتن یاہو اسی حماس کی موجودہ قیادت کے ساتھ شرم الشیخ میں امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ اس دو سالہ ہولناک جنگ میں 2 لاکھ 86 ہزار فلسطینیوں کو شہید اور 4 لاکھ سے زائد کو شدید زخمی کرنے کے باوجود یہ حماس کی بہت بڑی فتح اور نیتن یاہو کی ذلت آمیز شکست ہے۔
شرم الشیخ میں حماس کا حقیقت پسندانہ سیاسی روپ فلسطینی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ رام اللہ میں محمود عباس کی قیادت والی فلسطینی اتھارٹی (فتح) اب شدید دباو¿ میں ہے کیونکہ عوامی سطح پر حماس کو ”قومی مزاحمت کی علامت“ سمجھا جاتا ہے۔ اگر حماس اس امن معاہدے کو سنجیدگی سے نافذ کر پاتی ہے تو یہ اس کےلئے ایک سیاسی فتح ہوگی جس سے وہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جانے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
اسرائیل ہمیشہ اپنے مفاد کے مطابق امن کی بات کرتا ہے۔ اس معاہدے کے پیچھے بھی اس کی کئی حکمتیں کارفرما ہیں۔ ایک طرف وہ داخلی دباو¿ اور عالمی تنقید کو کم کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے خوف ہے کہ مسلسل جنگ سے اس کی معیشت اور عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسرائیلی بربریت کےخلاف مغرب، امریکہ اور اسرائیل کے اندر سے شدید رد عمل سامنے آیا جس وجہ سے اسرائیل حماس سے امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کےلئے وقتی سکون تو لا سکتا ہے مگر اگر وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم نہیں کرتا تو یہ امن دیرپا نہیں ہو سکتا۔
پاکستان شروع سے ہی فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا حامی رہا ہے۔ پاکستانی قیادت نے ہمیشہ دوٹوک مو¿قف اپنایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن تب ہی ممکن ہے جب فلسطینیوں کو ا±ن کے جائز حقوق، بشمول ایک آزاد ریاست، دیئے جائیں۔شَرم الشیخ معاہدے کے بعد پاکستان نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا مگر ساتھ ہی یہ واضح پیغام بھی دیا کہ ”امن“ صرف اس وقت بامعنی ہوگا جب القدس شریف، غزہ، اور مغربی کنارے کے عوام حقیقی آزادی حاصل کریں گے۔اسی طرح ترکی، ایران، اور قطر جیسے ممالک بھی حماس کے ساتھ سفارتی اور انسانی تعاون جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے صرف ایک معاہدہ کافی نہیں۔ اس کے لیے چند بنیادی شرائط ضروری ہیں۔ اول دو ریاستی حل کی بین الاقوامی ضمانت دی جائے اور فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ دوم اسرائیلی قبضے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ جب تک اسرائیل غزہ، مغربی کنارے، اور مقبوضہ بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوتا، امن ایک خواب رہے گا۔ سوم انسانی حقوق کی ضمانت دی جائے۔ فلسطینی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور اسرائیلی فوجی مظالم کے خاتمے کے بغیر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ چہارم عرب اور مسلم دنیا مشترکہ مو¿قف اختیار کرے۔ مسلم ممالک کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک متحدہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ فلسطینی مسئلے پر مشترکہ دباو¿ ڈالا جا سکے۔ پنجم خودمختار فلسطینی ریاست اور امن کے قیام کیلئے بین الاقوامی طاقتیں اپنا غیر جانب دار کردار ادا کریں۔ امریکہ اور یورپی یونین کو اسرائیل کی اندھی حمایت ترک کر کے انصاف پر مبنی کردار ادا کرنا ہوگا۔
شَرم الشیخ امن معاہدہ ایک نئی امید ضرور ہے مگر یہ ماضی کی ناکام کوششوں سے بہت مختلف نہیں۔ اگر اسرائیل اپنی پرانی پالیسیوں پر قائم رہا اور حماس پر عسکری دباو¿ بڑھاتا رہا تو یہ معاہدہ بھی تاریخ کے کچرے دان میں چلا جائے گا۔ تاہم اگر دونوں فریق حقیقتاً امن چاہتے ہیں، اگر عالمی برادری انصاف کی بنیاد پر کردار ادا کرتی ہے اور اگر مسلم دنیا اپنی داخلی تقسیم سے نکل کر متحد ہوتی ہے تو شاید پہلی بار فلسطینی عوام سانس لے سکیں .... آزاد فضا میں، اپنے وطن میں، اپنے پرچم کے سائے تلے۔ دنیا سمجھ لے کہ امن متوازی مثبت مذاکرات اور انصاف سے ہی پیدا ہوتا ہے۔
حماس اور اسرائیل دشمنی سے مذاکرات تک
09:08 AM, 11 Oct, 2025