اللہ کا لشکر

09:15 AM, 10 Nov, 2025

جب بھارت کی بات کی جاتی ہے تو ایک تلخ سچائی کو کبھی اپنے اذہان سے ایک لمحہ کے لیے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کہ بھارت سے مراد اسرائیل اور اسرائیل سے مراد امریکہ ہے ۔ جسے راقم دجالی اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتاہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ گذشتہ 56 سال سے پاکستان کے خلاف رچائے جانے والے گھنائونے منصوبوں ، دہشت گردیوں ،تحریب کاریوں اور فاشسٹ نظریات کی سیاہ تاریخ ہے ۔ جس کے اوراق کا عمیق نظر سے مطالعہ و مشاہدہ کرنے کے بعد ہی یہ نتیجہ نکالا ہے ۔ کہ ہمارے مدقابل محض ایک ملک ( بھارت ) ہی نہیں، جس کا بیانہ بغض، کینہ و حسد کی بنیاد پر پاکستان فوبیا پر مشتمل ہے ۔ بلکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے بعض بین الاقوامی عناصر بھی ہیں ۔ جس میں درپردہ دجالی اسٹیبلشمنٹ کے شیطانی کردار کو نظر انداز کرنا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ 
حتیٰ کہ جب آپریشن طوفان الاقصیٰ لانچ کیا گیا۔ تو اس کے کچھ ماہ بعد راقم نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ نشانہ پاکستان ہی ہے۔ اور پھر آنے والے دنوں میں اندرونِ ملک کے پراگندہ حالات راقم کے موقف کی بہت حد تک تصدیق کر رہے تھے ۔ جس میں دشمنوں و دوست نما دشمنوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرتوڑ کوششیں کیں کہ کسی طرح پاکستان کو غزہ جنگ میں باقاعدہ طور پر ملوث کیا جائے ۔ مختصراً یہ کہ وقت آگیا ہے کہ قوم کے بچے بچے کو باور کرایا جائے کہ تمہارا سامنا محض ایک انتہا پسند پڑوسی ( بھارت) سے نہیں بلکہ اس کے نظریاتی اتحادیوں سے بھی ہے ۔ تاکہ وہ زندگی کے کسی موڑ میں جذبات کی رو میں بہہ کر ان کے ہاتھوں استعمال نہ ہو جائیں جو کئی دہائیوں سے تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
کیا انسانی آنکھ نے ایسا ملک، سلطنت ، ریاست یا فوج دیکھی ہے ۔ جس کو اس کی پیدائش کے وقت سے ہی ان کے ازلی دشمنوں کی جانب سے ختم کیے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں۔ جو شروع دن سے ہی نشانہ بنتا چلا آ رہا ہو۔ معرضِ وجود میں آنے کے محض 24 سال بعد 90 ہزار فوجیوں کو قیدی بنا کرملک کو دو لخت کر دیا گیا۔ پھر آٹھ سال بعد سرخ ریچھ اپنی درندگی سمیت ہمسایہ میں آ کر بیٹھ گیا۔ یعنی اس دفعہ بھی نشانہ پاکستان تھا۔ پھر بائیس سال بعد عالمی ساہوکاروں نے شطرنج کی بساط پر انتہائی گھنائونا کھیل کھیلتے ہوئے صلیبی لشکر کو مہلک ترین اسلحے سمیت ایک دفعہ پھر ہمسائے میں داخل کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر اس دفعہ بھی نشانہ پاکستان ہی بنا۔ جس نے پاک فوج کے خلاف بدترین ڈاکٹرائن اختراع کرتے ہوئے خوش کش حملوں کا سلسلہ شروع کرایا۔ اسی دوران ملک کے اندر فرقہ وارانہ، لسانی اور علیحدگی کی مسلح تحریکوں کو سپورٹ کیا گیا۔ کسی بھی ملک پر جب اندرونی و بیرونی جانب سے دشمن پورے لائو لشکر سمیت حملہ آور ہو ۔ فوج کو دنیا بھر کی نظر میں متنازع بنا دیا گیا ہو۔ کیا ایسے پر آشوب حالات میں کوئی بھی فوج اپنا survival کر سکتی ہے۔؟
کم وبیش دو دہائی قبل جب پوری منصوبہ بندی کے تحت پاک فوج کے خلاف ملکی و غیر ملکی سطح پر فضا تیار کر کے پراپیگنڈہ کا سلسلہ شروع کیا گیا جو ہنوز جاری ہے۔ کہ یہ ایک ایسی فوج ہے جس کو سیاست کی چاٹ لگ گئی ہے۔ جو ملکی سیاست میں ایسی بری طرح پھنس چکی ہے۔ جس نے اس کی عسکری صلاحیتوں سے محروم کر دیاہے ۔ جو ایک پروفیشنل فوج کا خاصا ہوتی ہے ،بنیاد ہوتی ہے کہ آگے بڑھ کر دشمن کے علاقوں پر قبضہ کرنا ۔ پاک فوج مخالف بیانیہ کو اس حد تک لانچ کیا گیا جس نے پاک فوج کے امیج کو خاصا متاثر کیا ۔ بدقسمتی سے جس میں اپنے بعض عاقبت نا اندیش پیش پیش تھے ۔ جیسے وہ پاک فوج کو نہیں بلکہ( بھارت دشمن )پر فتح حاصل کر رہے ہوں ۔
جب دشمنوں نے محسوس کیا کہ گرائونڈ تیار ہے ، فصل کاٹنے کا وقت آگیا ہے ۔ تو انہوں آپریشن سندور برپا کر ڈالا۔لیکن اب 1971 والے حالات نہیں تھے۔ اس موقع پر اقتدار کی غلام گردشوں کے اسیروں کو باور کرا دیا گیا تھا کہ اب ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اپنوں اور غیروں کے ڈسے ہوئے آتش وآہن کی اس جنگ میں کند ن بن چکے تھے۔ دجالی شطرنج کی چالوں کو ان کے ہی خلاف چلنے کا گر سیکھ چکے تھے۔ واعدوالھم ما استطعتم من قوۃ کا درس ازبر کر چکے تھے ۔ دنیا کو دکھانے کا وقت آگیا تھاکہ یہ اللہ کا لشکر ہے۔
مئی 2025 کو پاک فوج نے نہ صرف survival کیا بلکہ دجالی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسلط کئی گئی جنگ آپریشن سندور کو بدترین ناکامی سے دوچار کر کے پاکستان و ا ہل پاکستان کو دنیا کی نظر میں باوقار مقام بھی دلایا ۔ آپریشن بنیان مرصوص جدید عسکری تاریخ کا ایک ناقابل یقین آپریشن تھا جس پر دنیا آج بھی حیران و ششدر ہے ۔ جس میں سیاسی طور پر بکھرے ہوئے ملک اور متنازع بنائی جانے والی فوج نے محض 5 گھنٹوں کے اندر اندر دنیا کی چوتھی بڑی فوجی قوت اور پانچویں بڑی معاشی قوت کو اس کے عالمی اتحادیوں کی مدد کے باوجود خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا ۔جدید عسکری تاریخ کا یہ ایسا ناقابل فراموش واقعہ ہے کہ اللہ کے لشکر نے بری اور بحری فورسز کو حرکت دیئے بغیر خاص اللہ کی مدد سے فتح مبین حاصل کی ۔
یہ قرآن و سنت کی تربیت کا ہی اعجاز تھا کہ زمین اور فضا میںمکمل غلبہ حاصل ہونے کے باوجود دشمن کے کسی بھی شہری ، دینی، تعلیمی ادارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تقسیم ہند کے بعد پہلا موقع ہے کہ بھارت کی سیاسی لیڈرشپ اور فوجی قیادت آمنے سامنے کھڑی ہوئیں ۔ بھارت کی جانب سے اپنے اتحادیوں کی مدد سے دنیا کو یہ جو supermacy کا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ فتح مبین حاصل ہوتے ہی سپر میسی ’ اکھنڈ بھارت‘‘ کا فاشسٹ نظریہ ہمیشہ کے لیے زمین بوس ہو گیا ۔بھارت اور اس کے اتحادیوں کے اندر ایک مایوسی سی چھائی ہوئی ہے ۔ زخمی سانپ آخری حملہ کرتے وقت ایک ایسی غلطی ضرور کرتا ہے جو ا سکی موت کا سبب بنتی ہے ۔ عبرتناک شکست سے چور چور زخمی دشمن کے حالات ،واقعات ، دھمکیوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ایسی ہی فاش غلطی کا ارتکاب کرنے جارہا ہے ۔ جو غزوہ ہند کادروازہ کھولنے کا سبب بننے والا ہے ۔ تب 5 پانچ لاکھ پر مشتمل اللہ کا لشکر اکیلا نہیں ہو گا بلکہ اس کے ساتھ۔۔۔۔

مزیدخبریں