دنیا کی ہر تباہی شور سے ہی شروع نہیں ہوتی بلکہ کچھ زوال ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت خاموشی کے ساتھ رگوں میں اتر جاتے ہیں ۔ انسانی روح جسے ہم شعور کا آئینہ کہتے ہیں اکثر اپنی ہی خواہشات کے جال میں پھنس کر اندھیروں کی آغوش میں گم ہو جاتی ہے ۔ پاکستان کے نوجوان جنہوں نے مستقبل کے روشن خواب دیکھنے تھے آج منشیات کے دلدل میں پھنس کر اپنی پہچان کھو بیٹھے ہیں۔ معاشرے میں جہاں معاشرتی بے یقینی ، اقتصادی بحران اور تربیتی خلا نوجوانوں کی زندگیوں کو مفلوج کر دیتا ہے وہاں منشیات محض نشہ یا عادت نہیں بلکہ وجودی دھوکہ ہے جو انسان کے اندرونی تضاد کو بے رحم انداز میں آشکار کر تا ہے۔ ہر سراب، ہر لمحاتی راحت حقیقت کے آئینے میں ایک دھندلا عکس ہے جو انسان کو اپنی تقدیر سے دور کر دیتا ہے۔ نوجوان نسل کسی بھی ملک کی معاشی، تعلیمی، اقتصادی، سماجی فلاح وبہبود اور ترقی کے سفر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔پنجاب حکومت نے اس سنگین مسئلے کے خاتمے کے لیے ایک منظم اور مربوط حکمت عملی اپنائی ہے کائونٹر نارکوٹکس فورس کی حالیہ کارروائیاں اسی جنگ کی تازہ جھلک ہیں۔ ان آپریشنز میں 51کلوگرام ہیروئن ،4کلوگرام آئس، 2کلوگرام چرس برآمد ہوئی پندرہ افراد گرفتار ہوئے اور متعدد نیٹ ورکس بے نقاب ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف ضبطی کی رپورٹ نہیں بلکہ ایک پور ے سماجی المیے کی گواہی کے ساتھ سیکڑوں زندگیوں کی بازیابی ہیں۔ یہ محض آپریشن نہیں بلکہ ضمیر کی بیداری کی جنگ ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے تمام ماننے والوں کو پاکیزگی، عفت و پاکدامنی، شرم و حیا اور راست گوئی و راست بازی جیسی اعلیٰ ترین صفات سے متصف اور مزین دیکھنا چاہتا ہے یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ اسلام قبیح و حرام، ناپاک، بے حیائی، بے عقلی، بد گوئی اور بے راہ روی جیسی رذیل عادات سے بچنے کی بار بار تنبیہ کرتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے آپﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ ’جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے‘ ۔ مگر ہمارے ملک میں منشیات نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک وبا کا روپ اختیار کر لیا ہے جوہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ بس تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً سات سو سے زائد افراد منشیات کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے فروغ کی بنیادی وجہ ہماری نسل کا مغرب کی اندھی نقل اور غلامی کا مزاج ہے۔ مغرب پرستی نے ہمارے معاشرے میں دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات کو بھی پروان چڑھایا۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال جسمانی اعتبار سے بھی مضر ہے، مالی و معاشی حیثیت سے بھی تباہ کن ہے، اور سماجی و اخلاقی نقطہ نظر سے بھی سم قاتل ہے۔ منشیات کے بے دریغ استعمال سے نا صرف انسان کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ سماج کا ایک باصلاحیت طبقہ بیکار اور ناکارہ بن کر رہ جاتا ہے ۔ضرورتِ وقت ہے کہ ہم کوئی ایسا دیر پا حل تلاش کریںکہ جس کے بعد وطنِ عزیز کے گلی کوچوں میں رقص کرنے والا یہ نشیلا اور خونخوار جن کسی ایسی بوتل میں مقید ہو جائے کہ وہی بوتل اس کا مدفن ثابت ہو۔ویسے تو پاکستان میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے مجرم کی سزا موت ہے لیکن آج تک یہاں اس جرم میں کسی کویہ سزا نہیں دی جا سکی ۔ ۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کے عادی نوجوان ایک عضو مفلوج کی سی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ، وقت کی اشد پرضرورت ہے کہ ان لوگوں کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تا کہ وہ بھی معاشرے کے فعال وجود کے طور ملک و ملت کی ترقی اور سربلندی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔مایوس کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس منشیات سے جڑے ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر کا فقدان ہے ۔ ۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان منشیات کی تجارت کے اہم راستے پر واقع ہے ، جسے منشیات کے سمگلر افغانستان سے آنے والی منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کے نیٹ ورکس مضبوط ہیں جس کے باعث حکومتی اقدامات اس سلسلے میں مسلسل ناکام ہیں۔اس مسئلہ کی سنگینی سخت ہے اور اس کے اثرات بہت دور رس ہیں ، جو ملک کے معاشی استحکام ، سماجی ہم آہنگی اور صحت عامہ کو شدید متاثر کر رہے ہیں ۔ منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک فعال اور ہمدردانہ نقطئہ نظر کی ضرورت ہے ۔ نشہ آور ادویات کے استعمال نے وقت کے ساتھ پاکستانی معاشرے میں گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے ، جو شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر پھیل گئی ہے ۔ کراچی کی سڑکوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں تک منشیات کے استعمال کے خیمے وسیع ہیں، جو ہر عمر کے گروہوں ،جنس اور سماجی طبقات کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور معاشرہ مل کر کام کریں ۔شومئی قسمت کے ہمارے ملک میں بحالی کے مراکز تو موجود ہیں مگر انہیں فنڈزاور عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ سماج میں بدنامی کا سامنا ہے ۔منشیات کا اس تیزی سے بڑھتااستعما ل صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا معاشرتی مسئلہ ہے جس کا حل ہمارے آج کیے جانے والے اقدامات پر منحصر ہے ۔منشیات صرف جسموں کو ہی متاثر نہیںکرتیں بلکہ یہ معیشت کو بھی مفلوج کر دیتی ہیں ۔ ہروہ مزدورجو نشے کا عادی ہے معاشی نظام میں ایک قوت کم کر دیتا ہے۔منشیات کا یہ کاروبارکسی دہشتگردی سے کم خطرناک نہیں ہے یہ رگِ حیات میں سرایت کرنے والا وہ خطرناک زہر ہے جو ذہن ، جسم اور اخلاق کو متاثر کرتا ہے ۔ نشے سے مفلوج ذہن تعلیم ، محنت اور ترقی سے دور ہو جاتا ہے ۔ عالمی رپوٹس بتاتی ہیں کہ غربت ، بیر وزگاری اور مایوسی کے ساتھ نشہ مزیدبڑھتا ہے ۔یہ وہ ناسور ہے جو ایک ہی وقت میں قوم کے ذہنوں ، نسلوں اور نظاموں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے ۔ منشیات کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار شعور کی بیداری ہے لوگوں کو یہ احساس دلاناہی بنیادی قدم ہے کہ لمحاتی سکون کی قیمت ان کی تقدیر اور زندگی ہے ۔
اندھیروں کے اسیر
09:11 AM, 10 Nov, 2025