پنجاب میں بلدیاتی انتخابات!

09:04 AM, 11 Oct, 2025

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کے لیے دسمبر تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات رواں سال دسمبر میں کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس مقصد کے لیے حلقہ بندیوں کا شیڈیول بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یقینا یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے تاہم اس پر کس حد تک عمل درآمد ہو گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
ہمارے یہاں بلدیاتی انتخابات اتنی باقاعدگی سے نہیں ہوتے رہے بلکہ بلدیاتی ذمہ داریاں بھی عام طور پر صوبائی حکومتیں ہی سرانجام دیتی رہی ہیں جو دنیا میں رائج طریقہ کار کے مطابق ان کا کام نہیں۔ دنیا بھر میں حکومتوں کی تین سطحیں ہوتی ہیں۔ پہلی سطح پر وفاقی یا مرکزی حکومت ہوتی ہے، دوسری سطح پر صوبائی یا ریاستی حکومتیں اور تیسری سطح پر بلدیاتی یا مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔ تینوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ کار ہوتا ہے۔ وفاقی یا مرکزی حکومت ملکی سطح کے امور کی ذمہ دار ہوتی ہے صوبائی یا مقامی معاملات دیکھنا اس کا کام نہیں۔ صوبائی حکومتیں صوبے کی سطح کے معاملات کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ملکی اور مقامی سطح امور ان کے دائرہ کار میں نہیں آتے جبکہ بلدیاتی حکومتیں مقامی سطح کے مسائل سے نپٹتی ہیں۔ ملکی یا صوبائی سطح کے امور نپٹانا ان کا کا کام نہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کے ذمہ عام طور پر ترقیاتی کام ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں صوبائی حکومتیں ہی یہ ذمہ داری بھی نبھاتی چلی آ رہی ہیں۔
دنیا میں اس وقت لندن اور نیویارک دو ایسے بڑے شہر ہیں جنھیں بلدیاتی نظام کے حوالے سے مثال بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں طاقتور ترین ملکوں کے اہم ترین شہر ہیں۔ لندن برطانیہ کا دارالحکومت ہے جبکہ نیویارک امریکہ کا مصروف ترین شہر ہے۔ ان دونوں شہروں کا بلدیاتی نظام اتنا مضبوط ہے کہ ان کے میئرز دنیا کے بہت سے ملکوں کے سربراہوں سے زیادہ شہرت کے حامل ہوتے ہیں۔ 
اس وقت لندن کے میئر صادق خان ہیں جو پاکستانی نژاد ہیں اور پاکستانیوں کی اکثریت ان کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ صرف پاکستانی ہی انھیں نہیں جانتے، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی انھیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ نہ صرف جانتے ہیں بلکہ صادق خان تو ٹرمپ کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے بھی ہیں۔ اس سے پہلے لندن ہی کے ایک سابق میئر بورس جانسن تو برطانوی وزیر اعظم کے منصب تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے کریڈٹ پر 2012 کے لندن اولمپکس کا کامیاب انعقاد تھا۔ اسی طرح نیویارک کے میئرز بھی ہمیشہ عالمی سطح پر شہرت کے حامل رہے ہیں۔ سابق میئر نیویارک جولیانی کے نام سے تو بہت سے لوگ واقف ہوں گے جو ان دنوں نیویارک کے میئر تھے جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ موجودہ میئر نیویارک ایرک ایڈمز بھی خاصی مشہور و معروف شخصیت ہیں جن کا نام سعودی عرب میں امریکی سفیر کے طور پر بھی زیر غور آ چکا ہے جبکہ آئندہ میئر نیویارک کے بھارت نژاد ڈیموکریٹ امیدوار ظہران ممدانی تو ابھی سے صدر ٹرمپ سمیت بہت سی امریکی شخصیات کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے ہیں۔ اس ساری تفصیل کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مغربی دنیا میں میئر یا بلدیاتی نظام کی کتنی اہمیت ہے۔
پاکستان میں بلدیاتی نظام کو کبھی اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ سندھ شاید واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم مختلف سیاسی وجوہات کی بنا پر وہ کبھی اتنے ثمر آور ثابت نہیں ہوئے۔ اس وقت بھی سندھ میں بلدیاتی حکومتیں قائم ہیں اور کراچی جیسے بڑے شہر کا انتظام میئر کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے باوجود کراچی میں بدانتظامی کی خبریں اکثر و بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ یقینا ان میں سے کچھ خبریں سیاسی مخاصمت کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں جبکہ کچھ واقعی حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس اگر پنجاب میں دیکھا جائے تو بلدیاتی نظام نہ ہونے کے باوجود ترقیاتی عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ ترقی کے اعتبار سے پنجاب کو ہمیشہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ نمبر ملتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پنجاب کی صوبائی حکومت ترقیاتی معاملات کو بخوبی سر انجام دے رہی ہے تو پھر بلدیاتی نظام کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔
اس سوال کا جواب شاید اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں اگر بلدیاتی نظام ہو تو ترقیاتی عمل اور بھی زیادہ بہتر طریقے سے انجام پا سکتا ہے کیونکہ پنجاب کی صوبائی حکومت تو ایک خاص حد تک ہی چیزوں پر نظر رکھ سکتی ہے اور اس کی ترجیح عام طور پر بڑے شہروں کے بڑے منصوبے ہوتے ہیں جبکہ مضافاتی علاقوں یا چھوٹے شہروں پر توجہ کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت کے اور بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ ویسے بھی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان عام طور پر اسمبلی اجلاسوں کے لیے اپنے شہروں ہی میں نہیں ہوتے بلکہ صوبائی دارالحکومت میں موجود رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ہمہ وقت اپنے علاقے کے مسائل پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ رہی بیوروکریسی تو وہ عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہوتی اس لیے عوام کو جواب دہ بھی نہیں ہوتی بلکہ حکومت کو جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی توجہ بھی اکثر اوقات بیک وقت کئی ایک منصوبوں کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہوتی ہے اس لیے کسی ایک شہر علاقے یا منصوبے پر دھیان رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور جہاں سے ان کی توجہ ہٹتی ہے، وہاں کام کی رفتار سست ہو جاتی ہے یا اس منصوبے پر سرے سے کام ہی رک جاتا ہے۔ 
بلدیاتی نظام ہو تو اس قسم کا تعطل پیدا نہ ہو اور ترقیاتی عمل معمول کی رفتار سے چلتا رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ بہت صائب ہے اور اس پر بہر صورت عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کی رفتار مزید تیز ہو اور ہر علاقہ ترقی کے یکساں مواقع سے لطف اندوز ہو سکے۔

مزیدخبریں