بھارت نے کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان، طالبان حکومت سے تعلقات میں پیش رفت

03:07 PM, 10 Oct, 2025

کابل/نئی دہلی : بھارت نے چار سال بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال ہو گئے ہیں۔

یہ اعلان بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے جمعے کے روز کابل میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کابل میں موجود بھارتی ٹیکنیکل مشن کو اب باضابطہ طور پر سفارت خانے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ بھارت افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر یقین رکھتا ہے، اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

بھارتی وزیر خارجہ نے افغانستان کے لیے چھ نئے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کا اعلان بھی کیا، جن میں تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کو 20 ایمبولینسز عطیہ کرے گا، اور ساتھ ہی جدید طبی آلات، ویکسین اور کینسر کی ادویات بھی فراہم کرے گا۔


2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور امریکہ کے انخلا کے بعد بھارت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔ تقریباً 10 ماہ تک دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سفارتی رابطہ نہیں رہا، تاہم بعد میں طالبان کی جانب سے سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد بھارت نے ایک تکنیکی ٹیم دوبارہ تعینات کی۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین بھارت کے خلاف کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس پیش رفت کو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ بھارت نے کابل میں سفارت خانہ بحال کر دیا ہے، لیکن اس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ فی الحال روس وہ واحد بڑا ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

بھارت کی جانب سے کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتا ہے، جو علاقائی استحکام اور تعاون کی امیدوں کو فروغ دے سکتا ہے۔

مزیدخبریں