پاکستان میں جاری دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونے والے 11 بیٹوں میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر راحت طیب بھی شامل ہیں۔ انتہائی دکھ دینے والی خبر ہے جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو افسردہ کر دیا ہے لیکن عمران نیازی نے اُسی دن وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور سے استعفا طلب کر لیا جو علی امین گنڈا پور نے اچھے بچوں کی طرح عمران نیازی کی امانت سمجھتے ہوئے دے بھی دیا۔ پاکستان بدترین دہشتگردی کی زد میں ہے۔ افواج پاکستان کی جوان شہید ہو رہے ہیں اور عمران نیازی چاہتا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، اپنے بھائیوں کے ساتھ جنگ عمران نیازی کو قابل قبول نہیں، 36 سالہ سہیل آفرید ی کو لانے کا واحد مقصد مخاصمت کی سیاست کو فروغ دینا ہے ۔ خیبر پختون خوا دہشت گردی کی جنگ میں سلگ رہا ہے اور پی ٹی آئی اپنی ہی فوج کیلئے مقامی اور سیاسی حمایت ختم کرنے کے درپہ ہے ۔ کوئی بھی فوج مقامی آبادی کی حمایت کے بغیر کسی جنگ کو کیسے جیت سکتی ہے ؟اور اُس پر مستزاد یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی تازہ دم قیادت طالبان کی حمایت کیلئے آگے کر رہی ہے کیوں کہ عمران نیازی کوفوجی آپریشن کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات بھی متضاد تھیں ۔ایک گروہ جس کی قیادت علیمہ خان کر رہی تھی عمران نیازی کے پاس جا کر کہتا تھا کہ آپریشن ہو رہا ہے اور علی امین گنڈا پور فوج کو سہولت فراہم کر رہا ہے جبکہ دوسرا گروہ عمران نیازی کے حضور اپنی صفائیاں پیش کر تا رہا لیکن آخر کار عمران نیازی نے فیصلہ وہی کیا جو طالبان کے حق اور افواج پاکستان کے خلاف تھا ۔ایک ہفتہ پہلے علی امین گنڈپور نے عمران نیازی سے ملنے کے بعد جب علیمہ خان بارے اپنی زبان کھولی تو اُسی دن یہ بات فائنل ہو چکی تھی کہ ’’یہ تو گیا‘‘۔ علی امین گنڈا پور کاحال تو پی ٹی آئی خود بُرا کردے گی لیکن نو مولود نامزد وزیر اعلیٰ کا انجام بھی عمران نیازی کے فیصلوں کے نتیجہ میں بُرا ہونے والا ہے ۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ حالت ِ جنگ میں کوئی صوبہ اپنے ہی ریاستی اداروں کی مخالفت کیسے کرسکتاہے ؟ عمران نیازی کھل کر طالبان کی حمایت میں نکل آیا ہے کیونکہ اب ٹرمپ اور کشمیریوں کے بعد پھر اُس کی امیدیں طالبان سے جڑ گئی ہیں ۔ لیکن کیا کسی بھی سیاسی جماعت اور اُس کے سزا یافتہ قائد کو پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے کی کھلی اجازت دی جاسکتی ہے ؟ کیاہمارے بیٹوں کو قتل کرنے والے اس ریاست کی روٹیوں پر پلتے رہیں گے؟ کیا اب بھی عمران نیازی کا مکروہ چہرہ کھل کرسامنے نہیں آیا ؟ کیا ابھی اس سے بھی زیادہ بُرے سیاسی اور ملک دشمن رویے کا انتظارہے ؟سلمان راجہ نے سہیل آفریدی کو ’’نئی شروعات‘‘ سے تعبیر کیا ہے اورعمران نیازی کا یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی دہشتگردی کے خلاف پالیسیوں سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھے مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک تو پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک دن کیلئے بھی کسی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کی ۔کیا واقعی یہ نئی شروعات اپنی ہی ریاست کے خلاف دشمنوں کی مدد کرناکا اعلان ہے ؟سہیل آفریدی کی تربیت مراد سعید کے ہاتھوں ہوئی ہے اور یہ نوجوان اُسی کوٹے میںپہلی بار ایم پی اے بھی منتخب ہوا ہے یقینا اُس سے وہ ساری توقعات وابستہ کی جارہی ہیں جو کبھی مراد سعید سے تھیں ۔خیبر پختوخوا چلانے میں ایک بار پھر پنجاب میں بزدار حکومت کی طرز پر غیر منتخب عورتوں کی حکمرانی واضح نظر آئے گی اور عمران نیازی کا وہ بیانیہ جو کبھی ’’موروثی سیاست کے حوالے سے تھا دم توڑتا نظر آئے گا۔ حماقت کی انتہا تو یہ ہے کہ آئی ایس ایف خیبر پختونخوا کے نوجوان اس کو نظام کی تبدیلی کہہ رہے ہیں۔نئے وزیر اعلیٰ کیلئے بانی اورنانی کو بیک وقت خوش رکھنا آسان کام نہیں ہو گا لیکن اس مراد سعید جونیئر سے پی ٹی آئی میں طالبان کی حمایت کرنے والے قومی اسمبلی کے اراکین کو بہت مدد ملے گی ۔آپ ایک سو وزیر اعلیٰ بدل لیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ دسویں یا بارویں صدی نہیں کہ کوئی سینٹرل ایشین یاافغانی گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر سارے علاقوںکو تاراج کرتا ہوا کہیں بھی پہنچ جائے گا۔ اکیسویں صدی کے پہلے ربع میں جو حال بھارت کا افواج ِ پاکستان نے کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن ایک بات ہمیں بھی سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت کو پاکستان کے دشمنوں کی زبان بولنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔
ایک طرف خاک اورخون کا کھیل جاری ہے اوردوسری طرف پاکستان کی منتخب اتحادی حکومت کے بڑے اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنی بیان بازی سے ملک میں بے یقینی کی نئی فضا پید ا کردی ہے ۔ دنیا کے ایک بڑ ے فلاسفر نے کہا تھا کہ ہر اتحاد کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ اُس نے ٹوٹنا ہوتا ہے لیکن یہ بھی انتہائی درست بات ہے کہ مشترکہ خطرہ بدترین دشمنوں کو یک جا کردیتا ہے ۔ وفاقی وزیربرائے مواصلات و مرکزی صدر استحکام پاکستان پارٹی عبد العلیم خان نے وفاقی حکومت کا پوری طاقت سے ساتھ دینے کے ساتھ دونوں سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے اپنے صوبوں میں عوام کی فلاح کیلئے کام کرنا چاہیے۔ عبد العلیم خان نے کھلے لفظوں میں دونوں سیاسی جماعتوں سے امید کی ہے کہ وہ سیاسی بیانات کے بجائے اپنے اپنے صوبوںکی ترقی پر توجہ دیں ۔موجود ہ حالات میں صرف استحکام ِ پاکستان پر توجہ دینا ہو گی ۔عبد العلیم خان پنجاب اور سندھ میں استحکام کیلئے پُر امید ہیں ۔ موجود ہ حالات میں اس سے زیادہ بہتر مشورہ اپنے اتحادیوں کو نہیں دیا جا سکتا۔عبد العلیم خان اس حوالے سے موجود سیاسی قیادتوں سے کہیں بہتر ہے کہ وہ مثبت سیاست پر سب سے زیادہ توجہ دیتا ہے اور کبھی پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا یہی اُس کی سیاست ہے جس کا گزشتہ ڈیرھ دہائی سے میں بھی چشم دید ہوں ۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے اور کے پی کے میں نئے وزیر اعلیٰ کو لانے کا مقصد مخاصمت کی سیاست کا آغاز کرنے کا اشارہ عمران نیازی نے دے دیا ہے سوموجودہ حکومت کے علم میں ہونا چاہیے کہ وہ سمندری بلائیں جن کو فیض حمید اپنے عہد میں خشکی پر چھوڑ گیا تھا اب تک ان کا قلع قمع نہیں ہوا ۔ ابھی صراط کے بہت سے پلوں کوعبور کرنا باقی ہے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کی رات ٗ دیر گئے تک آصف علی زرداری سے بات چیت کی ۔ امید ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کودرپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے اتحادی حکومت کے کرتا دھرتا اس بیان بازی کو رکوانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خیبرپختونخوا: نیا وزیر اعلیٰ مراد سعید کا تواتر
09:15 AM, 10 Oct, 2025