نیشنل ایکشن پلان نظرانداز، دہشتگردی پر سیاست  ہوئی : ڈی جی آئی ایس پی آر

04:40 PM, 10 Oct, 2025

راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، سیکیورٹی صورتحال اور ریاستی ردعمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشتگردی کی وجوہات میں سب سے بڑی رکاوٹ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور سیاسی مفادات کی خاطر اس مسئلے پر سیاست کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ 2025 کے دوران اب تک 10,115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 917 دہشتگرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی، پولیس اور شہریوں سمیت 516 پاکستانی شہید ہوئے — جن میں سب سے بڑی تعداد پاک فوج کے جوانوں کی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور عوامی حمایت ضروری ہے، اور واضح کیا کہ جو عناصر دہشتگردوں یا ان کے بیانیے کی حمایت کریں گے، انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔
دہشتگردی کے خاتمے میں رکاوٹ بننے والی 5 بڑی وجوہات ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا،سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور بیانیہ سازی،بھارت کی افغانستان کے ذریعے دہشتگردی میں مداخلت،افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی پناہ گاہیں،مقامی و سیاسی پشت پناہی رکھنے والے سہولت کار۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر سنجیدہ عملدرآمد ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشتگردی عدالتوں میں ہزاروں مقدمات سالوں سے زیر التوا ہیں، اور سزاؤں کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے۔

ترجمان پاک فوج نے سی ٹی ڈی کی کمزور استعداد، عدالتی اصلاحات میں تاخیر، افغان مہاجرین کی واپسی پر سیاسی چپقلش اور منشیات و غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف کمزور کارروائی کو بھی دہشتگردی کی جڑیں قرار دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ "اب اسٹیٹس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔" سہولت کاروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو تین آپشن دیے گئے ہیں ،دہشتگردوں کو ریاست کے حوالے کریں۔ریاست کے ساتھ مل کر کارروائی کریں،۔بصورت دیگر ریاستی طاقت کا سامنا کریں
انہوں نے واضح کہا کہ "شہدا کی قربانیوں پر سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی، "جعلی بیانیے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کمزور ہوئی۔"عوام اور ریاستی ادارے متحد ہو جائیں تو دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے متحد ہونے کی دعوت دی اور کہا کہ "پشاور میں بیٹھ کر قوم کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی طے کی جائے۔

مزیدخبریں