سیاسی برانڈنگ نہیں حقیقی سپورٹ چاہیے!

09:02 AM, 10 May, 2026

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ بھی ہے۔مہنگائی اور بیروزگاری کی اس سنگین صورتحال میں اگر ریاست اپنے کمزور شہریوںکو کوئی سہارا فراہم کرتی ہے تو وہ صرف ایک مالی مدد نہیں ہوتی بلکہ ایک امید بھی بن جاتی ہے۔ہمارے ملک میں جاری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی کسی سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈر کی مشہوری کا نام نہیں بلکہ انتہائی پستہ خاندانوں کے لیے ایک امید بن چکا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے انتہائی غریب طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا ہے۔ بعض علاقوں میں بچوں کی تعلیم اور ویکسینیشن کو بھی اس پروگرام کے ساتھ جوڑا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ عالمی ادارے بھی اس پروگرام کو جنوبی ایشیا کے چند نمایاں سوشل سیفٹی نیٹس میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ زیادہ اہم اس لیے ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک صرف خیرات بانٹ کر ترقی نہیں کرسکتا۔ اگر کسی شخص کو ہر ماہ چند ہزار روپے دیے جائیں مگر اس کے پاس مستقل روزگار نہ ہو تو وہ ہمیشہ ریاست کا محتاج رہے گا۔شائد یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات بینظیر انکم سپورٹ پروگرام تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ اس طرح کے پروگرام وقتی ریلیف تو دیتے ہیں لیکن ایک تو غربت کو جڑ ختم نہیں ہونے دیتے اور دوسرا قوم کو بھکاری ہونے کا تاثر دیتے ہیں۔
پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں غربت کوختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنے کے بجائے اسے ایک سیاسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومتیں آتی ہیں، امدادی پروگرام شروع کرتی ہیں، تصویریں بنواتی ہیں اور سیاسی فائدہ حاصل کرتی ہیں، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر غریب آدمی کو مستقل بنیادوں پر اپنے پا¶ں پر کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کام کرسکتا ہے، ہنر سیکھ سکتا ہے تو اسے صرف چند ہزار روپے دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ اسے ایسا ماحول دیا جائے جہاں وہ خود کما سکے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے واقعی مستحق لوگوں تک مکمل انصاف کے ساتھ رسائی حاصل کی ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ کئی ایسے لوگ بھی یہ امداد حاصل کررہے ہیں جو اس کے حقدار نہیں، جبکہ بہت سے مستحق خاندان آج بھی محروم ہیں۔ سیاسی سفارش، مقامی اثر و رسوخ اور کرپشن کے الزامات بھی بار بار سامنے آتے ہیں۔ بعض علاقوں میں لوگوں کو رقم وصول کرنے کے لیے کئی کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ کہیں ایجنٹ پیسے کاٹ لیتے ہیں تو کہیں خواتین کو عزت نفس مجروح ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلسل کیش ٹرانسفر پروگرامز حکومت پر بھاری بوجھ بن جاتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں کے دبا¶ میں ہے۔ اگر ریاست ایک بڑی رقم صرف امدادی پروگراموں پر خرچ کرتی رہے گی اور معیشت میں پیداواری سرگرمیاں نہیں بڑھیں گی تو ملک مزید کمزور ہوگا۔اگر لاکھوں لوگ صرف امداد پر زندہ رہیں تو یہ ایک خطرناک علامت ہے۔ لیکن اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کردینا چاہیے۔بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں اس وقت اس قسم کے پروگرام کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو فوری مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ لیکن اس پروگرام کو مستقل حل سمجھ لینا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔
دنیا کے کئی ممالک نے غربت کم کرنے کے لیے صرف امداد پر انحصار نہیں کیا بلکہ لوگوں کو ہنر اور روزگار دیاہے۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں مائیکرو فنانس اور خواتین کے لیے چھوٹے کاروبار کے منصوبوں نے لاکھوں خاندانوں کو غربت سے نکالاہے۔ چین نے غربت کے خاتمے کے لیے صنعت، دیہی ترقی اور روزگار پر توجہ دی ہے۔ ترکی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دے کر معاشی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔ ان ممالک نے لوگوں کو صرف پیسے نہیں دیے بلکہ کمانے کے مواقع بھی دیے۔
پاکستان میں بھی اگر واقعی غربت کم کرنی ہے تو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو روزگار اور ہنر سے جوڑنا ہوگا۔ مثال کے طور پر جو خاندان امداد حاصل کررہے ہیں، ان کے نوجوانوں کو فری ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے۔ خواتین کو گھریلو صنعتوں، آن لائن کام اور چھوٹے کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ حکومت اگر ہر ضلع میں ہنر مندی مراکز قائم کرے اور وہاں بینظیر پروگرام سے منسلک خاندانوں کو ترجیح دے تو چند سالوں میں لاکھوں لوگ امداد سے نکل کر خود کفیل ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح چھوٹے قرضوں کا ایک شفاف نظام بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اکثر غریب آدمی کو اس لیے قرض نہیں ملتا کیونکہ اس کے پاس ضمانت نہیں ہوتی۔ حکومت اگر بینظیر پروگرام کے مستحق افراد کو بلاسود یا کم شرح سود پر چھوٹے قرض دے اور ان کی نگرانی کرے تو یہ زیادہ م¶ثر ثابت ہوسکتا ہے۔ زرعی شعبے میں بھی بے شمار مواقع موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں غریب خاندانوں کو صرف امداد دینے کے بجائے چھوٹے زرعی منصوبے دیے جائیں۔ بیج، کھاد، چھوٹے سولر ٹیوب ویل اور لائیو اسٹاک سپورٹ جیسے اقدامات غربت کم کرنے میں م¶ثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو تعلیم ہے۔ غربت صرف پیسے کی کمی نہیں بلکہ مواقع کی کمی کا نام ہے۔ اگر غریب بچوں کو معیاری تعلیم اور ہنر نہ ملے تو وہ بھی بڑے ہوکر اسی غربت کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لیے بینظیر پروگرام کو تعلیم کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا چاہیے۔ جو خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں، انہیں اضافی مراعات دی جائیں۔ فنی تعلیم کو عام کیا جائے تاکہ نوجوان صرف ڈگریوں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ عملی ہنر حاصل کریں۔ اس پورے معاملے میں سیاسی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں اکثر فلاحی پروگرام سیاسی برانڈنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حکومتیں عوامی خدمت کے بجائے سیاسی فائدے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پروگراموں کو سیاست سے نکال کر قومی پالیسی بنایا جائے کیونکہ غربت کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ نجی شعبے کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔ پاکستان کی بڑی کمپنیاں اگر ہنر مندی، انٹرن شپ اور روزگار کے منصوبوں میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں لڑ سکتی۔ 
ہم سب کو مل کر یہ کوشش کرنی ہو گی کہ پاکستان خیرات پر چلنے والی معیشت نہیں بلکہ محنت، ہنر اور روزگار پر کھڑی معیشت بنے اور اس کے لیے ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ امدادی پروگراموں پر انحصار کر کے غربت اپنی شکل بدل تو سکتی ہے لیکن ختم کبھی نہیں ہوسکتی ۔

مزیدخبریں