سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم پر آج بحث، حکومتی اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات برقرار

09:22 AM, 10 Nov, 2025

اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور ہونے کے بعد آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں آئینی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے، جبکہ وزیر قانون ترمیمی بل کو منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔

کمیٹی نے آئینی ترمیم کے 49 نکات پر اتفاق کیا ہے، جن میں آئین کے آرٹیکل 243 اور آئینی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے اہم ترامیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے زیر التوا مقدمات کی فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی تجویز دی ہے۔ اگر ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہو، تو اسے نمٹایا گیا سمجھا جائے گا۔

تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے، جن میں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے ترمیمی ڈرافٹ پر حکومت کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی اتحادی جماعتوں میں بھی بعض ترامیم پر اتفاق نہیں ہو سکا، خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے اور بلوچستان میں اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجاویز پر حکومت نے مزید وقت مانگا ہے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کمیٹی نے کچھ ترامیم کا اختیار وزیر قانون اور انہیں دیا ہے تاکہ ان پر مزید مشاورت کی جا سکے۔

مزیدخبریں