مغرب کی تاریخ کو پڑھیں تو کچھ ایسے راز ملتے ہیں جن کو حاصل کرکے آج چند قومیں عزت دار بنیں اور کم عزت داروں پر حکمرانی کررہی ہیں۔ یہ اُس وقت کی سپرپاور انگلستان کا ذکر ہے جب وطن کے خلاف غداری یا دہشت گردی کے مقدمے میں سزا پانے والے مجرم کو ایسی سزا دی جاتی تھی جسے پتھر کے پہاڑ بھی دیکھنے کی سکت نہ رکھتے اور صحرا بھی آنسوئوں سے جل تھل ہو جاتے۔ مجرم کو فیصلے کے بعد گھوڑے کے ساتھ باندھ کر پورے شہر میں ننگا گھسیٹا جاتا۔ پھر اُسے لکڑی کے ایک فریم پر پھانسی کے لیے سرعام لٹکایا جاتا لیکن دم نکلنے سے پہلے ہی نیچی اتارکر جسم کے حساس حصے کاٹے جاتے اور پیٹ سے آنتیں نکال کر آگ میں جلائی جاتیں۔ بچے کھچے جسم کے چار ٹکڑے کئے جاتے پھر اُس کا سرکاٹ کر پانچواں حصہ بنایا جاتا۔ درندے بھی اپنے شکار کو اتنی بری طرح نہیں چیرتے پھاڑتے جتنا اُس وطن کے دشمن مجرم کے ساتھ کیا جاتا۔ یہ سب کام رشتے داروں، دوستوں اور دیگر شہریوں کے سامنے سرعام ہوتا۔ جسم کے یہ پانچوں حصے شہر کی نمایاں جگہوں پر لمبے عرصے تک لٹکے رہتے۔ ایسا سب کچھ سب کے سامنے اس لےے کےا جاتا کہ آئندہ وطن سے دشمنی جیسا جرم کرنے کے بارے مےں کسی کو خیال تک نہ آئے۔ شےطان کی مانند سزا پانے والے اس مجرم کا جرم قوم سے غداری ہوتا تھا۔ اس سزاکا نام گھسےٹو، پھانسی دو اور ٹکڑے کرو (ہینگڈ، ڈران اینڈ کوارٹرڈ) تھا۔ ےہ کام 19ویں صدی کے آخر تک لندن مےں جاری رہا۔ اےسی سزا پانے والے معروف لوگوں مےں 17ویں صدی مےں انگرےزی کے روحانی شاعر ولےم بلےک بھی شامل تھے۔ اِن سے قبل 14وےں صدی کے آغاز میں سکاٹ لےنڈ کی آزادی کے ہےرو ولیم والےس کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسے وےسٹ منسٹر ہال سے ننگا کرکے گھوڑے کے ساتھ باندھا گےا اور لندن کی سرد، گندی اور پتھرےلی گلےوں مےں گھسےٹا گےا۔ قتل گاہ مےں اُسے ہینگڈ، ڈران اینڈ کوارٹرڈ کے عمل سے گزارنے کے بعد اُس کا سر شہر کی مشہور جگہ لندن برج مےں نےزے پر لٹکا دےا گیا۔ یہ 1777ءکی بات ہے جب آج کی سپرپاور امریکہ اپنے انقلاب کی بقاءکی جنگ لڑ رہی تھی۔ اُس کا سامنا برطانوی فوجوں سے تھا۔ مےجر جنرل بےنی ڈِکٹ آرنلڈ بڑی بہادری سے امرےکہ کا دفاع کررہا تھا۔ فتوحات اس کا مقدر تھےں۔ جہاں وہ جاتا وہاں دشمن نہ رہتا۔ تارےخ دان اس بات کا اعتراف کرتے ہےں کہ اگر بےنی ڈِکٹ آرنلڈ نہ ہوتا تو امرےکی انقلاب کہےں راستے مےں ہی گم ہوچکا ہوتا مگر اِسی دوران امرےکہ کے اس وفادار کا مقدمہ کانگرےس مےں پےش ہوا، اس کے ذاتی اکاﺅنٹ مےں کرپشن پائی گئی۔ کانگرےس نے اس کے تمام تر کارناموں کو اےک طرف رکھ کر اُس سے کرپشن کا حساب لےنے کا فےصلہ کےا۔ مےجر جنرل بےنی ڈِکٹ آرنلڈ اُس وقت اےک اہم ترین محاذ ویسٹ پوائنٹ پر کمان کررہا تھا اور برطانوی فوجےں اس سے پناہ مانگ رہی تھےں۔ مےجر جنرل کو جب کانگرےس مےں اپنا مقدمہ پےش ہونے اور فےصلے کا علم ہوا تو اس نے امرےکےوں سے بدلہ لےنے کے لےے وےسٹ پوائنٹ محاذ کو برطانوی فوجوں کے آگے سرنڈر کرنے کا منصوبہ بناےا لےکن امرےکےوں کی مو¿ثر انٹےلی جنس نے اس سازش کا وقت سے پہلے ہی پتا لگا لیا اور مےجر جنرل بےنی ڈِکٹ آرنلڈ کی گرفتاری کے لےے جنرل واشنگٹن وےسٹ پوائنٹ جاپہنچا۔ امرےکی بتاتے ہےں کہ انہوں نے اُسے تارےخ مےں اتنا بدنام کےا کہ غدار اور بےنی ڈِکٹ آرنلڈ اےک ہی معنی بن گئے اور اب آج کل کے امرےکی طالب علم غدار کی جگہ بےنی ڈِکٹ آرنلڈ کا لفظ استعمال کرتے ہےں۔ چلئے! پچھلی صدی کو دےکھتے ہےں۔ دوسری جنگ عظےم کا زمانہ ہے۔ ناورے مےں ناروےجن لےڈر وِڈکن کوئےسلنگ عوام مےں ابھر رہا ہے۔ وہ 1931ءمےں ناروے کا وزےر دفاع مقرر ہوتا ہے۔ نہ جانے پھر اُسے کےا سوجھتی ہے ےا کس سے ملاقات ہوتی ہے اور کےا لالچ ملتا ہے کہ وہ جرمنی کو اپنا ہی ملک ناروے فتح کرنے مےں مدد دےتا ہے۔ پھر وہ جرمنی کے بل بوتے پر ناروے مےں 1945ءتک طاقت مےں رہتا ہے۔ وقت پلٹا کھاتا ہے اور جرمنی کو ناروے سے واپس جانا پڑتا ہے۔ ناروے کے عوام آگے بڑھتے ہےں اور وِڈکن کوئےسلنگ کو فائرنگ سکواڈ کے حوالے کردےا جاتا ہے۔ اب ناروے کے لوگ کسی کے لےے غدار کا لفظ استعمال نہےں کرتے بلکہ اُسے صرف کوئےسلنگ ہی کہتے ہےں۔ تارےخ کے ےہ چند موتی ہےں جنہیں لے کر بعض لوگ مال دار بن گئے۔ انہوں نے اپنے غداروں کو اےسی سزائےں دیں کہ ان کے بالوں سے بھی خون نچوڑ لیا اور ہمیشہ تارےخ مےں بدنام بھی کےا تاکہ ہر آنے والا دن اپنوں سے بے وفائی کرنے والوں کے منہ پر کالک ملتا رہے لےکن انہی قوموں نے ہمارے ہاں اےسے لوگ تلاش کےے جو غداری اپنا فرض اور اعلیٰ عہدہ اپنا حق سمجھتے ہےں۔ ملک کو بے پناہ نقصان پہنچانے کے باوجود دندناتے پھرتے ہےں اور پروٹوکول لےنا ضروری سمجھتے ہےں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہم نے غدار کے لفظ کوسےاسی مقاصد کے لےے استعمال کےا جبکہ اصل مجرم کو چھپائے رکھا، اس کو سزا دی اور نہ ہی تارےخ مےں بدنام کےا۔ اُن ممالک نے کوئےسلنگ اور بےنی ڈِکٹ کے ناموں کا مطلب ہی غدار لکھ دےا جبکہ ہم نے اب تک کسی غدار کو کوئی سزا نہےں دی صرف اس کا سیاسی ستعمال کیا ہے۔ اگر انہیں سزائیں نہ دی گئیں اور تاریخ میں کالا مقام نہ دیاگیا تو ڈر ہے کہ یہ لوگ پانی میں تیرتی گندگی کی طرح اِدھر اُدھر پھرتے رہیں گے اور کناروں سے ٹکراکر اپنے بچے پیدا کرنے کے لیے دوبارہ اندر آنے کی کوشش کریں گے۔
ترقی یافتہ مغرب میں غداروں کی سزا کیا تھی؟
09:03 AM, 11 Oct, 2025