آپریشن سندور کے بعد بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ

09:02 AM, 10 May, 2026

مئی 2026 کو بھارت کے پاکستان کے خلاف ناکام آپریشن سندور کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ یہ بھارت کا وہی فوجی آپریشن تھا جسکی ناکامی پر بھارت نے دس مئی 2025 کی دوپہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد سے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کروا کر اسے ختم کیا تھا۔ یہ مہینہ پاکستان اور بھارت میں خاصا اہم ہے۔ سال بھر جنگ کے میدان میں بھارت کی شکست کا ذکر کئی مرتبہ بھارتی فوج کے آرمی چیف جنرل اوپیندا تریویدی اور چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کرتے رہے ہیں مگر سات مئی کو بھارتی افواج کے ترجمانوں نے ریاست راجھستان کے شہر جئے پور میں ایک پریس کانفرنس کر ڈالی۔ پریس کانفرنس تو اپنے بیانیے کے لئے رکھی گئی تھی مگر اس میں صحافیوں کے سوالات خاصے سخت تھے۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی، سابق ڈائریکٹر جنرل ایئر آپریشنز ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی اور ڈائریکٹر جنرل نیول آپریشنز وائس ایڈمرل اے این پرمود کی مشترکہ پریس بریفنگ آپریشن سندور کے ایک سال بعد رکھی گئی تھی جس سے توقعات تو بہت تھیں مگر بھارتی عوام کو مایوسی ملی۔ 
پریس کانفرنس کا مقصد تو تھا بھارتی فوج کے عزت و وقار کو بلند کرنا مگر ہڑ بڑاہٹ میں بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران آپریشن سندور یا آپریشن بنیان مرصوص کے بجائے پاکستان اور اس کے اتحادیوں پر بات چیت کرتے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا پاکستان اور چین کی دوستی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے اونچی ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ چین اور پاکستان کا فوجی اتحاد پہلے سے ہے۔ چاہے ہم ایک ہی سرحد پر تین مخالفوں کے خلاف لڑ رہے ہوں، چاہے وہ ترکی ہو، چین ہو یا پاکستان، ہم اسکا کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ 
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی افواج نے گزشتہ سال آپریشن سندور سے سبق حاصل کرنے اور تیاریوں کو مضبوط کرنے میں گزارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال جو کچھ سیکھا ہے وہ اچھی طرح جذب کیا گیا ہے اور ہم ایک راستے پر گامزن ہیں۔ یہ کیسی کامیابی کی پریس کانفرنس تھی جس میں کامیابی کے جھنڈوں کا ذکر نہیں تھا۔ بلکہ بھارتی فوج کے خدشات کا ذکر تھا۔ 
جے پور شہر کی گرمی کہیں یا صحافیوں کے تندو تیز سوالات پریس کانفرنس کے دوران اچانک بھارتی فوج کو یاد آیا کہ انہوں نے آپریشن سندور میں پاکستان فضائیہ کے جنگی جہاز گرائے تھے۔ ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی نے کہا بھارت نے پاکستان کے 13 جنگی جہاز تباہ کئے تھے۔ مگر یہ بات فضائیہ کے ترجمان افسر کو ایک سال بعد کیسے یاد آئی؟ اور اب یاد بھی کیوں آئی؟ اب بھی یاد نہ آتی تو خیر ہی تھی۔ ویسے اتنا کمزور حافظ دشمن ملک کی فوج کا بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس پریس کانفرنس کا وقت بھی ترجمان افواجِ پاکستان کی پریس کانفرنس سے ایک گھنٹہ پہلے رکھا گیا تھا۔ کیونکہ بھارت کو علم تھا کہ پاکستانی افواج کے حقائق کا سامنا مشکل ہو گا اسی لئے پہلے وقت کا انتخاب کیا گیا۔ 
آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر بھارت اور افواجِ بھارت فوجی آپریشن سندور میں اپنی کسی بھی کامیابی کے ثبوت و دلائل پیش کرنے سے قاصر رہے۔ ایک سال کا عرصہ بھارتی فوج کے لئے چیلنجز سے بھرپور رہا ہے۔ دفاعی بجٹ میں کمی، جنگی جہازوں اور پائلٹس کی کمزوریاں، اور سب سے بڑھ کر ان کمیوں کمزوریوں پر قابو پانے اور جنگی صلاحیت بڑھانے کا جامع پلان تشکیل دینا بھارتی فوج کے لئے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس اہم موقع پر بھارت کے لئے اپنا میڈیا مینج کرنا ضروری تھا جو بھارتی فوج نے کیا۔ مگر ان کے خدشات، خوف، کم دفاعی صلاحیت، آپریشن سندور کی غلطیاں اور مسقتبل میں فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، تکنیکی امور پر مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے جنگی ساز وسامان کی خریداری پر توجہ ہونی چاہیے۔ 
اسی پریس کانفرنس میں بھارتی نیوی کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل نیول آپریشنز وائس ایڈمرل اے این پرمود نے کہا کہ بھارتی بحریہ کی تیاری مکمل ہے اور بھگوان کی کرپا رہی تو وقت آنے پر پاکستان کے خلاف بہت کچھ کریں گے۔ مگر بحریہ کے ترجمان یہ کیسے بھول گئے کہ ابھی ایک سال پہلے ہی آپریشن سندور کے وقت بھارت نے پاکستان کے شہر لاہور میں ایک سمندر اور بندرگاہ ڈھونڈ نکالی تھی اور اس پر اپنا قبضہ بھی جما لیا تھا۔ نہ جانے انہوں نے اس اہم معرکے کا ذکر کیوں نہیں کیا۔

مزیدخبریں