دنیا کا کوئی بھی مذہب ،کوئی بھی عقیدہ انسانی جانوں کا دشمن نہیں۔فلسفہ ودانش اور علم وحکمت سب کے سب انسانوں کی بھلائی کے مدعی اور علمبردار ہیں ۔قرآن کریم میںتو دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے سورۃ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کو (ناحق) قتل کیا گویااس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ تشدد کرنے والے اور تشدد کو جائز سمجھنے والے انسانی فکر وذہن کے عروج اور اس کی خصوصیات کو برباد اور نذر آتش کرنے کے درپے ہیں اور یوں وہ دراصل انسانیت کے مستقبل کو تاریک اور انسانی کردار کو بھیانک بنانے کی ناپاک سعی کرتے ہیں ۔تشدد ودہشت گردی ہر سطح پر (یعنی وہ انفرادی ہو یااجتماعی )قابل مذمت اور لائق نفرین ہے۔کیونکہ یہ نہ صرف انسانیت کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتی ہے بلکہ معاشروں کی ترقی،امن اور خوشحالی کو تباہ کردیتی ہے ۔تعلیم،صحت ،روزگار اور بنیادی سہولتیں سب متاثر ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کو ’’حقوق‘‘ یا ’’آزادی‘‘کی جنگ ظاہر کرکے اس کو جواز نہیںدیا جاسکتا ۔اس وقت بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیمیں خصوصاً بی ایل اے،بی ایل ایف ،بی آر پی اور بی این اے جیسی دیگر ،دہشت گردی،خونریزی کو بلوچ ’’حقوق‘‘اور ’’آزادی‘‘کی جدوجہد قرار دیکر برین واشنگ کے ذریعے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان نسل کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسارہی ہیں ۔جبکہ بلوچستان کوئی مقبوضہ علاقہ نہیں بلکہ پاکستان کا ایک اہم صوبہ اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے ،اور وہاں کو ئی آزادی کی یاقومی جنگ نہیں بلکہ مفادات اور ڈالروں کی لڑائی ہے جس کے لیے یہ کالعدم تنظیمیں اپنی پراکسیز بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) بلوچ وویمن فورم (بی ڈبلیو ایف) بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد (بی ایس او آزاد) اور پانک جیسی دیگر بظاہر انسانی حقوق کی دعویداروں کے ذریعے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کو ریاستی ناانصافیوں اور محرومیوں کی من گھڑت کہانیاں سنا کر گمراہ کرتی ہیں اور پھر ان کے ہاتھوں سے قلم اور کتابیں چھین کر انہیں ’’ہتھیار‘‘ تھما کر دہشت گردی کی تاریک راہوں پر دھکیل دیتی ہیں، بیرون ممالک میں پُرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر انہیں پہاڑوں پر دہشت گردی کے کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا ہے ،اور بعدازاں انہیں ’’مسنگ پرسن‘‘بنا کر ملک دشمن قوتوں کے اشاروں پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ اور پھر یہی ’’لاپتا افراد‘‘جب خود کش دھماکوں میں جہنم کا ایندھن بنتے ہیں یا پھر دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مردار ہوجاتے ہیں تو ان دہشت گردوں کو ’’شہید ‘‘قرار دیکر بلوچ عوام کو گمراہ کرتی ہیں ۔مورخہ 13نومبر 2025کوبلوچستان میں تمام کالعدم تنظیموں کی نرسری بی ایس او آزاد’’یوم شہدائے بلوچ‘‘ مناکرخود کش بمباروں اور ان خونی درندوںکو خراج تحسین پیش کررہی ہے ۔آئیے جانتے ہیں ان نام نہاد ’’شہدائ‘‘ اور’’ جبری گمشدہ افراد‘‘کی حقیقت اور اصلیت: 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خودکش حملہ کرنے والا کالعدم تنظیم بی ایل اے کے (مجید بریگیڈ) کا خود کش محمد رفیق بزنجو عرف وشین بلوچ بھی جعلی بلوچ یک جہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ دسمبر 2023 میں اسلام آباد پریس کلب کے باہر ’’ریزیلیئنس اینڈ رزسٹنس‘‘ نامی ایک سیمینار میں جہاں ماہ رنگ لانگو نے لاطینی امریکہ کے مشہور انقلابی رہنما ’’چے گویرا‘‘ سے منسوب ٹوپی پہن رکھی تھی کے پس منظر میں لگے فلیکس میں نام نہاد لاپتہ افراد کی تصاویر میںاس خود کش حملہ آورمحمد رفیق بزنجو کی تصویر بھی موجود تھی۔ اسی طرح دہشت گرد عامر بخش (صہیب لانگو) جو 21 جولائی 2025ء کو قلات آپریشن کے دوران جہنم رسید ہوا، وہ ایک طویل عرصے تک ماہ رنگ لانگو کا ذاتی محافظ بھی رہا اوراس کا فرسٹ کزن بھی تھا، بی وائی سی کی ’’لاپتہ افراد‘‘ کی لسٹ میں شامل تھا، اس کو فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے حقوق کے محافظ پلیٹ فورم ’’پانک‘‘ اور ’’بام‘‘ نے 25 جولائی 2024ء کو لاپتہ قرار دیا۔ درحقیقت کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا اہم کمانڈر تھا، بی ایل اے نے اس کی شناخت کا اعتراف بھی کیا۔ اسی طرح ماضی میں 9 جون 2018 کو امتیاز رضا کو ’’جبری گمشدہ‘‘ قرار دیا گیا۔ 12 اگست 2018 عبدالودود ساتگزئی، 18 مارچ 2019 اسد اللہ، 2 نومبر 2019 دوستین بلوچ، 4 جنوری 2022 صغیر احمد، 25 مئی 2022 کریم جان، 13 نومبر 2022 حافظ عبداللہ، 17 دسمبر 2023 عبدالرزاق، 23 اپریل 2024 طیب بلوچ، 11 اکتوبر 2024 عادل بلوچ، یہ سب وہ نام ہیں جنہیں ’’مسنگ پرسنز‘‘ بنا کر ریاستی اداروں کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈا کیا گیا، لیکن بعد ازاں یہی دہشت گرد مختلف کارروائیوں اور آپریشنز میں مارے گئے۔ جنہیں فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں نے اپنی پریس ریلیزوں میں باقاعدہ ’’سرمچار‘‘ اور ’’فدائیوں‘‘ کے طور پر تسلیم کیا۔ یوں جھوٹ کے پردے کے پیچھے چھپی حقیقت خود دشمن کے اعتراف سے آشکار ہو گئی۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئی ایک شخص بھی ’’جبری گمشدہ‘‘ نہیں یہ ایک من گھڑت ڈرامہ ہے جو بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاست کو بدنام کرنے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہمدردی اور فنڈنگ کے لیے رچایا جا رہا ہے۔ سوچیے کہ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی آباد نہیں بلکہ ہزارہ اور پختون قبائل بھی آباد ہیں۔ ان میں کوئی ’’لاپتا‘‘ کیوں نہیں ہوتا؟ اس لیے کہ بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف، بی ایس اور آزاد جیسی دیگر تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کو مختلف لالچ دیکر فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل اے، بی ایل ایف میں شامل کراتی ہیں، قومی دھارے میں شامل ہونے والے طلعت عزیز کی کہانی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ اکثر دہشت گردوں کے خاندانوں کو اس بات کا بخوبی علم بھی ہوتا ہے، جس طرح گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس حملے میں جہنم رسید ہونے والے دہشت گرد کریم جان کی بہن گلزاری بلوچ، جو کہ بی وائی سی کی کارکن تھی، نے اعتراف کیا تھا کہ کریم جان دہشت گرد تنظیم بی ایل اے (مجید بریگیڈ) کا رکن تھا اور اس کے باوجود وہ اپنے بھائی کی گمشدگی کا راگ الاپ رہی تھی۔ یاد رہے کہ اپنے مفادات کے لیے نہتی بے گناہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں پر حملہ کرنا، سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی سہولت کے مراکز نذر آتش کرنا کھلی دہشت گردی ہے اور ایسے ناسور کسی رعایت یا معافی کے مستحق نہیں ہوتے۔
13نومبردہشت گردصرف مردار ہوتے ہیں، شہید نہیں
09:12 AM, 10 Nov, 2025