معرکہ حق اور جذبوں کا انرجی بوسٹر

09:02 AM, 10 May, 2026

انسان کی زندگی میں بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گرد و غبار سے کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔ وہ لمحے، وہ آوازیں، وہ مناظر اور وہ احساسات نسلوں کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے لیے 6 ستمبر 1965ءبھی ایک ایسی ہی تاریخ ہے، جو صرف ایک جنگ کی یاد نہیں بلکہ قومی غیرت، اجتماعی بیداری اور قربانی کے ایک درخشاں باب کی علامت ہے۔ ابتدائی تعلیمی ایّام میں جب ہم اسکول کی نیم روشن جماعتوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھ کر تاریخ کی کتابیں کھولا کرتے تھے، تو ان کے صفحات ہمیں ایک ایسے دور میں لے جاتے تھے جہاں قومیں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ انہی صفحات میں ہمیں بتایا جاتا تھا کہ کس طرح رات کی تاریکی میں ایک مکار دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید ایک نومولود ریاست خوف زدہ ہو کر گھٹنے ٹیک دے گی۔ مگر اُسے کیا خبر تھی کہ یہ سرزمین صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایمان، غیرت اور قربانی کی ایک زندہ علامت ہے۔
6ستمبر کی تقریبات ہمارے لیے کسی تہوار سے کم نہ ہوتیں۔ اسکولوں میں ملی نغمے گونجتے، شہداءکی تصاویر سجائی جاتیں، اور اساتذہ کی گفتگو میں ایک عجیب درد اور فخر شامل ہوتا۔ ہم بچوں کے دلوں میں بھی یہ خواہش جاگتی کہ کاش ہم بھی اُس دور کے گواہ ہوتے۔ جب اساتذہ چونڈہ کے محاذ، لاہور کے دفاع اور سیالکوٹ کی بہادری کی داستانیں سناتے تو ہماری آنکھوں میں خواب اور دلوں میں ولولہ پیدا ہو جاتا۔ انہی کہانیوں نے ہمارے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وطن محض زمین کا ایک خطہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جس کی حفاظت ایمان کا حصہ ہے۔
وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر قوموں کی اصل روح کبھی نہیں بدلتی۔ مئی 2025ءمیں جب ایک بار پھر خطے کی فضا¶ں میں کشیدگی پھیلی اور دشمن نے اپنی روایتی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے جس بصیرت، قوتِ ارادی اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا، اُس نے پوری قوم کو ایک بار پھر 1965ءکی یاد دلا دی۔ یہ محض ایک عسکری ردعمل نہ تھا بلکہ قومی خودداری کا ایک عظیم اظہار تھا۔ اس مرحلے پر ”معرکہ حق“ اور ”بنیانµ مرصوص“جیسی اصطلاحات قوم کی اجتماعی زبان بن گئیں۔ یہ الفاظ صرف عسکری کارروائیوں کے نام نہ تھے بلکہ اُس روح کی علامت تھے جو قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔
”معرکہ حق“ دراصل اُس اصولی م¶قف کی علامت بن کر ابھرا جس میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ معرکہ صرف سرحدوں پر نہ لڑا گیا بلکہ سفارتی محاذ، ذرائع ابلاغ، قومی بیانیے اور عوامی یکجہتی کے میدانوں میں بھی پوری قوت سے لڑا گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم اختلافات کے باوجود اپنے وطن کے دفاع کے معاملے میں کس طرح متحد ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔
اسی طرح ”بنیانµ مرصوص“ کی روح نے قوم کو قرآنِ حکیم کی اُس تعلیم کی یاد دلائی جس میں اہلِ ایمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار قرار دیا گیا ہے۔ اس تصور نے نوجوان نسل کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کی۔ سوشل میڈیا سے لے کر تعلیمی اداروں تک، ہر جگہ وطن سے محبت اور قومی وقار کے جذبے کی ایک نئی لہر محسوس کی گئی۔ نوجوانوں نے پہلی بار اپنے عہد میں یہ منظر دیکھا کہ کس طرح ایک قوم اپنے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے اور کس طرح افواج اور عوام ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔ یہ صرف جنگی حکمتِ عملی کی کامیابی نہ تھی بلکہ قومی نفسیات کی تجدید تھی۔
ان واقعات نے ہمیں یہ بھی یاد دلایا کہ قومیں صرف معیشت یا اسلحے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اُن کی اصل قوت اُن کے نظریے، اتحاد اور قربانی کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے شہداءکو یاد رکھتی ہے، اپنے محسنوں کی قربانیوں کا احترام کرتی ہے، اور نئی نسل کے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھتی ہے، تو اُسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید علوم ہی نہ دیں بلکہ اُنہیں اپنی تاریخ، اپنے شہدائ، اور اپنی قومی جدوجہد سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ پاکستان ہمیں کسی تحفے میں نہیں ملا بلکہ لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ آزادی ایک مسلسل ذمہ داری ہے، اور قومی وقار کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے۔ اگر نئی نسل کے دلوں میں یہ شعور زندہ رہا تو پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔
یہ وطن اُن شہداءکی امانت ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر مئی 2025ءکے معرکہ حق تک، قربانی اور استقامت کی ایک روشن زنجیر ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہی تسلسل ہماری اصل پہچان ہے۔ کل کے وہ بچے جو اسکولوں میں 1965ءکی داستانیں سن کر جذباتی ہو جاتے تھے، آج اپنے بچوں کو مئی 2025ءکے قومی عزم اور ”بنیانµ مرصوص“ کی مثالیں سنا رہے ہیں۔ یہی نسل در نسل منتقل ہونے والا جذبہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
جب تک اس سرزمین میں وطن سے محبت کرنے والے دل دھڑکتے رہیں گے، جب تک ما¶ں کی دعائیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ رہیں گی، جب تک نوجوانوں کی آنکھوں میں قومی وقار کے خواب زندہ رہیں گے، تب تک پاکستان نہ صرف قائم رہے گا بلکہ عزت، استقامت اور وقار کے ساتھ دنیا کے نقشے پر اپنی روشن پہچان برقرار رکھے گا۔

مزیدخبریں