بھارتی وزیراعظم ایک تسلسل کے ساتھ بھارتی عوام کے جنگی جنون میں اضافہ کر رہے ہیں جس میں بھارتی آرمی چیف اور ائیرفورس چیف نے بھی برابر کا حصہ ڈالا، ان کے نیول چیف سری لنکا کے دورے پر تھے ورنہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔ بھارت اپنی پرانی حکمت عملی کے تحت افغان حکومت کو پاکستان سے بدظن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ افغان وزیر خارجہ کو دورہ بھارت کی دعوت اگر صرف تعلقات میں بہتری کیلئے دی جاتی تو اس میں کوئی حرج نہ ہوتا لیکن افغان قیادت کو یہ باور کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ پاکستان ماضی میں امریکہ کا حلیف بن کر افغان مفادات کے خلاف کام کرتا رہا ہے۔ وہ آج پھر سے امریکہ کی گود میں جاگرا ہے۔ اب دونوں مل کر ایک مرتبہ نئے عزم سے افغانوں کو کچلنے کے منصوبے پر کام کریں گے۔ انہیں یہ آئیڈیا بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں مل کر پاکستان سے پرانے حساب چکا سکتے ہیں۔ افغانوں کو نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت عرصہ دراز تک امریکہ کا حلیف رہا ہے اور خطے کے مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کرتا رہا ہے۔ آج بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان نورا کشتی جاری ہے جو دونوں ملکوں کی ضروریات کے تحت زیادہ عرصہ جاری نہیں رکھی جا سکے گی۔ بھارت اور امریکی سیاسی قیادت کا رویہ ان دو بدمعاشوں جیسا ہے ایک فرضی لڑائی کے بعد گاہے گاہے ایک دوسرے کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے باآواز بلند کھانستے ہیں کہ ان کی کھانسی کی آواز سن کر گھر کی بڑی اماں باہر جھانکے اور اپنے سابق منہ بولے پتر کو یہ کہہ کر گلے لگا لے کہ کنجرا توں میرے نال وی ناراض ایں؟ جھڑپ چند گھنٹے جبکہ جنگ دنوں، ہفتوں، مہینوں تک جا ری رہ سکتی ہے۔ بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جھڑپ اور جنگ کے فرق کو جان لینا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر 65ستمبر، دسمبر 71 ، کارگل اور سیاچن پر جنگ ہو چکی ہے جو دنوں تک نہیں بلکہ کئی ہفتوں جاری رہی۔ کشمیر کی جنگ میں ائیرفورس اور نیوی کا کوئی کردار نہ تھا۔ اس میں زمینی رستے یلغار کرتے اور دفاع کرتے نظر آئے جبکہ بعد کی دو جنگیں، ’’جنگ‘‘ کے لفظی معیار پر پوری اترتی ہیں۔ اس میں بری، بحری اور فضائی افواج نے حصہ لیا۔ کارگل اور سیاچن کی لڑائی میں بری فوج کا کردار زیادہ تھا۔ کہیں کہیں بھارتی ائیرفورس استعمال ہوئی۔ وہ بھی اس وقت جب سیز فائر ہو چکا تھا اور پاکستانی فوج کچھ علاقوں سے نیچے آرہی تھی۔ پاکستان کی آزادی کے بعد سے جاری ماہ و سال میں درجنوں مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں جنہوں نے کئی روز تک کی فائرنگ کے بعد بھی باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار نہیں کی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی تمام جھڑپوں کی کہانی ایک ہی ہے۔ بھارت اپنے داخلی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لئے سرحدیں گرم کر دیتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے یہ جھڑپیں زیادہ تر اکتوبر نومبر کے مہینوں میں ہوتی نظر آتی ہیں اور دو سال بخیریت گزرنے کے بعد تیسرا برس جھڑپوں سے بھرا نظر آتا ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے ساتھ شاید ان مہینوں کو جنگ کیلئے مددگار موسم تصور کر لیا گیا ہے۔ حملہ آور فوج اپنی جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے نکتہ نظر سے معاون موسم کا انتخاب کرتی ہے، جس طرح وہ اپنے اہداف کے مطابق اپنی پسند کے موسم کا انتخاب کرتی ہے، جس موسم میں ہوا پاکستان کی طرف سے بھارت کی طرف چلتی ہے۔ وہ بھارت کو حملے کے لئے معاون ثابت نہیں ہوتا جبکہ ہوا کا بدلا رخ اسے سہولت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے میدانی علاقوں میں بھارتی علاقے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور اس کی جگہ لینے کے لئے پاکستان کی طرف سے کم گرم ہوا ادھر کا رخ کرتی ہے یوں جنگ میں ایک قدرتی مشکل حائل ہوتی ہے۔ یہ موسم گزر چکا ہے۔ موسم سرد ہو رہا ہے جبکہ بھارت کی طرف سے بیانات گرم ہو رہے ہیں۔
کھلے دل سے حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو کچھ باتیں آئندہ کے لیے کیے جانے والے فیصلوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ بھارت کو کرکٹ اور ہاکی کے میدانوں میں برتری حاصل ہے۔ پاکستان کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اسی کے نشے سے سرشار رہا۔ ایک دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ضرور جیتا لیکن مجموعی طور پر دونوں کھیل تنزلی کا شکار رہے۔ پاکستان کی فوج اپنے کم وسائل کے باوجود دنیا کی بہترین فوج ہے، اسے ملک دشمنوں کے ساتھ لڑتے لڑتے پینتالیس برس ہو چکے ہیں۔ یہ تجربہ پہلی چار بڑی جنگوں کے بعد کا ہے۔ پاکستانی فوج کی استعدد کار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس میں میزائل ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس قابل ذکر ہیں۔ ماڈرن وارفیئر میں ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان نے ترقی کی ہے۔ پاکستان کی ائیرفورس کو گزشتہ پچاس برس سے بھارتی ائیرفورس پر برتری حاصل ہے۔ نئے اور ماڈرن جہازوں اور جدید ترین ریڈار ٹیکنالوجی نے اس کی طاقت میں جو اضافہ کیا ہے وہ چند ماہ قبل دنیا دیکھ چکی ہے اور اسے تسلیم کر چکی ہے۔ پاکستان نیوی بھارت کی نیوی کے مقابلے میں قدرے چھوٹی ہے لیکن پاکستان کے دفاع کے لئے بہت کافی ہے۔ اس میں جدید بحری جہاز، آبدوزیں، سرویلنس ائیرکرافٹ اور دیگر ضروری سامان حرب شامل ہے۔ تینوں افواج کی ایک قدر مشترک ان کی جدید خطوط پر ٹریننگ اور معیار کے ساتھ دفاع پاکستان کا ناقابل تسخیر جذبہ ہے جو ہمیشہ ہر جنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جنگ میں سرپرائز کا عنصر اہم ہوتا ہے لیکن اب بے سروپا بیان بازی کے بعد بھارت کی طرف سے یہ عنصر ختم ہو چکا ہے۔ افواج پاکستان ہر طرح سے تیار ہیں۔ آج سے چند ماہ قبل بھارتی وزیراعظم نے بھارتی فوج کو پاکستان پر حملے کیلئے کہا تو ان کے جرنیلوں نے صاف انکار کردیا اور بتایا کہ بھارتی فوج جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ آج بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں سے کچھ فاصلے پر اپنی جنگی مشقوں میں مصروف ہے اور بھارتی عوام کو یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہم کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر کے اسے سبق سکھا سکتے ہیں لیکن ہماری تیاری بھی اسی خیال کے ساتھ ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی وقت فالس آپریشن کر کے اپنی گزشتہ شکست کا داغ دھونے کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔ پاکستان اور اس کے ہمسائے ایران ، ترکی، چین، روس اور دوست مسلمان ممالک جنگ نہیں چاہتے لیکن سب صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارت، اسرائیل ، امریکہ اور بعض یورپی ممالک اس خطے میں ایک نئی جنگ دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ عرصہ دراز سے اپنے سٹورز میں بند پڑا اسلحہ فروخت کر سکیں۔ٹیکنالوجی اس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ یہ اسلحہ چند برس پڑا رہ جائے تو اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ نیا اسلحہ میدان میں آجاتا ہے۔ بھارت گرائونڈ اٹیک یا فضائی اٹیک کا جھانسہ دے کر سرکریک کی طرف بحری ایڈونچر کر سکتا ہے۔ وہ نہیں چاہے گا کہ اس کی ائیرفورس کے مزید سو جہاز اگلے معرکے میں زمین بوس ہو جائیں۔ ہم نے بھارت کے مزید پچاس ہوائی جہاز نہ گرا کر غلطی کی جو ہم گرا سکتے تھے۔ جنگ نہیں تو جھڑپ کا امکان موجود ہے، میزائلوں کا کردار اہم ہو گا۔
بھارت کے ساتھ جنگ یا جھڑپ؟
09:15 AM, 10 Oct, 2025