ماحولیاتی انصاف اور پاکستان کی گرمیاں 

09:02 AM, 10 May, 2026


مئی کا سورج جب اپنی پوری حدت کے ساتھ خطہ ارض پر آگ برسانا شروع کرتا ہے تو یہ محض ایک موسمی تبدیلی یا گرمیوں کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ یہ اس عالمی ناانصافی کا ایک تپتا ہوا ثبوت ہے جسے دنیا 'کلائمیٹ چینج' کے خوشنما نام کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے مئی کی یہ لو اور ہیٹ ویوز صرف پسینہ نہیں بہاتیں بلکہ یہ ہماری معیشت، صحت اور بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ آج جب ہم 2026 کے وسط میں کھڑے ہیں، تو ماحولیاتی انصاف کا سوال پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی مار جھیلنے والے ممالک کی فہرست میں ہم ہمیشہ صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ عالمی ماحولیاتی ناانصافی ہے جہاں گناہ کوئی اور کرتا ہے اور اس کی سزا کسی اور کو بھگتنی پڑتی ہے۔ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ترقی کے پہیے کو جس ایندھن سے گھمایا اس کا دھواں آج پاکستان کے گلی کوچوں میں ہیٹ ویو اور غیر یقینی سیلابوں کی صورت میں ناچ رہا ہے۔ مئی کا مہینہ اب وہ مئی نہیں رہا جب گرمی کا آغاز ہوتا تھا بلکہ اب یہ مہینہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک انسانی المیہ بن چکا ہے جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے لگتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
زمینی حقائق پر نظر دوڑائیں تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ حالیہ چند برسوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہیٹ ویوز کے دورانیے میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ صرف جون جولائی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اپریل اور مئی سے ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتی ہیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران ہم نے دیکھا کہ کس طرح جیکب آباد، سبی اور نوابشاہ جیسے شہر دنیا کے گرم ترین مقامات میں تبدیل ہو گئے لیکن المیہ صرف بڑھتا ہوا درجہ حرارت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے چھپی وہ سماجی تقسیم ہے جو غریب اور امیر کے درمیان ماحولیاتی خلیج کو واضح کرتی ہے۔ جب تپتی دوپہر میں ایک مزدور سڑک پر کام کر رہا ہوتا ہے یا ایک کسان کھیت میں پسینہ بہا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے وہ ایئر کنڈیشنڈ کمرے یا ٹھنڈی گاڑیاں نہیں ہوتیں جو ان گیسوں کے اخراج کی ذمہ دار ہیں۔ یہ ماحولیاتی طبقاتی تقسیم ہے جہاں غریب کی جان سستی ہے اور امیر کی آسائشیں مہنگی ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بحران نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں عام شہری کے لیے پنکھا چلانا بھی ایک عیاشی بن چکا ہے۔ ریاست کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے صرف اس وقت جاگتے ہیں جب لاشیں گرنے لگتی ہیں۔ "ہیٹ ریسپانس پلانز" صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی کی فراہمی یا شجرکاری کی وہ مہمات جو ہنگامی بنیادوں پر ہونی چاہئیں وہ صرف فوٹو شوٹ اور سیاسی بیانات کی نذر ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں اگر ہم "ڈیزاسٹر مینجمنٹ" کا جائزہ لیں تو ریاست کی سستی اور مجرمانہ غفلت ہر قدم پر نظر آتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی "آنے والا خطرہ" نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکا ہے مگر ہماری ترجیحات اب بھی روایتی سیاست اور سطحی کاموں تک محدود ہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، پاکستان میں شہری جنگلات (Urban Forests) کی شدید کمی ہے 
اور سیمنٹ کے بنے ہوئے جنگل یعنی بلند و بالا عمارتیں "ہیٹ آئی لینڈ" پیدا کر رہی ہیں، جس سے شہروں کا درجہ حرارت دیہات کی نسبت کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ریاست کی سستی کا یہ عالم ہے کہ شہروں میں درخت کاٹنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور گرین بیلٹس کو کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ صرف عالمی طاقتوں سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ مطالبہ اپنی ریاست سے بھی ہونا چاہیے کہ اس نے اپنے شہریوں کو اس تپتی قیامت سے بچانے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے ہیں؟ کیا ہمارے پاس مئی کی ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے کوئی مربوط پالیسی موجود ہے؟ جواب نفی میں ملتا ہے۔ ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے جگہ نہیں ہوتی اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان اس المیے کو مزید ہولناک بنا دیتا ہے۔
ہمیں عالمی سطح پر "کلائمیٹ فنڈز" کا مطالبہ بھی کرنا ہوگا اور داخلی طور پر اپنی نااہلی کی دیواروں کو بھی گرانا ہو گا تاکہ پاکستان کا عام شہری اس تپتے ہوئے سورج کے سائے میں خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔اس ماحولیاتی جبر کا ایک اور تاریک پہلو وہ 'ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر گیپ' ہے جو شہروں کے غریب علاقوں اور کچی آبادیوں کو جہنم کے گڑھوں میں بدل رہا ہے۔ جہاں پوش علاقوں میں بلند و بالا دیواریں اور مصنوعی ٹھنڈک کے نظام درجہ حرارت کو قابو میں رکھتے ہیں، وہیں تنگ گلیوں اور ٹین کی چھتوں والے مکانات میں محصور آبادی کے لیے مئی کی راتیں بھی حبس کا تازیانہ بن جاتی ہیں۔ ریاست کی سستی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آج 2026 میں بھی ہمارے پاس 'ارلی وارننگ سسٹم' صرف موبائل میسجز تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر ہیٹ ویو سینٹرز اور کمیونٹی کولنگ زونز کا نام و نشان تک نہیں۔ یہ صرف قدرت کی طرف سے آنے والی آفت نہیں بلکہ ایک منظم انتظامی قتل ہے، جہاں غریب کے پاس نہ تو صاف پانی کی میسر ہے اور نہ ہی وہ سایہ جو اسے ل±و کے تھپیڑوں سے بچا سکے۔ جب تک ہم ماحولیاتی انصاف کو ایک معاشی حق کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے، تب تک یہ 'کلائمیٹ ڈیوائیڈ' انسانیت کے پرخچے اڑاتا رہے گا۔

مزیدخبریں